ایک ادھوری کہانی

ایک ادھوری کہانی

کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں بس ادھوری رہ جاتی ہیں۔

تحریر: محمد مسعود، نوٹنگھم، برطانیہ

قسط اوّل

جانے کس کس کی بد دعا کام آ گئی، کس کی نظر نے راستہ بدل دیا، یا شاید قسمت کے کاغذ پر ہمارا ساتھ اتنا ہی لکھا تھا۔ میں آج بھی اس سوال کا جواب تلاش کرتا ہوں کہ ہمارے درمیان آخر ایسی کون سی دیوار آ گئی تھی جسے ہم محبت کی تمام تر طاقت کے باوجود گرا نہ سکے۔ کبھی سوچتا ہوں دیوار حالات کی تھی، کبھی وقت کو قصور وار ٹھہراتا ہوں اور کبھی اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ شاید ہم دونوں میں سے کسی ایک نے اس رشتے کو اتنی مضبوطی سے تھاما ہی نہیں تھا جتنی مضبوطی سے دوسرے نے تھام رکھا تھا۔

جو بھی تھا، انجام یہی ہوا کہ ہوتے ہوتے وہ شخص مجھ سے بچھڑ گیا جس کے بارے میں کبھی یہ گمان تک نہ تھا کہ ایک دن اس کے بغیر بھی زندگی گزارنی پڑے گی۔

عجیب ہے یہ زندگی بھی۔ جن لوگوں کے بغیر ہم ایک لمحہ گزارنے کا تصور نہیں کر سکتے، وقت ہمیں انہی کے بغیر برسوں گزارنا سکھا دیتا ہے۔ سانس چلتی رہتی ہے، صبح ہوتی رہتی ہے، شام ڈھلتی رہتی ہے، دنیا اپنے معمول پر چلتی رہتی ہے، مگر انسان کے اندر کہیں ایک گھڑی ایسی بھی ہوتی ہے جو اسی لمحے پر رک جاتی ہے جہاں کوئی اپنا ہاتھ چھڑا کر چلا گیا تھا۔

میں نے بھی وقت کے ساتھ بہت کچھ سیکھا۔

سب سے بڑا ہنر شاید یہ سیکھا کہ درد کو مسکرا کر کیسے سہنا ہے۔

یہ فن مجھے کسی کتاب نے نہیں سکھایا، نہ کسی استاد نے۔ اسے سکھانے والے وہ حالات تھے جن میں دل اندر سے رو رہا ہوتا تھا مگر چہرے پر مسکراہٹ رکھنا ضروری ہوتا تھا۔ رفتہ رفتہ میں نے جان لیا کہ دنیا کو یقین دلانا بہت آسان ہے کہ آپ خوش ہیں۔ بس ہنس کر ملیں، دو چار اچھی باتیں کریں، کسی محفل میں بیٹھ کر قہقہہ لگا دیں اور لوگ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اس شخص کی زندگی میں کوئی غم نہیں۔

انہیں کون بتائے کہ بعض قہقہوں کے پیچھے سسکیاں چھپی ہوتی ہیں۔

بعض مسکراہٹیں خوشی کا اظہار نہیں بلکہ درد پر ڈالا ہوا پردہ ہوتی ہیں۔

اور بعض لوگ مضبوط اس لیے نظر نہیں آتے کہ انہیں تکلیف نہیں ہوتی، بلکہ اس لیے کہ ان کے پاس ٹوٹنے کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہوتی۔

لوگ مجھے بھی مضبوط سمجھتے رہے۔ شاید آج بھی سمجھتے ہیں۔ مگر انہیں کیا معلوم کہ کتنی راتیں ایسی گزریں جب نیند آنکھوں سے روٹھی رہی۔ کتنی باتیں دل میں آئیں مگر کسی سے کہی نہ جا سکیں۔ کتنی مرتبہ ایک نام ذہن میں آیا اور میں نے فوراً کسی دوسرے خیال میں خود کو الجھا لیا۔

