عید پھر سے جگائے دیتی ہے
عید پھر سے جگائے دیتی ہے
سارے ماضی کے درد بے درماں
عید کی رونقوں میں شامل ہوں
ہنستے بستے شہروں میں جیسے قبرستاں
اور بڑھ جاتی ہے بُھولی ہوئی باتوں کی کسک
عید کا دن تو فقط زخم ہی ہرے کرتا ہے
عید آئی ہے مسعود سلگتی ہوئی یادیں لے کر
آج پھر سے اپنی تنہائی پر ترس آیا ہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں