جانے والے کے نام
جانے والے کے نام
چلا گیا تو دل کی ہر خوشی بھی لے گیا
وہ میرے خواب، میری زندگی بھی لے گیا
بہت کہا تھا، دل توڑ کر نہ جانا تم
وہ ہنس کے میری لبوں کی ہنسی بھی لے گیا
گلی میں آج بھی تیرے قدموں کی صدا ہے
ہوا کا جھونکا تیری خوشبو بھی لے گیا
چراغ جلتے رہے تیری راہوں میں رات بھر
سحر ہوئی تو جیسے روشنی بھی لے گیا
وفا کا ذکر کیا تو وہ خفا سا ہو گیا
جو بات کی تو میری خامشی بھی لے گیا
یہ دل ابھی بھی منتظر ہے، لوٹ آئے شاید
وہ جانے والا میری آخری آس بھی لے گیا
چلو مسعودؔ، اب صبر کا دامن تھام لو
وہ جس کو چاہا تھا، وہی بے بسی بھی دے گیا
یہ غزل ایک ٹوٹے ہوئے دل کی فریاد ہے جو اپنے محبوب کے چلے جانے پر لکھی گئی ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ جانے والے کے ساتھ ہی اس کی ساری خوشیاں، خواب اور زندگی بھی چلی گئی ہے۔
اس میں اس لمحے کا درد بیان کیا گیا ہے جب محبوب کو روکا بھی گیا کہ دل نہ توڑو، مگر وہ ہنستے ہوئے چلا گیا اور ہنسی تک چھین لی۔ آج بھی اس کی گلی میں قدموں کی آہٹ محسوس ہوتی ہے اور ہوا کا ہر جھونکا اس کی کمی کا احساس دلاتا ہے۔
محمد مسعود رات بھر اس کی راہوں میں چراغ جلاتا رہا لیکن صبح ہوتے ہی وہ روشنی بھی بجھ گئی۔ جب وفا کی بات کی تو محبوب خفا ہو گیا اور اپنی بے وفائی پر بھی پردہ نہ اٹھانے دیا۔
آخری شعر میں تخلص مسعودؔ کے ساتھ محمد مسعود خود کو صبر کی تلقین کرتا ہے کہ جسے سب سے زیادہ چاہا تھا وہی اسے بے بسی اور تنہائی دے گیا ہے۔ یہ غزل ہجر، انتظار اور ادھوری محبت کی مکمل تصویر ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں