جدائی کا قصور

جدائی کا قصور

وہ مجھے تنہائی کے سپرد چھوڑ گیا
میرے سارے خواب بکھیر کر چھوڑ گیا

پہلے کہتا تھا کہ تو ہی میری دنیا ہے
پھر وہی دنیا اجاڑ کر چھوڑ گیا

ہاتھ تھاما تھا جس نے عمر بھر کے لیے
وہ بیچِ راہ میں ہی ہاتھ چھوڑ گیا

ہم نے دل میں بسایا تھا اسے خدا کی طرح
وہ شخص بت کی طرح دل توڑ کر چھوڑ گیا

رات بھر جلتے رہے اس کی یاد کے چراغ
وہ صبح ہوتے ہی سبھی بجھا کر چھوڑ گیا

لوگ کہتے ہیں محبت میں سکون ملتا ہے
وہ مجھے ہجر کا طوفان دے کر چھوڑ گیا

اے مسعود! اب کس سے کریں شکوہ اس کا
وہ ہمیں زندہ لاش بنا کر چھوڑ گیا


یہ غزل ایک ٹوٹے ہوئے دل کی داستان ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ اس کا محبوب اسے تنہائی کے حوالے کر کے اور اس کے سارے خواب بکھیر کر چلا گیا ہے۔ وہ شخص جو کبھی اسے اپنی پوری دنیا کہتا تھا، آج وہی دنیا اجاڑ کر چھوڑ گیا۔ جس نے عمر بھر ساتھ نبھانے کے لیے ہاتھ تھاما تھا، اس نے بیچ راستے میں ہی ساتھ چھوڑ دیا۔ محمد مسعود نے اسے خدا کی طرح دل میں بسایا تھا مگر اس نے بت کی طرح بے رحمی سے دل توڑ دیا۔
محمد مسعود کی راتیں اس کی یاد میں جلتے چراغوں کی طرح گزرتی ہیں جنہیں محبوب صبح ہوتے ہی بجھا دیتا ہے۔ دنیا کہتی ہے محبت سکون دیتی ہے، لیکن اس محمد مسعود کو محبت نے ہجر کا طوفان دیا ہے۔ آخر میں وہ اپنے تخلص مسعود کا استعمال کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اب کس سے شکوہ کرے، کیونکہ وہ شخص اسے جیتے جی زندہ لاش بنا کر چھوڑ گیا ہے۔




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

شک

یک طرفہ محبت