انسان دنیا سے بہت کچھ چھپا لیتا ہے، اپنے آپ سے نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ زندگی سے نکل جانے کے باوجود یادوں سے نہیں نکلتے۔

آپ ان کی تصویریں دیکھنا چھوڑ سکتے ہیں، ان کا ذکر کرنا چھوڑ سکتے ہیں، ان راستوں سے گزرنا چھوڑ سکتے ہیں جو ان کی یاد دلاتے ہوں، مگر دل کے اندر محفوظ یادوں پر انسان کا اختیار کہاں ہوتا ہے؟

کبھی کوئی جملہ ان کی یاد دلا دیتا ہے۔

کبھی کوئی خوشبو۔

کبھی کوئی موسم۔

کبھی کسی اجنبی کا لہجہ۔

اور کبھی بغیر کسی وجہ کے اچانک وہ شخص دل و دماغ میں اس طرح آ بیٹھتا ہے جیسے گیا ہی نہ ہو۔

میں نے بھی کئی مرتبہ چاہا کہ اسے اپنی سوچ سے نکال دوں۔ دل سے کھرچ کر پھینک دوں۔ جو کچھ بیت گیا اسے ماضی سمجھ کر دفن کر دوں۔

مگر کچھ یادیں دفن کرنے سے بھی نہیں مرتیں۔

وہ خاموش ہو جاتی ہیں اور پھر کسی تنہا لمحے میں اچانک جاگ اٹھتی ہیں۔

اس کی ہنسی یاد آتی ہے تو ساتھ وہ وقت بھی یاد آ جاتا ہے جب میں نے سوچا تھا کہ یہ ہنسی ہمیشہ میری زندگی کا حصہ رہے گی۔ اس کا روٹھنا یاد آتا ہے تو وہ منانا بھی یاد آ جاتا ہے جس میں کبھی تھکن محسوس نہیں ہوتی تھی۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں، جن کی اس وقت کوئی خاص اہمیت محسوس نہیں ہوتی تھی، آج یادوں کے خزانے کی سب سے قیمتی چیزیں بن چکی ہیں۔

شاید انسان کی فطرت ہی ایسی ہے۔

جو پاس ہو، اس کی موجودگی معمول لگتی ہے۔

جو چلا جائے، اسی کی چھوٹی چھوٹی باتیں غیر معمولی ہو جاتی ہیں۔

اور پھر دل عجیب کشمکش میں مبتلا رہتا ہے۔

کبھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ شخص آج بھی میری روح کے کسی حصے میں موجود ہے۔ کبھی لگتا ہے جیسے اس تعلق کا کوئی نہ کوئی سرا آج بھی باقی ہے۔ اور اگلے ہی لمحے حقیقت سامنے کھڑی ہو کر یاد دلاتی ہے کہ جو گزر گیا، وہ گزر گیا۔

یہی حقیقت سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے۔

آپ کے لیے جو شخص آج بھی ایک مکمل احساس ہو، ممکن ہے اس کے لیے آپ صرف ایک پرانی یاد ہوں۔

جس کا خیال آپ کی نیند چھین لے، ممکن ہے اسے آپ کا خیال مہینوں نہ آیا ہو۔

جس کی ایک پرانی بات آپ کے دل میں طوفان اٹھا دے، ممکن ہے وہ اپنی نئی زندگی میں بہت آگے نکل چکا ہو۔

محبت میں شاید بچھڑنا اتنا تکلیف دہ نہیں جتنا یہ احساس کہ دو لوگوں کے لیے ایک ہی تعلق کی اہمیت الگ الگ ہو سکتی ہے۔

ایک اسے ماضی کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔

دوسرا اسی ماضی کو سینے سے لگائے پھرتا ہے۔

تب میں سوچتا ہوں کہ لوگ آخر کیسے بدل جاتے ہیں؟

جو کل تک کسی کی خاموشی برداشت نہیں کر پاتے تھے، آج اس کی مکمل غیر موجودگی کے عادی کیسے ہو جاتے ہیں؟

