ہوائے جدائی

ہوائے جدائی



دل آج بھی تری یاد کی فضا میں ہے
 ہر ایک سانس تری غم بھری صدا میں ہے

چراغ بجھ گئے، لیکن یہ دل سلگتا ہے
 ابھی بھی درد ترا دل کی ہر دعا میں ہے

جو شام ڈھلتی ہے، یادوں کے پھول کھلتے ہیں
 تری ہی خوشبو مری روح کی فضا میں ہے

تمام رات تری یاد سے رہا روشن
 وہ ایک خواب ابھی تک مری نگاہ میں ہے

نہ جانے کب سے ترے لوٹنے کی آس لیے
 یہ دل ابھی بھی ترے عشق کی وفا میں ہے

مسعودؔ خود کو بھلا بیٹھا تیری فرقت میں
 مگر وہ آج بھی تیری ہی التجا میں ہے



یہ غزل ہجر و جدائی کے درد، محبوب کی یاد اور اس کے لوٹ آنے کی امید کی عکاسی کرتی ہے۔ محمد مسعود کے دل میں جدائی کے باوجود محبت کی شمع روشن ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یادیں مدھم نہیں ہوتیں بلکہ تنہائی، انتظار اور ادھوری محبت کا احساس مزید گہرا ہوتا جاتا ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

شک

یک طرفہ محبت