اشاعتیں

اگست, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

جانے والے کے نام

تصویر
جانے والے کے نام چلا گیا تو دل کی ہر خوشی بھی لے گیا وہ میرے خواب، میری زندگی بھی لے گیا بہت کہا تھا، دل توڑ کر نہ جانا تم وہ ہنس کے میری لبوں کی ہنسی بھی لے گیا گلی میں آج بھی تیرے قدموں کی صدا ہے ہوا کا جھونکا تیری خوشبو بھی لے گیا چراغ جلتے رہے تیری راہوں میں رات بھر سحر ہوئی تو جیسے روشنی بھی لے گیا وفا کا ذکر کیا تو وہ خفا سا ہو گیا جو بات کی تو میری خامشی بھی لے گیا یہ دل ابھی بھی منتظر ہے، لوٹ آئے شاید وہ جانے والا میری آخری آس بھی لے گیا چلو مسعودؔ، اب صبر کا دامن تھام لو وہ جس کو چاہا تھا، وہی بے بسی بھی دے گیا یہ غزل ایک ٹوٹے ہوئے دل کی فریاد ہے جو اپنے محبوب کے چلے جانے پر لکھی گئی ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ جانے والے کے ساتھ ہی اس کی ساری خوشیاں، خواب اور زندگی بھی چلی گئی ہے۔ اس میں اس لمحے کا درد بیان کیا گیا ہے جب محبوب کو روکا بھی گیا کہ دل نہ توڑو، مگر وہ ہنستے ہوئے چلا گیا اور ہنسی تک چھین لی۔ آج بھی اس کی گلی میں قدموں کی آہٹ محسوس ہوتی ہے اور ہوا کا ہر جھونکا اس کی کمی کا احساس دلاتا ہے۔ محمد مسعود رات بھر اس کی راہوں میں چراغ جلاتا رہا لیکن صبح ہوتے ہی و...

خود گرنے والے پتے

تصویر
خود گرنے والے پتے ہم نے اپنی زندگی سے کسی کو نہیں نکالا، جو پتے خراب تھے، وہ خود ہی گر گئے۔ ہم نے تو ہر رشتے کو محبت کی دھوپ دی، ہر تعلق کو خلوص کا پانی دیا، مگر کچھ شاخوں پر ٹھہرنے کے لیے پتے نہیں، وفا چاہیے ہوتی ہے۔ وقت گزرا تو حقیقت کھلتی گئی، کچھ چہرے موسموں کی طرح بدلتے گئے، کچھ رشتے بوجھ بن گئے، اور کچھ لوگ خاموشی سے دور ہوتے گئے۔ ہم نے کسی کو روکا نہیں، کسی کو بد دعا نہیں دی، بس اتنا سمجھ لیا کہ درخت کبھی اپنے پتوں کو نہیں گراتا، جب موسم بدلتا ہے تو جو پتے کمزور ہوں، وہ خود ہی شاخ چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم آج بھی اپنی جگہ قائم ہیں، نہ کسی کے جانے کا شکوہ ہے، نہ کسی کے لوٹ آنے کی خواہش۔ کیونکہ زندگی نے ایک بات بہت خوب سکھا دی ہے: ہر جانے والا نقصان نہیں ہوتا، کچھ لوگ صرف اس لیے جاتے ہیں تا کہ ہماری زندگی میں نئے موسم کے لیے جگہ بن سکے یہ نظم اس تلخ مگر پر سکون حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ زندگی سے ہم نے کسی کو زبردستی نہیں نکالا، بلکہ جو رشتے کمزور، مطلبی یا بے وفا تھے وہ خود ہی وقت کے ساتھ جھڑ گئے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ اس نے ہر تعلق کو محبت، خلوص اور وفا کی دھوپ اور پانی دیا، ل...