جو کبھی کہتے تھے کہ تمہارے بغیر زندگی کا تصور نہیں، وہی ایک دن آپ کے بغیر زندگی کے نئے خواب کیسے دیکھ لیتے ہیں؟

شاید لوگ نہیں بدلتے، ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔

شاید محبت ختم نہیں ہوتی، اس کی جگہ بدل جاتی ہے۔

یا شاید بعض اوقات جسے ہم محبت سمجھ رہے ہوتے ہیں، دوسرے شخص کے لیے وہ صرف زندگی کا ایک خوبصورت وقت ہوتا ہے۔

ہم جیسے لوگ پھر غلطی یہ کرتے ہیں کہ چند خوبصورت لمحوں کو پوری زندگی کا وعدہ سمجھ لیتے ہیں۔

میں کسی کو قصور وار ٹھہرانا بھی چاہوں تو دل اجازت نہیں دیتا۔

محبت عجیب چیز ہے۔ جس سے شکایت سب سے زیادہ ہوتی ہے، اکثر اسی کے لیے دل سب سے زیادہ نرم بھی رہتا ہے۔ زبان ہزار شکوے کرتی ہے مگر دل کسی ایک شکوے کے بعد خاموشی سے کہتا ہے:

چھوڑو، شاید اس کی بھی کوئی مجبوری رہی ہوگی۔

پھر کبھی غصہ آتا ہے کہ اگر مجبوری تھی تو بتائی کیوں نہیں؟

اگر جانا تھا تو اتنا قریب آئے کیوں؟

اگر ساتھ نہیں چلنا تھا تو راستے دکھائے کیوں؟

اگر منزل کسی اور کے ساتھ طے تھی تو میرے ساتھ خواب کیوں دیکھے؟

یہ وہ سوال ہیں جن کے جواب شاید کبھی نہیں ملتے۔

اور سچ تو یہ ہے کہ ہر جواب ملنا ضروری بھی نہیں۔

بعض اوقات جواب انسان کو سکون نہیں دیتے، ایک نیا سوال دے جاتے ہیں۔

محبت میں سب سے بڑا ظلم شاید خاموشی ہے۔

انسان صاف کہہ دے کہ اب راستے الگ ہیں تو دل ٹوٹتا ضرور ہے، مگر حقیقت قبول کرنے کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن جب کوئی بغیر مکمل بات کیے، بغیر آخری لفظ کہے، بغیر یہ بتائے کہ قصور کہاں تھا، خاموشی سے دور ہو جائے تو انسان برسوں اپنے اندر عدالت لگائے رکھتا ہے۔

کبھی خود کو مجرم بناتا ہے۔

کبھی اسے۔

کبھی حالات کو۔

اور کبھی قسمت کو۔

مجھے بھی آج تک وہ آخری وقت یاد ہے۔

اس کا جانا تو شاید وقت کے ساتھ قبول ہو جاتا، مگر جاتے ہوئے اس کا پلٹ کر نہ دیکھنا دل نے کبھی پوری طرح قبول نہیں کیا۔

اس نے خدا حافظ نہیں کہا۔

صرف چلا گیا۔

کتنے معمولی سے دو لفظ ہیں:

خدا حافظ

مگر بعض اوقات یہی دو لفظ ایک تعلق کو باعزت اختتام دے دیتے ہیں۔

اگر وہ کہہ دیتا تو شاید میں سمجھ لیتا کہ بس، یہاں تک ہمارا ساتھ تھا۔ شاید دل مان لیتا کہ جس سفر کی ابتدا ہم نے ایک ساتھ کی تھی، اس کی منزلیں اب الگ ہیں۔

مگر وہ لفظ نہ کہا گیا۔

اور کچھ نہ کہے گئے الفاظ، کہے گئے ہزاروں جملوں سے زیادہ دیر تک انسان کا پیچھا کرتے ہیں۔

اسی لیے شاید دل کے کسی کونے میں آج بھی ایک نامکمل پن موجود ہے۔

ایک سوال۔

ایک انتظار۔

ایک ایسا دروازہ جسے عقل برسوں پہلے بند کر چکی ہے مگر دل کبھی کبھی آج بھی اس کی طرف دیکھ لیتا ہے۔

مجھے معلوم ہے کہ وقت واپس نہیں آتا۔

لوگ بھی ہمیشہ واپس نہیں آتے۔

مگر انتظار ہمیشہ کسی شخص کے لوٹ آنے کا نام نہیں ہوتا۔

بعض اوقات انسان صرف اس لمحے کا انتظار کرتا ہے جب کسی کی یاد آئے اور دل نہ دکھے۔

جب کسی کا نام سنائی دے اور سانس ایک لمحے کے لیے نہ رکے۔

جب ماضی کا کوئی صفحہ کھلے اور آنکھ نم ہونے کے بجائے صرف ہونٹوں پر ایک خاموش سی مسکراہٹ آ جائے۔

شاید میں بھی اسی دن کا منتظر ہوں۔

مگر نوٹنگھم کی سرد راتوں میں، جب بارش کھڑکی کے شیشوں پر دستک دیتی ہے اور باہر کی دنیا آہستہ آہستہ خاموش ہو جاتی ہے، دل آج بھی کبھی ایک سوال ضرور کرتا ہے:

کیا کچھ لوگ واقعی ہماری زندگی سے چلے جاتے ہیں، یا صرف ہماری پہنچ سے دور ہو کر ہمارے اندر ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں؟

اس سوال کا جواب شاید دوسری طرف نہیں، ہمارے اپنے دل کے اندر کہیں چھپا ہوتا ہے۔

اور شاید اسی جواب کی تلاش کا نام...

انتظار ہے۔

جاری ہے۔

ایک ادھوری کہانی

کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں بس ادھوری رہ جاتی ہیں۔

تحریر: محمد مسعود، نوٹنگھم، برطانیہ

قسط اوّل

جانے کس کس کی بد دعا کام آ گئی، کس کی نظر نے راستہ بدل دیا، یا شاید قسمت کے کاغذ پر ہمارا ساتھ اتنا ہی لکھا تھا۔ میں آج بھی اس سوال کا جواب تلاش کرتا ہوں کہ ہمارے درمیان آخر ایسی کون سی دیوار آ گئی تھی جسے ہم محبت کی تمام تر طاقت کے باوجود گرا نہ سکے۔ کبھی سوچتا ہوں دیوار حالات کی تھی، کبھی وقت کو قصور وار ٹھہراتا ہوں اور کبھی اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ شاید ہم دونوں میں سے کسی ایک نے اس رشتے کو اتنی مضبوطی سے تھاما ہی نہیں تھا جتنی مضبوطی سے دوسرے نے تھام رکھا تھا۔

جو بھی تھا، انجام یہی ہوا کہ ہوتے ہوتے وہ شخص مجھ سے بچھڑ گیا جس کے بارے میں کبھی یہ گمان تک نہ تھا کہ ایک دن اس کے بغیر بھی زندگی گزارنی پڑے گی۔

عجیب ہے یہ زندگی بھی۔ جن لوگوں کے بغیر ہم ایک لمحہ گزارنے کا تصور نہیں کر سکتے، وقت ہمیں انہی کے بغیر برسوں گزارنا سکھا دیتا ہے۔ سانس چلتی رہتی ہے، صبح ہوتی رہتی ہے، شام ڈھلتی رہتی ہے، دنیا اپنے معمول پر چلتی رہتی ہے، مگر انسان کے اندر کہیں ایک گھڑی ایسی بھی ہوتی ہے جو اسی لمحے پر رک جاتی ہے جہاں کوئی اپنا ہاتھ چھڑا کر چلا گیا تھا۔

