اثر دعا

مجھے تیرا نہ ملنا لوگوں کی بددعاؤں کا اثر لگتا ہے
کہ خواب ٹوٹتے رہتے ہیں اور دل ہی قصوروار لگتا ہے

ہم نے چاہا تھا تجھے سادہ سی عبادت کی طرح
یہ عشق اب بھی مگر سب سے بڑی آزمائش لگتا ہے

نہ کوئی شکوہ زبان پر، نہ کوئی حرفِ ملامت
یہ صبر ہی ہے جو ہر زخم پر پہرے دار لگتا ہے

کسی کی ایک نظر نے اجاڑ دی میری دنیا
یہ دل بھی اب مجھے شیشے کا شہر لگتا ہے

محبتوں کے سفر میں ہم اکیلے ہی رہ گئے
ہر ہمسفر یہاں وقتی اور ہر موڑ غدار لگتا ہے

یہ جدائی بھی مسعودؔ کوئی معمولی کہانی نہیں
یہ وہ باب ہے جو ہر بار پڑھوں تو نیا لگتا ہے



اثر دعا یہ غزل انسانی زندگی میں محبت، جدائی اور تقدیر کے کرب کو نہایت سادگی اور گہرے احساس کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود محبوب کے نہ ملنے کو محض اتفاق نہیں بلکہ لوگوں کی بددعاؤں کا اثر سمجھتا ہے، جہاں خوابوں کا بار بار ٹوٹنا دل کو ہی قصوروار ٹھہرا دیتا ہے۔ محبت کو عبادت جیسا پاکیزہ جذبہ قرار دیا گیا ہے، مگر یہی عشق سب سے بڑی آزمائش بن کر سامنے آتا ہے۔ غزل میں صبر کو ایک محافظ کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو ہر زخم پر پہرہ دیتا ہے، اگرچہ اندر کا درد خاموش نہیں ہوتا۔ ایک نظر سے بکھر جانے والی دنیا اور شیشے کے شہر جیسا نازک دل شاعر محمد مسعود کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔ محبت کے سفر میں تنہائی، عارضی ہمسفر اور دھوکے سے بھرے راستے زندگی کی تلخ حقیقت بن کر ابھرتے ہیں۔ آخر میں جدائی کو ایک معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایسا باب کہا گیا ہے جو ہر بار پڑھنے پر نیا درد، نیا مفہوم اور نئی کسک دے جاتا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں