اشاعتیں

تمہیں خبر ہی نہیں لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تمہیں خبر ہی نہیں

تصویر
تمہیں خبر ہی نہیں تمہیں خبر ہی نہیں، دل پہ کیا گزرتی ہے تیری جدائی میں ہر سانس بکھرتی ہے میں ہنس کے ملتا ہوں لوگوں سے آج بھی لیکن میری نگاہ میں اک شام سی اترتی ہے کبھی جو رات کے پچھلے پہر تجھے سوچوں تو چاندنی بھی میرے کمرے میں ٹھہرتی ہے وہ ایک شخص جو میرا کبھی ہوا ہی نہیں اسی کی یاد میرے ساتھ ساتھ چلتی ہے میں اپنے خواب کو سینے میں دفن کر دوں گا مگر تری یاد کہاں دل سے پھر نکلتی ہے کسی کے ہاتھ میں ہاتھ دے کے دیکھ لیا ہر ایک لمس میں اک اجنبی سی وحشت ہے عجیب عشق ہے جس کا کوئی علاج نہیں یہ پیاس بڑھتی ہے لیکن کبھی نہیں مرتی ہے مسعودؔ عشق کی قیمت بھی کیا عجب نکلی خوشی تو چھن گئی، تنہائی ہی ملتی ہے یہ غزل ایک نامکمل، یک طرفہ اور شدید عشق کی کہانی ہے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ محبوب کو خبر ہی نہیں کہ اس کی جدائی میں اس کے دل پر کیا قیامت گزرتی ہے، ہر سانس بکھر جاتی ہے۔ ظاہری طور پر وہ دنیا کے سامنے ہنستا مسکراتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، مگر اس کی آنکھوں میں ہر وقت ایک اداس شام اتری رہتی ہے۔ رات کے تنہا لمحوں میں جب وہ محبوب کو سوچتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے چاندنی بھی اس کے کمرے میں ٹھہر کر...