میں نے بھی وقت کے ساتھ بہت کچھ سیکھا۔

سب سے بڑا ہنر شاید یہ سیکھا کہ درد کو مسکرا کر کیسے سہنا ہے۔

یہ فن مجھے کسی کتاب نے نہیں سکھایا، نہ کسی استاد نے۔ اسے سکھانے والے وہ حالات تھے جن میں دل اندر سے رو رہا ہوتا تھا مگر چہرے پر مسکراہٹ رکھنا ضروری ہوتا تھا۔ رفتہ رفتہ میں نے جان لیا کہ دنیا کو یقین دلانا بہت آسان ہے کہ آپ خوش ہیں۔ بس ہنس کر ملیں، دو چار اچھی باتیں کریں، کسی محفل میں بیٹھ کر قہقہہ لگا دیں اور لوگ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اس شخص کی زندگی میں کوئی غم نہیں۔

انہیں کون بتائے کہ بعض قہقہوں کے پیچھے سسکیاں چھپی ہوتی ہیں۔

بعض مسکراہٹیں خوشی کا اظہار نہیں بلکہ درد پر ڈالا ہوا پردہ ہوتی ہیں۔

اور بعض لوگ مضبوط اس لیے نظر نہیں آتے کہ انہیں تکلیف نہیں ہوتی، بلکہ اس لیے کہ ان کے پاس ٹوٹنے کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہوتی۔

لوگ مجھے بھی مضبوط سمجھتے رہے۔ شاید آج بھی سمجھتے ہیں۔ مگر انہیں کیا معلوم کہ کتنی راتیں ایسی گزریں جب نیند آنکھوں سے روٹھی رہی۔ کتنی باتیں دل میں آئیں مگر کسی سے کہی نہ جا سکیں۔ کتنی مرتبہ ایک نام ذہن میں آیا اور میں نے فوراً کسی دوسرے خیال میں خود کو الجھا لیا۔

انسان دنیا سے بہت کچھ چھپا لیتا ہے، اپنے آپ سے نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ زندگی سے نکل جانے کے باوجود یادوں سے نہیں نکلتے۔

آپ ان کی تصویریں دیکھنا چھوڑ سکتے ہیں، ان کا ذکر کرنا چھوڑ سکتے ہیں، ان راستوں سے گزرنا چھوڑ سکتے ہیں جو ان کی یاد دلاتے ہوں، مگر دل کے اندر محفوظ یادوں پر انسان کا اختیار کہاں ہوتا ہے؟

کبھی کوئی جملہ ان کی یاد دلا دیتا ہے۔

کبھی کوئی خوشبو۔

کبھی کوئی موسم۔

کبھی کسی اجنبی کا لہجہ۔

اور کبھی بغیر کسی وجہ کے اچانک وہ شخص دل و دماغ میں اس طرح آ بیٹھتا ہے جیسے گیا ہی نہ ہو۔

میں نے بھی کئی مرتبہ چاہا کہ اسے اپنی سوچ سے نکال دوں۔ دل سے کھرچ کر پھینک دوں۔ جو کچھ بیت گیا اسے ماضی سمجھ کر دفن کر دوں۔

مگر کچھ یادیں دفن کرنے سے بھی نہیں مرتیں۔

وہ خاموش ہو جاتی ہیں اور پھر کسی تنہا لمحے میں اچانک جاگ اٹھتی ہیں۔

اس کی ہنسی یاد آتی ہے تو ساتھ وہ وقت بھی یاد آ جاتا ہے جب میں نے سوچا تھا کہ یہ ہنسی ہمیشہ میری زندگی کا حصہ رہے گی۔ اس کا روٹھنا یاد آتا ہے تو وہ منانا بھی یاد آ جاتا ہے جس میں کبھی تھکن محسوس نہیں ہوتی تھی۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں، جن کی اس وقت کوئی خاص اہمیت محسوس نہیں ہوتی تھی، آج یادوں کے خزانے کی سب سے قیمتی چیزیں بن چکی ہیں۔

