یاد آتے ہیں
یاد آتے ہیں
رات ڈھلتے ہی وہ لمحے بے حساب یاد آتے ہیں
چاندنی میں تیرے چہرے کے نقاب یاد آتے ہیں
دل کی ویرانی میں جب بھی کوئی دیا جلتا ہے
شہرِ غم میں تیرے کوچے بے حساب یاد آتے ہیں
بھولنے کی کوششیں کر کے بھی دیکھا ہے بہت
اور بھی شدت سے لیکن وہ عذاب یاد آتے ہیں
جب ہواؤں میں تری زلفوں کی خوشبو گھل گئی
پھر مہکتے وہی سارے گلاب یاد آتے ہیں
وقت نے چھین لیے ہم سے جو موسم ہنسی کے
آج تنہائی میں وہ سب شاداب یاد آتے ہیں
چپ کے صحرا میں صدا دیتا ہے کوئی روز و شب
مسعودؔ اب تو ہمیں اپنے ہی خواب یاد آتے ہیں
یہ غزل جدائی، یادوں، محبت اور تنہائی کے گہرے احساسات کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر اپنے محبوب کی یادوں میں اس قدر کھویا ہوا ہے کہ رات کی خاموشی، چاندنی، خوشبو، ہوائیں اور ماضی کے حسین موسم سب اسے محبوب کی یاد دلاتے ہیں۔ وہ محبوب کو بھلانے کی بہت کوشش کرتا ہے، مگر وقت گزرنے کے باوجود اس کی یادیں پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ دل پر دستک دیتی ہیں۔ محبوب کی زلفوں کی خوشبو، چہرے کا حسن اور گزرے ہوئے خوشگوار لمحے شاعر کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ وقت اگرچہ خوشیوں کے موسم چھین لیتا ہے، لیکن ان کی یادیں دل سے محو نہیں ہوتیں۔ غزل کے آخری شعر میں شاعر اپنے تخلص "مسعودؔ" کے ذریعے یہ اظہار کرتا ہے کہ تنہائی اور خاموشی میں اسے اپنے خواب بھی یاد آنے لگتے ہیں، جو دراصل اس کی ادھوری خواہشوں اور گمشدہ محبت کی علامت ہیں۔ مجموعی طور پر یہ غزل محبت کی پائیداری، جدائی کے کرب اور یادوں کی لازوال کیفیت کو نہایت دل نشیں انداز میں پیش کرتی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں