پتہ پھر کیا ہوا

پتہ پھر کیا ہوا 

وہ ملے اور داستان سننے کی ضد کی 

ہم ہنس ہنس کر اپنی داستان سناتے گئے 

اور اُنہوں نے رو رو کر اپنا بُرا حال کر لیا 


تبصرے