شاید انسان کی فطرت ہی ایسی ہے۔

جو پاس ہو، اس کی موجودگی معمول لگتی ہے۔

جو چلا جائے، اسی کی چھوٹی چھوٹی باتیں غیر معمولی ہو جاتی ہیں۔

اور پھر دل عجیب کشمکش میں مبتلا رہتا ہے۔

کبھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ شخص آج بھی میری روح کے کسی حصے میں موجود ہے۔ کبھی لگتا ہے جیسے اس تعلق کا کوئی نہ کوئی سرا آج بھی باقی ہے۔ اور اگلے ہی لمحے حقیقت سامنے کھڑی ہو کر یاد دلاتی ہے کہ جو گزر گیا، وہ گزر گیا۔

یہی حقیقت سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے۔

آپ کے لیے جو شخص آج بھی ایک مکمل احساس ہو، ممکن ہے اس کے لیے آپ صرف ایک پرانی یاد ہوں۔

جس کا خیال آپ کی نیند چھین لے، ممکن ہے اسے آپ کا خیال مہینوں نہ آیا ہو۔

جس کی ایک پرانی بات آپ کے دل میں طوفان اٹھا دے، ممکن ہے وہ اپنی نئی زندگی میں بہت آگے نکل چکا ہو۔

محبت میں شاید بچھڑنا اتنا تکلیف دہ نہیں جتنا یہ احساس کہ دو لوگوں کے لیے ایک ہی تعلق کی اہمیت الگ الگ ہو سکتی ہے۔

ایک اسے ماضی کہہ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔

دوسرا اسی ماضی کو سینے سے لگائے پھرتا ہے۔

تب میں سوچتا ہوں کہ لوگ آخر کیسے بدل جاتے ہیں؟

جو کل تک کسی کی خاموشی برداشت نہیں کر پاتے تھے، آج اس کی مکمل غیر موجودگی کے عادی کیسے ہو جاتے ہیں؟

جو کبھی کہتے تھے کہ تمہارے بغیر زندگی کا تصور نہیں، وہی ایک دن آپ کے بغیر زندگی کے نئے خواب کیسے دیکھ لیتے ہیں؟

شاید لوگ نہیں بدلتے، ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔

شاید محبت ختم نہیں ہوتی، اس کی جگہ بدل جاتی ہے۔

یا شاید بعض اوقات جسے ہم محبت سمجھ رہے ہوتے ہیں، دوسرے شخص کے لیے وہ صرف زندگی کا ایک خوبصورت وقت ہوتا ہے۔

ہم جیسے لوگ پھر غلطی یہ کرتے ہیں کہ چند خوبصورت لمحوں کو پوری زندگی کا وعدہ سمجھ لیتے ہیں۔

میں کسی کو قصور وار ٹھہرانا بھی چاہوں تو دل اجازت نہیں دیتا۔

محبت عجیب چیز ہے۔ جس سے شکایت سب سے زیادہ ہوتی ہے، اکثر اسی کے لیے دل سب سے زیادہ نرم بھی رہتا ہے۔ زبان ہزار شکوے کرتی ہے مگر دل کسی ایک شکوے کے بعد خاموشی سے کہتا ہے:

چھوڑو، شاید اس کی بھی کوئی مجبوری رہی ہوگی۔

پھر کبھی غصہ آتا ہے کہ اگر مجبوری تھی تو بتائی کیوں نہیں؟

اگر جانا تھا تو اتنا قریب آئے کیوں؟

اگر ساتھ نہیں چلنا تھا تو راستے دکھائے کیوں؟

اگر منزل کسی اور کے ساتھ طے تھی تو میرے ساتھ خواب کیوں دیکھے؟

یہ وہ سوال ہیں جن کے جواب شاید کبھی نہیں ملتے۔

اور سچ تو یہ ہے کہ ہر جواب ملنا ضروری بھی نہیں۔

بعض اوقات جواب انسان کو سکون نہیں دیتے، ایک نیا سوال دے جاتے ہیں۔

محبت میں سب سے بڑا ظلم شاید خاموشی ہے۔

انسان صاف کہہ دے کہ اب راستے الگ ہیں تو دل ٹوٹتا ضرور ہے، مگر حقیقت قبول کرنے کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن جب کوئی بغیر مکمل بات کیے، بغیر آخری لفظ کہے، بغیر یہ بتائے کہ قصور کہاں تھا، خاموشی سے دور ہو جائے تو انسان برسوں اپنے اندر عدالت لگائے رکھتا ہے۔

کبھی خود کو مجرم بناتا ہے۔

کبھی اسے۔

کبھی حالات کو۔

اور کبھی قسمت کو۔

مجھے بھی آج تک وہ آخری وقت یاد ہے۔

اس کا جانا تو شاید وقت کے ساتھ قبول ہو جاتا، مگر جاتے ہوئے اس کا پلٹ کر نہ دیکھنا دل نے کبھی پوری طرح قبول نہیں کیا۔

اس نے خدا حافظ نہیں کہا۔

صرف چلا گیا۔

کتنے معمولی سے دو لفظ ہیں:

خدا حافظ

مگر بعض اوقات یہی دو لفظ ایک تعلق کو باعزت اختتام دے دیتے ہیں۔

اگر وہ کہہ دیتا تو شاید میں سمجھ لیتا کہ بس، یہاں تک ہمارا ساتھ تھا۔ شاید دل مان لیتا کہ جس سفر کی ابتدا ہم نے ایک ساتھ کی تھی، اس کی منزلیں اب الگ ہیں۔

مگر وہ لفظ نہ کہا گیا۔

اور کچھ نہ کہے گئے الفاظ، کہے گئے ہزاروں جملوں سے زیادہ دیر تک انسان کا پیچھا کرتے ہیں۔

اسی لیے شاید دل کے کسی کونے میں آج بھی ایک نامکمل پن موجود ہے۔

ایک سوال۔

ایک انتظار۔

ایک ایسا دروازہ جسے عقل برسوں پہلے بند کر چکی ہے مگر دل کبھی کبھی آج بھی اس کی طرف دیکھ لیتا ہے۔

مجھے معلوم ہے کہ وقت واپس نہیں آتا۔

لوگ بھی ہمیشہ واپس نہیں آتے۔

مگر انتظار ہمیشہ کسی شخص کے لوٹ آنے کا نام نہیں ہوتا۔

بعض اوقات انسان صرف اس لمحے کا انتظار کرتا ہے جب کسی کی یاد آئے اور دل نہ دکھے۔

جب کسی کا نام سنائی دے اور سانس ایک لمحے کے لیے نہ رکے۔

جب ماضی کا کوئی صفحہ کھلے اور آنکھ نم ہونے کے بجائے صرف ہونٹوں پر ایک خاموش سی مسکراہٹ آ جائے۔

شاید میں بھی اسی دن کا منتظر ہوں۔

مگر نوٹنگھم کی سرد راتوں میں، جب بارش کھڑکی کے شیشوں پر دستک دیتی ہے اور باہر کی دنیا آہستہ آہستہ خاموش ہو جاتی ہے، دل آج بھی کبھی ایک سوال ضرور کرتا ہے:

کیا کچھ لوگ واقعی ہماری زندگی سے چلے جاتے ہیں، یا صرف ہماری پہنچ سے دور ہو کر ہمارے اندر ہمیشہ کے لیے رہ جاتے ہیں؟

اس سوال کا جواب شاید دوسری طرف نہیں، ہمارے اپنے دل کے اندر کہیں چھپا ہوتا ہے۔

اور شاید اسی جواب کی تلاش کا نام...

انتظار ہے۔

  جاری ہے۔

       Poet: M Masood Nottingham UK

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

شک

یک طرفہ محبت