خود گرنے والے پتے
خود گرنے والے پتے
ہم نے اپنی زندگی سے کسی کو نہیں نکالا،
جو پتے خراب تھے، وہ خود ہی گر گئے۔
ہم نے تو ہر رشتے کو محبت کی دھوپ دی،
ہر تعلق کو خلوص کا پانی دیا،
مگر کچھ شاخوں پر ٹھہرنے کے لیے
پتے نہیں، وفا چاہیے ہوتی ہے۔
وقت گزرا تو حقیقت کھلتی گئی،
کچھ چہرے موسموں کی طرح بدلتے گئے،
کچھ رشتے بوجھ بن گئے،
اور کچھ لوگ خاموشی سے دور ہوتے گئے۔
ہم نے کسی کو روکا نہیں،
کسی کو بد دعا نہیں دی،
بس اتنا سمجھ لیا کہ
درخت کبھی اپنے پتوں کو نہیں گراتا،
جب موسم بدلتا ہے تو
جو پتے کمزور ہوں،
وہ خود ہی شاخ چھوڑ دیتے ہیں۔
ہم آج بھی اپنی جگہ قائم ہیں،
نہ کسی کے جانے کا شکوہ ہے،
نہ کسی کے لوٹ آنے کی خواہش۔
کیونکہ زندگی نے ایک بات بہت خوب سکھا دی ہے:
ہر جانے والا نقصان نہیں ہوتا،
کچھ لوگ صرف اس لیے جاتے ہیں
تا کہ ہماری زندگی میں
نئے موسم کے لیے جگہ بن سکے
یہ نظم اس تلخ مگر پر سکون حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ زندگی سے ہم نے کسی کو زبردستی نہیں نکالا، بلکہ جو رشتے کمزور، مطلبی یا بے وفا تھے وہ خود ہی وقت کے ساتھ جھڑ گئے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ اس نے ہر تعلق کو محبت، خلوص اور وفا کی دھوپ اور پانی دیا، لیکن ٹھہرنے کے لیے صرف اچھے لفظ کافی نہیں، وفاداری چاہیے۔
وقت کے ساتھ چہرے بے نقاب ہوئے، کچھ لوگ موسموں کی طرح بدل گئے اور کچھ خاموشی سے دور ہو گئے۔ محمد مسعود نے نہ کسی کو روکا، نہ بد دعا دی، بلکہ یہ سمجھ لیا کہ درخت خود پتے نہیں گراتا، کمزور پتے خود شاخ چھوڑ دیتے ہیں۔
آج وہ شکوہ اور انتظار سے آزاد ہے اور اس یقین پر قائم ہے کہ ہر جدائی نقصان نہیں، بعض اوقات کچھ لوگوں کا جانا ہی نئے، بہتر اور روشن موسم کی آمد کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں