تمہاری یاد کا موسم

تمہاری یاد کا موسم  

تمہاری یاد کا موسم، مہک کر رہ گیا دل میں  
کوئی خوشبو کا جھونکا تھا، ٹھہر کر رہ گیا دل میں  

چراغِ آرزو جلتا رہا تنہائی کی شب میں  
تمہارا عکس تھا جو رات بھر، جل کر رہ گیا دل میں  

محبت کا قرینہ بھی عجب سادہ تھا ہم دونوں کا  
نہ شکوہ لب پہ آیا، نہ گلہ کر رہ گیا دل میں  

ہر اک موجِ ہوا نے نام تیرا گنگنایا ہے  
صدا تیری ہی گونجی، ہر پہر کر رہ گیا دل میں  

میں مسعودؔ اب کس سے کہوں، قصہ ادھورا ہے  
وہ حرفِ آخری جو ان کہہ کر رہ گیا دل میں  


یہ نظم محبت، یاد اور جدائی کے جذبات کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود کے مطابق محبوب کی یاد ایک ایسے موسم کی طرح ہے جو دل میں ہمیشہ کے لیے بسی ہوئی ہے اور اس کی خوشبو وقت گزرنے کے باوجود مدھم نہیں ہوتی۔ تنہائی کی راتوں میں آرزو کا چراغ جلتا رہتا ہے اور محبوب کا عکس دل کے اندر موجود رہ کر زندگی کو روشن بھی کرتا ہے اور اداس بھی۔ محبت کا انداز سادہ اور خاموش ہے، جس میں نہ کوئی شکوہ ہے نہ کوئی شکایت، صرف دل میں چھپی ہوئی کیفیت ہے۔ ہر ہوا کا جھونکا محبوب کا نام لے کر گزر جاتا ہے اور یوں ہر لمحہ اس کی یاد سے بھرا رہتا ہے۔ شاعر اپنی ادھوری داستان کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ایک آخری لفظ یا احساس دل میں رہ گیا جو کبھی بیان نہ ہو سکا۔ یہ نظم خاموش محبت، گہری یاد اور ادھورے پن کی خوبصورت تصویر پیش کرتی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

یک طرفہ محبت