تنہائی کا جال

تنہائی کا جال


نہ جانے کتنے گھر بسائے اپنا گھر بسا نہ سکی
سب کی مانگ سجا دی لیکن اپنی مانگ سجا نہ سکی

ہر آنگن میں گونج اٹھیں خوشیوں کی پیاری شہنائیاں
اپنی ویران کوٹھری میں تنہائی سے جدا نہ سکی

جوڑے کتنے ملوا ڈالے کتنی دعائیں ساتھ ملیں
اپنی قسمت کے زخموں پر لیکن مرہم لگا نہ سکی

مہندی کی خوشبو بانٹتی رہی ہر دل میں امید جگاتی رہی
اپنے ہاتھوں کی قسمت میں کوئی رنگ رچا نہ سکی

ہر بابل کے آنگن میں اس نے پھول محبت کے بوئے
اپنے صحن کی سوکھی مٹی میں کوئی گل کھلا نہ سکی

کہتی تھی اک روز سسک کر بیٹا! اتنا بتلا دے
سب کے بگڑے کام سنوارے اپنی قسمت بنا نہ سکی

رشتوں کی دلال کہلائی دنیا بھر کی خوشیاں بانٹیں
اپنے دل کی ویرانی کو لیکن کبھی چھپا نہ سکی

کیسا انصاف ہے مولا تیرا یہ کیسی تقدیر لکھی
سب کے دیپ جلانے والی اپنا دیپ جلا نہ سکی

مسعودؔ اس کی آنکھوں میں صدیوں کا اک صحرا تھا
سب کو ہنستا دیکھ لیا خود ہنس کر دکھ بھلا نہ سکی

یہ غزل ایک ایسی عورت کی دردناک زندگی کی عکاسی کرتی ہے جو عمر بھر دوسروں کے رشتے جوڑتی رہی، گھر آباد کرتی اور خوشیاں بانٹتی رہی، مگر خود محبت، ازدواجی سکون اور اپنے گھر کی نعمت سے محروم رہی۔ وہ ہر شادی کی خوشیوں میں شریک ہوتی، لوگوں کی دعائیں سمیٹتی اور نئی زندگیوں کی بنیاد رکھتی، لیکن شام ڈھلتے ہی اپنی تنہائی اور اداسی کا سامنا کرتی۔ دوسروں کی مانگ سجانے والی اپنی مانگ نہ سجا سکی اور ہر بابل کے آنگن میں خوشیوں کے پھول کھلانے کے باوجود اس کا اپنا آنگن ویران رہا۔ غزل میں قسمت کی بے وفائی، محرومی، تنہائی اور معاشرتی تضاد کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ محمد مسعود نے اس کردار کے ذریعے یہ سوال اٹھایا ہے کہ جو شخص دوسروں کی خوشیوں کا ذریعہ بنتا ہے، وہ خود خوشیوں سے کیوں محروم رہ جاتا ہے۔ یہی احساسِ محرومی اور تقدیر کا المیہ اس غزل کا مرکزی موضوع ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

یک طرفہ محبت

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا