تنہائی کا سفر

تنہائی کا سفر

دل کے زخموں پہ کوئی مرہم نہیں ہوتا  
درد جب حد سے بڑھے تو مدھم نہیں ہوتا

رات بھر جاگ کے تکتا ہوں اندھیروں کو  
اب تیرے بعد کوئی موسم نہیں ہوتا

لوگ کہتے ہیں کہ صبر آ جائے گا ایک دن  
زخمِ فرقت کا مگر مرہم نہیں ہوتا

ہنس کے ملتے ہیں سب اپنے، پر خبر کیا ہے  
ہر مسکراتے چہرے پہ غم نہیں ہوتا

چاہا تھا جس کو عمر بھر کی راحت سمجھ کر  
وہ بھی نکلا خواب، وہ صنم نہیں ہوتا

ٹوٹے ہوئے دل سے دعا نکلی تو یہ نکلی  
کوئی کسی سے یوں بچھڑ کے ختم نہیں ہوتا

اشک پی لیتا ہوں چپکے سے میں مسعودؔ  
درد سرِ محفل یوں رقم نہیں ہوتا



یہ غزل جدائی اور اندرونی درد کی شدت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود کہتا ہے کہ دل کے گہرے زخموں کا کوئی علاج نہیں، جب تکلیف حد سے بڑھ جائے تو وہ کم بھی نہیں ہوتی۔ محبوب کے جانے کے بعد زندگی بے رنگ ہو گئی ہے، راتیں اندھیروں کو تکتے گزرتی ہیں اور کوئی موسم دل کو نہیں بھاتا۔ 
لوگ تسلی دیتے ہیں کہ وقت کے ساتھ صبر آ جائے گا، لیکن فراق کا دکھ ایسا ہے جس کا کوئی مرہم کارگر نہیں۔ دنیا کے سامنے مسکرانا مجبوری ہے، مگر ہر ہنستے چہرے کے پیچھے غم چھپا ہوتا ہے۔ جس شخص کو عمر بھر کا سہارا سمجھا تھا، وہ بھی محض ایک خواب نکلا۔ 
ٹوٹے دل سے نکلنے والی دعا یہی ہے کہ کوئی بھی محبت میں اس طرح نہ بچھڑے کہ خود ختم ہو جائے۔ شاعر مسعودؔ اپنے آنسو خاموشی سے پی جاتا ہے، کیونکہ درد کو محفل میں بیان نہیں کیا جاتا۔ یہ غزل تنہائی، بے وفائی اور ضبط کے کرب کو سادہ مگر گہرے لفظوں میں سمو دیتی ہے، جہاں ہر شعر ہجر کی ایک نئی تصویر بناتا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

یک طرفہ محبت