خاموش درد

خاموش درد

دل کی دیواروں پہ ایک نقش سا رہتا ہے
کوئی لمحہ ہے جو آنکھوں میں بہتا رہتا ہے

میں ہنسا بھی تو ادھورا سا لگا اپنے آپ کو
میرے اندر کوئی چپ چاپ سا روتا رہتا ہے

تیری یادوں کے چراغوں سے ہے روشن یہ سفر
ورنہ ہر راستہ تنہائی میں کھویا رہتا ہے

میں نے لفظوں میں چھپایا ہے بہت سا درد اپنا
ہر شعر میرے اندر سے ٹوٹا رہتا ہے

لوگ کہتے ہیں زمانہ بڑا خوش ہے مسعود
پر میرے دل میں ایک طوفان سا اٹھتا رہتا ہے




یہ نظم 'خاموش درد' ایک ایسے دل کی کیفیت بیان کرتی ہے جس میں بظاہر سکون اور مسکراہٹ ہے مگر اندر ایک مسلسل بے چینی اور اداسی موجود ہے۔ شاعر محمد مسعود اپنے دل کی دیواروں پر یادوں کے نقش اور لمحوں کے بہاؤ کو محسوس کرتا ہے جو آنکھوں سے اشک بن کر بہتے رہتے ہیں۔ ہنسی کے باوجود ایک ادھورا پن اور اندرونی کرب اس کی شخصیت کا حصہ ہے۔ محبوب کی یادیں اس کی زندگی کے سفر کو روشنی دیتی ہیں مگر وہی یادیں تنہائی کو مزید گہرا بھی کرتی ہیں۔ شاعر محمد مسعود نے اپنے درد کو لفظوں میں چھپایا ہے لیکن ہر شعر میں اس کا ٹوٹا ہوا وجود جھلکتا ہے۔ معاشرے کی خوشی کے دعووں کے باوجود اس کے دل میں طوفان برپا رہتا ہے۔ یہ نظم اندرونی تضاد، یاد، تنہائی اور خاموش تکلیف کی خوبصورت ترجمانی ہے اور قاری کو گہری سوچ میں مبتلا کرتی ہے بھی


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں