فریبِ بندگی

فریبِ بندگی

​تمہاری یاد کی وہ پرانی سی ایک ایک بات رُلا دیتی ہے
​ہمیں تو تنہائی میں اب گزری ہوئی ہر رات رُلا دیتی ہے

​بڑے ہی حوصلے سے جیتے ہیں ہم اس جہاں کے اندر
​مگر کبھی اپنوں کی دی ہوئی وہ ایک مات رُلا دیتی ہے

​خوشی کے رنگ میں بھی چھپا ہوتا ہے ایک گہرا غم
​کبھی کبھی تو ہمیں خوشیوں کی یہ برسات رُلا دیتی ہے

​سنا ہے پتھروں کے سینے میں بھی تو ایک دل ہوتا ہے
​مگر ہمیں تو انسانوں کی لکھی ہوئی اوقات رُلا دیتی ہے

​بہت ہی ضبط سے جیتا ہے زمانے میں یہ مسعود لیکن
​اسے تو مخلص لوگوں کی بس چھوٹی سی بات رُلا دیتی ہے




یہ نظم "فریبِ بندگی" انسانی احساسات، تنہائی، دکھ اور باطنی کرب کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود ماضی کی یادوں کو ایسا بوجھ قرار دیتا ہے جو ہر لمحہ آنکھیں نم کر دیتا ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ بظاہر مضبوط حوصلے کے ساتھ زندگی گزارنے کے باوجود اپنوں کی دی ہوئی شکست اور بے رخی دل کو گہرے زخم دیتی ہے۔ خوشیوں کی چمک میں بھی ایک پوشیدہ غم موجود ہے جو کبھی کبھی شدت سے محسوس ہوتا ہے۔ شاعر محمد مسعود انسانی رویّوں کی سنگدلی پر افسوس کرتا ہے اور کہتا ہے کہ پتھروں میں بھی دل ہو سکتا ہے، مگر انسانوں کے طعنے اور حد بندیاں زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہیں۔ آخری شعر میں "مسعود" کا ذکر خود کلامی کی صورت میں ہے، جہاں وہ اپنے ضبط اور برداشت کا اعتراف کرتا ہے، لیکن یہ بھی مانتا ہے کہ مخلص لوگوں کی معمولی سی بات بھی اس کے دل کو رُلا دیتی ہے۔ یہ نظم جذبات کی سچائی اور باطنی کمزوری کو خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

جمعہ مبارک