خاموش نیل کے کنارے

خاموش نیل کے کنارے


نیل کے پانی میں ایک عکس ڈوبا ہوا تھا
جیسے کوئی خواب زمانے سے روٹھا ہوا تھا

ریت کے ذرّوں میں کہانیاں سو رہی تھیں
ہر ایک سانس میں درد بھی گھولا ہوا تھا

قاہرہ کی راتیں بھی عجیب لگتی تھیں
چاند بھی تنہائی میں جیسے کھویا ہوا تھا

ایک چہرہ تھا جو دل سے نہیں جاتا تھا
وہی چہرہ ہر ایک آنسو میں سمویا ہوا تھا

میں نے چاہا کہ بھلا دوں اسے وقت کے ساتھ
پر یہ دل تھا کہ اسی غم میں پرویا ہوا تھا

کوئی آواز بھی دیتی نہ تھی اب مجھ کو
ہر طرف سناٹا ہی سناٹا بس بویا ہوا تھا

مسعود یہ محبت بھی قیامت نکلی
جو بھی پایا تھا سب کچھ ہی کھویا ہوا تھا 

یہ نظم ایک ایسے دل کی کہانی بیان کرتی ہے جو محبت کے درد اور جدائی کی کیفیت میں ڈوبا ہوا ہے۔ شاعر محمد مسعود نیل کے خاموش کنارے کو اپنے اندر کی ویرانی اور تنہائی کی علامت بناتا ہے، جہاں پانی میں ڈوبا ہوا عکس ایک ٹوٹے ہوئے خواب کی نمائندگی کرتا ہے۔ ریت کے ذروں میں سوئی کہانیاں ماضی کی یادوں کو ظاہر کرتی ہیں، جبکہ ہر سانس میں گھلا ہوا درد اس کرب کی شدت کو بیان کرتا ہے جو شاعر مسعود محسوس کر رہا ہے۔ قاہرہ کی راتیں بھی اس کے لیے اجنبی اور اداس ہو چکی ہیں، حتیٰ کہ چاند بھی تنہا دکھائی دیتا ہے۔ ایک ایسا چہرہ جو دل سے محو نہیں ہوتا، ہر آنسو میں جھلکتا رہتا ہے، شاعر محمد مسعود کی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ وقت کے ساتھ بھلانے کی کوشش کرتا ہے مگر ناکام رہتا ہے۔ آخرکار، ہر طرف پھیلا سناٹا اس کے اندر کی خاموش چیخ کو ظاہر کرتا ہے، اور وہ مان لیتا ہے کہ محبت نے اسے سب کچھ کھو دینے پر مجبور کر دیا۔ 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

یک طرفہ محبت