اس بلاگ سے مقبول پوسٹس
یک طرفہ محبت
کہو یہ دل سے کہ اب عشق کا گماں نہ کرے جو راہ اس کی نہیں ہے، اُدھر کو رَواں نہ کرے یہ وصل و ہجر کی قصّے کتاب میں ہی سہی اس ایک شخص کو اب زندگی بیاں نہ کرے جہاں قبول کی صورت نہ ہو نصیبوں میں وہاں یہ درد بھلا کب تلک فغاں نہ کرے؟ یہ ایک طرفہ سفر ہے، جو تمام ہونا نہیں، تو اے دلِ ناداں! کسی کی یہاں پَرواہ نہ کرے! اٹھو مسعود کہ یہ دنیا بہت ہزار رنگیں ہے یہ روشنی ہے فقط اس کو اپنی جاں نہ کرے یک طرفہ محبت یہ غزل یک طرفہ محبت کے درد کو پہچان کر دل کو سمجھانے اور خود کو سنبھالنے کا پیغام دیتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اپنے دل کو مخاطب کر کے کہہ رہا ہے کہ اسے چاہیے کہ وہ ایسے عشق کے وہم میں نہ پڑے جس کی کوئی حقیقت نہیں، اور ایسی راہ پر چلنا چھوڑ دے جو اس کی منزل نہیں۔ غزل میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ محبوب سے ملاقات وصل یا جدائی ہجر کی باتیں صرف کتابوں میں ہی اچھی لگتی ہیں، اور اب اس ایک شخص کو اپنی پوری زندگی کا محور بنانا چھوڑ دینا چاہیے۔ جہاں تقدیر میں محبت کا قبول ہونا لکھا ہی نہ ہو، وہاں یہ درد کب تک آہ و فریاد فغاں کرتا رہے گا؟ شاعر دلِ ناداں کو نصیحت کرتا ہے کہ چونکہ یہ محبت ایک یک طرف...
دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا
دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا محمد مسعود نوٹنگھم یوکے دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا ہم نے چپ چاپ اسے خود سے بچھڑتے دیکھا تجھ کو سوچا تو ہر سوچ میں خوشبو اُتری تجھ کو لکھا تو ہر لفظ کو مہکتے دیکھا یاد آ جائے تو قابو نہیں رہتا دل پر ورنہ دنیا نے بھی ہم کو تڑپتے دیکھا تری صورت کو فقط آنکھ ہی نہ ترسی ہے راستوں کو بھی تیری یاد میں روتے دیکھا ہم محبت کے لیے آج بھی دیوانے ہیں مسعود یہ ایک الگ بات ہے کہ تو نے نہیں مُڑ کے دیکھا

سوال پیارے نبی ﷺ کی والدہ ماجدہ کا انتقال کس عُمر میں ہُوا ؟
جواب دیںحذف کریںحضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات :۔
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر شریف جب چھ برس کی ہو گئی تو آپ کی والدہ ماجدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ آپ کے دادا کے نانھیال بنو عدی بن نجار میں رشتہ داروں کی ملاقات یا اپنے شوہر کی قبر کی زیارت کے لئے تشریف لے گئیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے والد ماجد کی باندی امِ ایمن بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ تھیں وہاں سے واپسی پر “ابواء” نامی گاؤں میں حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات ہو گئی اور وہ وہیں مدفون ہوئیں۔
بوقت وفات حضرت آمنہ کی عمر تقریباً ۲۸ سال تھی اور وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے بعد چھ سال تین مہینے تک زندہ ہیں..
نوٹ
یہ میں نے کافی ریسرچ کے بعد لکھا ہے اِگر اِس میں کوئی غلطی ہے تو وہ میری نا سمجھی کی وجہ سے ہے
محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے