دینے والی ذات تو صرف رب کی ہے

دینے والی ذات تو صرف رب کی ہے

سندھ سے کشمیر تک عقیدت کے نام پر غلامی کی داستان

تحریر: محمد مسعود نونٹگھم برطانیہ 

یہ صرف سندھ کی کہانی نہیں، یہ میرے پورے پاکستان کی کہانی ہے، میرے دل کی کہانی ہے۔

یہ سندھ کے کسی ویران گوٹھ میں بیٹھی ہوئی اس ماں کی بھی کہانی ہے جس کے پاؤں میں دو پٹیوں والی سستی چپل تک نہیں، اور یہ لاہور کی بادشاہی مسجد کے سامنے بیٹھے اس پڑھے لکھے نوجوان کی بھی کہانی ہے جو ڈگری ہاتھ میں لے کر بھی ایک جعلی پیر کے سامنے جھکا ہوا ہے۔ یہ فیصل آباد کے اس مل مالک کی بھی کہانی ہے جو اپنی فیکٹری کا بونس پیر کو دے آتا ہے، اور یہ ملتان، ساہیوال، بہاولپور کے ان سادہ لوح کسانوں کی بھی کہانی ہے جو اپنی فصل کا پہلا حصہ گدی نشین کی نذر کر دیتے ہیں۔

یہ کوئٹہ، خضدار اور تربت کے ان بلوچ بھائیوں کی بھی کہانی ہے جو سردار اور پیر کے ایک ہی روپ سے ڈرے ہوئے ہیں، یہ پشاور اور سوات کے ان پختونوں کی بھی کہانی ہے جو تعویذ کو دوا سے زیادہ سچا سمجھتے ہیں، اور یہ میرے آزاد کشمیر کے مظفرآباد اور میرپور کے ان غیور لوگوں کی بھی کہانی ہے جو آج بھی درباروں پر جا کر اپنی قسمت کے فیصلے لوہے کی جالیوں سے مانگتے ہیں۔

بیماری ایک ہی ہے، بس شہر کا نام بدل جاتا ہے۔ نام بدل جاتا ہے، لیکن دھندہ ایک ہی ہے۔

اے میرے بھائیو! ذرا سوچو تو سہی، دینے والی ذات تو صرف اللہ کی ہے۔ وہی رب جو تمہیں ماں کے پیٹ میں رزق دیتا ہے، وہی جو صحرا میں بھی پانی نکال دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے "وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ" جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں تو کہہ دو میں قریب ہوں۔ اللہ نے کبھی نہیں کہا کہ مجھ تک پہنچنے کے لیے تمہیں کسی پیر کی، کسی وڈیرے کی، کسی گدی کی ضرورت ہے۔ اس نے تو کہا میں تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں۔ پھر تم کیوں ایک انسان کے قدموں میں گرے ہوئے ہو؟

میں نے اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھے ہیں جنہیں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ میں نے کتے کی قبر پر چادر چڑھتے دیکھی، اونٹنی کی قبر پر سجدہ ہوتے دیکھا، میں نے لاہور کے ایک پارک میں ایک سوکھے درخت پر عورتوں کی شلواریں ٹنگی دیکھیں کہ یہاں منت مانگنے سے اولاد ہوتی ہے۔ اے میری بہنو! اولاد تو اللہ دیتا ہے، درخت نہیں دیتا۔ اگر دھاگہ باندھنے سے اولاد ملتی تو آج کوئی بے اولاد نہ ہوتا۔ اگر مزار کی مٹی کھانے سے بیماری جاتی تو آج کوئی ہسپتال نہ ہوتا۔

یہ کڑوا سچ سنو۔ وہ پیر جو خود شوگر، بلڈ پریشر اور کینسر کا مریض ہے، وہ تمہیں شفا کیسے دے گا؟ وہ پیر جو عینک کے بغیر قرآن کی ایک آیت نہیں پڑھ سکتا، جو وہیل چیئر کے بغیر ایک قدم نہیں چل سکتا، جسے معمولی بخار ہو تو وہ لاہور اور کراچی کے سب سے مہنگے ہسپتال میں بھاگتا ہے، وہی تمہارے بیمار بچے کو ڈاکٹر کے پاس بھیجنے کے بجائے کہتا ہے یہ پھونک والا پانی پلا دو، ٹھیک ہو جائے گا اور تم اس پانی کو اپنے بچے کی زندگی سے زیادہ قیمتی سمجھ لیتے ہو۔

یہ عقیدت نہیں، یہ اپنے بچوں کے ساتھ ظلم ہے۔

سب سے زیادہ درد ناک منظر وہ ہے جب مریدوں کے نذرانوں سے خریدی ہوئی کروڑوں کی لینڈ کروزر گاؤں کی کچی گلیوں سے گزرتی ہے۔ تپتی دھوپ، پچاس ڈگری گرمی، لاہور ہو یا سکھر، فیصل آباد ہو یا کوئٹہ، کوٹلی ہو یا میرپور گرمی سب جگہ ایک جیسی ہے۔ تمہارے پاؤں جل رہے ہیں، تم ننگے پاؤں اس گاڑی کے پیچھے بھاگ رہے ہو، اس کے ٹائروں سے اڑتی ہوئی مٹی اور دھول کو تبرک سمجھ کر اپنے چہرے پر مل رہے ہو، لوہے کی اس گاڑی کو چوم رہے ہو۔ اور اندر؟ اندر مرشد صاحب ٹھنڈی اے سی میں بیٹھے کالا چشمہ لگائے تمہاری اس ذلالت پر فخر کر رہے ہیں۔ اسے شرم نہیں آتی۔

کبھی سوچا یہ پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ اس پیر کے بیٹے لندن میں پڑھ رہے ہیں، اس کی بیٹیاں دبئی میں شاپنگ کر رہی ہیں، وہ خود ہر سال ترکی اور یورپ کی سیر کو جاتا ہے۔ یہ تمہاری جیب سے جاتا ہے۔ تھر کی اس ماں کی جیب سے، فیصل آباد کے اس مزدور کی جیب سے، کشمیر کے اس غریب کی جیب سے جو خود دو وقت کی روٹی کو ترستا ہے لیکن پیر کو نذرانہ ضرور دیتا ہے کیونکہ اسے ڈرایا گیا ہے کہ اگر نذرانہ نہ دیا تو تمہارا نقصان ہو جائے گا۔

ارے نقصان تو اللہ کے سوا کوئی نہیں دے سکتا اور فائدہ بھی اللہ کے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔

اور پھر آتا ہے الیکشن کا کالا بازار۔ یہ ان کے کاروبار کا سب سے بڑا سیزن ہے۔ سندھ میں پیر بکتے ہیں، پنجاب میں گدی نشین بکتے ہیں، بلوچستان میں سردار نما پیر بکتے ہیں، آزاد کشمیر میں برادری کے نام پر پیر بکتے ہیں۔ ان کی بولیاں لگتی ہیں۔ جس پیر کے مرید زیادہ، اس کی قیمت زیادہ۔ کرپٹ سیاستدان بڑی بڑی گاڑیوں میں ان کے آستانوں پر جاتے ہیں، ان کے پیروں میں بیٹھتے ہیں، ہاتھ چومتے ہیں، فوٹو نکلواتے ہیں اور فیس بک پر ڈالتے ہیں۔ مقصد ایک ہی ہے، تمہارے ووٹ کو خریدنا۔ پیر بھی خوش، سیاستدان بھی خوش، اور تم؟ تم لاہور میں بھی اسی گندے پانی میں، فیصل آباد میں بھی اسی ٹوٹی سڑک پر، سندھ میں بھی اسی ویران سکول میں، کشمیر میں بھی اسی بے روزگاری میں روتے رہتے ہو۔

یہ وہ سیاہ باب ہے جو انگریز ہمیں دے گئے تھے۔ تاریخ گواہ ہے، انگریزوں نے جب دیکھا کہ اس قوم کو بندوق سے غلام نہیں بنایا جا سکتا تو انہوں نے دو بت بنائے۔ ایک جاگیردار اور دوسرا جعلی پیر۔ ایک کو زمین دی، دوسرے کو ذہنوں پر قبضہ دیا۔ آج انگریز چلے گئے لیکن ان کے یہ دونوں بت آج بھی ہمارے سروں پر مسلط ہیں۔ خود جی ایم سید جیسے بڑے سید گھرانے کے آدمی نے بھی لکھا تھا کہ یہ سب دو نمبر ہیں، ان کے پاس کوئی کرامت نہیں۔

ان کا سب سے خطرناک ہتھیار ان کے چیلے ہیں۔ لاہور سے لے کر مظفرآباد تک، ہر دربار پر یہی بھیڑ ہے۔ بڑی داڑھی، کفن جیسے کپڑے، ہاتھ میں تسبیح، اور منہ پر جھوٹی کہانیاں۔ مرشد نے ڈوبتے سورج کو روک دیا، مرشد ایک وقت میں دو جگہ تھا۔ ایسی کہانیاں جنہیں نہ عقل مانتی ہے نہ دین۔ خود مرشد بھی اندر سے شرماتا ہو گا لیکن یہ چیلے ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ اسی جھوٹ سے ان کی دیگ پکتی ہے۔

کبھی سنا ہے کہ کسی بڑے پیر نے لاہور میں کوئی سکول بنایا ہو؟ فیصل آباد میں کوئی یونیورسٹی بنائی ہو؟ کوئٹہ میں کوئی ہسپتال بنایا ہو؟ کشمیر میں کوئی لائبریری بنائی ہو؟ نہیں سنا ہو گا۔ اور کبھی سنو گے بھی نہیں کیونکہ سکول بنانے سے شعور آتا ہے، شعور سوال کرتا ہے، اور سوال ان کے کاروبار کو بند کر دیتا ہے۔ لیکن قبر پر گنبد بنانے سے کاروبار بڑھتا ہے، اس لیے ہر پیر کے مرنے کے بعد مزار سب سے پہلے بنتا ہے۔

میرے بھائیو اور بہنو! ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں، لوٹ آؤ اپنے رب کی طرف۔ وہ رب جو کہتا ہے مانگو مجھ سے، میں دوں گا۔ وہ رب جو رات کے تیسرے پہر آسمانِ دنیا پر آ کر کہتا ہے ہے کوئی مانگنے والا؟ وہ رب جس نے فرعون جیسے ظالم کی بھی دعا سنی جب وہ ڈوب رہا تھا۔ اس رب کو چھوڑ کر تم مٹی کے ڈھیروں سے کیا مانگ رہے ہو؟

وہ پیر تمہیں کیا دے گا جو خود تم سے مانگتا ہے؟

اپنے بچوں کو تعویذ نہیں، کتاب دو۔ انہیں درگاہ کا نہیں، سکول کا راستہ دکھاؤ۔ انہیں کسی پیر کے ہاتھ میں نہیں، کسی اچھے استاد کے ہاتھ میں دو۔ چاہے تم سندھ کے ہو، پنجاب کے، بلوچستان کے یا میرے کشمیر کے، تمہارا رب ایک ہی ہے، اور دینے والی ذات صرف اسی کی ہے۔

یاد رکھو، وہی پرانی بات جو آج بھی سچ ہے:
مرید جتنا زیادہ جاہل ہو گا، پیر اتنا ہی بڑا پہنچا ہوا نظر آئے گا۔

اللہ نگہبان 

دعاؤں کا طلبگار محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

شک

یک طرفہ محبت