اشاعتیں

اکتوبر, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

دینے والی ذات تو صرف رب کی ہے

تصویر
دینے والی ذات تو صرف رب کی ہے سندھ سے کشمیر تک عقیدت کے نام پر غلامی کی داستان تحریر: محمد مسعود نونٹگھم برطانیہ  یہ صرف سندھ کی کہانی نہیں، یہ میرے پورے پاکستان کی کہانی ہے، میرے دل کی کہانی ہے۔ یہ سندھ کے کسی ویران گوٹھ میں بیٹھی ہوئی اس ماں کی بھی کہانی ہے جس کے پاؤں میں دو پٹیوں والی سستی چپل تک نہیں، اور یہ لاہور کی بادشاہی مسجد کے سامنے بیٹھے اس پڑھے لکھے نوجوان کی بھی کہانی ہے جو ڈگری ہاتھ میں لے کر بھی ایک جعلی پیر کے سامنے جھکا ہوا ہے۔ یہ فیصل آباد کے اس مل مالک کی بھی کہانی ہے جو اپنی فیکٹری کا بونس پیر کو دے آتا ہے، اور یہ ملتان، ساہیوال، بہاولپور کے ان سادہ لوح کسانوں کی بھی کہانی ہے جو اپنی فصل کا پہلا حصہ گدی نشین کی نذر کر دیتے ہیں۔ یہ کوئٹہ، خضدار اور تربت کے ان بلوچ بھائیوں کی بھی کہانی ہے جو سردار اور پیر کے ایک ہی روپ سے ڈرے ہوئے ہیں، یہ پشاور اور سوات کے ان پختونوں کی بھی کہانی ہے جو تعویذ کو دوا سے زیادہ سچا سمجھتے ہیں، اور یہ میرے آزاد کشمیر کے مظفرآباد اور میرپور کے ان غیور لوگوں کی بھی کہانی ہے جو آج بھی درباروں پر جا کر اپنی قسمت کے فیصلے لوہے کی جالیوں سے ...

ایک ادھوری کہانی

تصویر
ایک ادھوری کہانی کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں بس ادھوری رہ جاتی ہیں۔ تحریر: محمد مسعود، نوٹنگھم، برطانیہ قسط اوّل جانے کس کس کی بد دعا کام آ گئی، کس کی نظر نے راستہ بدل دیا، یا شاید قسمت کے کاغذ پر ہمارا ساتھ اتنا ہی لکھا تھا۔ میں آج بھی اس سوال کا جواب تلاش کرتا ہوں کہ ہمارے درمیان آخر ایسی کون سی دیوار آ گئی تھی جسے ہم محبت کی تمام تر طاقت کے باوجود گرا نہ سکے۔ کبھی سوچتا ہوں دیوار حالات کی تھی، کبھی وقت کو قصور وار ٹھہراتا ہوں اور کبھی اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ شاید ہم دونوں میں سے کسی ایک نے اس رشتے کو اتنی مضبوطی سے تھاما ہی نہیں تھا جتنی مضبوطی سے دوسرے نے تھام رکھا تھا۔ جو بھی تھا، انجام یہی ہوا کہ ہوتے ہوتے وہ شخص مجھ سے بچھڑ گیا جس کے بارے میں کبھی یہ گمان تک نہ تھا کہ ایک دن اس کے بغیر بھی زندگی گزارنی پڑے گی۔ عجیب ہے یہ زندگی بھی۔ جن لوگوں کے بغیر ہم ایک لمحہ گزارنے کا تصور نہیں کر سکتے، وقت ہمیں انہی کے بغیر برسوں گزارنا سکھا دیتا ہے۔ سانس چلتی رہتی ہے، صبح ہوتی رہتی ہے، شام ڈھلتی رہتی ہے، دنیا اپنے معمول پر چلتی رہتی ہے، مگر انسان کے اندر کہیں ایک گھڑی ایسی بھی ہوتی ہے جو اسی...