خاموش درد

خاموش درد

تحریر: محمد مسعود، نوٹنگھم برطانیہ

برطانیہ میں بہت سے لوگ دولت کی کمی سے نہیں، بلکہ تنہائی، جذباتی تھکن اور اپنائیت کی کمی سے لڑ رہے ہیں۔

یہ ایک جملہ نہیں، یہ اس دھرتی پر بسنے والے ہزاروں دلوں کی چیخ ہے جو ہونٹوں تک آتے آتے دم توڑ جاتی ہے۔

یہاں چمکتی ہوئی سڑکیں ہیں، صاف ستھرے گھر ہیں، ہر ضرورت کی چیز میسر ہے، بینک میں پیسہ ہے، گاڑی دروازے پر کھڑی ہے، مگر جب شام ڈھلتی ہے تو گھر کی دیواریں اجنبی لگنے لگتی ہیں۔ کچن میں کھانا پڑا ہے مگر کھانے والا کوئی نہیں، فون میں سینکڑوں نمبر ہیں مگر حال پوچھنے والا کوئی نہیں۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ انسان ہجوم میں بھی تنہا ہے۔

پردیس کا دکھ روٹی کا دکھ نہیں ہوتا، یہ تو دل کے اجڑنے کا دکھ ہوتا ہے۔ ہم اپنے پیاروں کو چھوڑ کر آئے تھے کہ بچوں کا مستقبل بن جائے گا، ماں باپ کو سہولت ملے گی، بہن بھائیوں کا سہارا بنیں گے۔ ہم نے سوچا تھا چند سال کی بات ہے، پھر لوٹ جائیں گے۔ مگر وقت نے ہمیں ایسے جکڑا کہ ہم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔ یہاں کے اپنے اصول ہیں، یہاں کی اپنی دوڑ ہے۔ صبح سے شام تک کام، شام سے رات تک فکر۔ بچے بڑے ہو گئے، ان کی زبان بدل گئی، ان کے خواب بدل گئے، اور ہم ایک کونے میں کھڑے اپنی مٹی کی خوشبو کو ترستے رہ گئے۔

سب سے بڑا درد یہ ہے کہ یہاں کوئی کسی کو سنتا نہیں۔ سب مصروف ہیں۔ ہمسایہ دروازہ بند کر کے سو جاتا ہے، اسے خبر نہیں کہ ساتھ والے گھر میں کوئی کراہ رہا ہے۔ دفتر میں لوگ مسکرا کر ملتے ہیں، حال کیسا ہے پوچھتے ہیں، مگر جواب سننے کا وقت کسی کے پاس نہیں۔ بس ایک رسمی مسکراہٹ، ایک رسمی جملہ اور پھر سب اپنی اپنی دنیا میں گم۔ اسی رسمی دنیا میں انسان اندر ہی اندر گھٹتا رہتا ہے۔ وہ کسی سے کہہ بھی نہیں سکتا کہ میں تھک گیا ہوں، میں اکیلا ہوں، کیونکہ لوگ کہیں گے تمہارے پاس تو سب کچھ ہے، تمہیں کس بات کی کمی ہے۔

مائیں یہاں سب سے زیادہ تنہا ہیں۔ وہ بچوں کو سکول چھوڑ کر آتی ہیں، پھر خالی گھر میں دیواروں کو تکتی ہیں۔ شوہر کام پر، بچے سکول میں، اور وہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک اپنی تنہائی کو گھسیٹتی پھرتی ہیں۔ کسی سے دل کی بات کہنے کو جی چاہتا ہے مگر سننے والا میسر نہیں۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ کوئی آ کر بس اتنا کہہ دے کہ تم ٹھیک ہو، تم نے بہت ہمت کی ہے۔ مگر یہ جملہ سننے کے لیے بھی برسوں بیت جاتے ہیں۔

باپ بھی یہاں خاموشی سے ٹوٹتے ہیں۔ وہ باہر سے مضبوط نظر آتے ہیں، ہر ذمہ داری نبھاتے ہیں، بل بھرتے ہیں، کرایہ دیتے ہیں، بچوں کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں، مگر رات کو جب وہ بستر پر لیٹتے ہیں تو ان کے سینے میں ایک انجانا بوجھ ہوتا ہے۔ وہ اپنا دکھ کسی کو بتا نہیں سکتے۔ وہ اپنے آنسو چھپا لیتے ہیں کیونکہ انہیں سکھایا گیا ہے کہ مرد روتے نہیں۔

اور ہمارے بزرگ، ان کا دکھ تو سب سے گہرا ہے۔ وہ عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں انہیں اپنوں کے درمیان ہونا چاہیے تھا۔ جہاں پوتے پوتیوں کی ہنسی ہونی چاہیے تھی، جہاں گلی محلے کے دوست ہونے چاہیے تھے، وہاں وہ ایک خاموش گھر میں گھڑی کی ٹک ٹک سنتے ہیں۔ وہ دن بھر کھڑکی سے باہر دیکھتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس کہانیاں ہیں مگر سننے والا کوئی نہیں۔ ان کے پاس دعائیں ہیں مگر لینے والا مصروف ہے۔

یہ جذباتی تھکن کسی دوا سے ٹھیک نہیں ہوتی۔ یہ تھکن نیند سے بھی نہیں جاتی۔ یہ تھکن اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان مسلسل اپنا آپ منواتا رہے، اپنی پہچان بچاتا رہے، اپنی زبان، اپنا لہجہ، اپنا دین، اپنا کلچر بچاتے بچاتے وہ خود سے ہی دور ہو جائے۔ ہر جگہ خود کو ثابت کرنا، ہر جگہ صفائی دینا، یہ عمل انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

ہمیں اس خاموش درد کو سمجھنا ہو گا۔ ہمیں ایک دوسرے کے قریب آنا ہو گا۔ یقین کریں، کسی کو آپ کے پیسے کی ضرورت نہیں، کسی کو آپ کے تحفے کی ضرورت نہیں، بس ایک سچے رشتے کی ضرورت ہے۔ ایک فون کال جو حال پوچھنے کے لیے کی گئی ہو، ایک ملاقات جو بنا کسی مطلب کے ہو، ایک ساتھ بیٹھ کر چائے پینا، ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر کہنا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔

خدارا اپنے ارد گرد دیکھیں۔ اگر آپ کا کوئی عزیز، کوئی دوست، کوئی ہمسایہ خاموش ہو گیا ہے، اگر وہ محفلوں سے کترانے لگا ہے، اگر اس کی آنکھوں میں تھکن اتر آئی ہے تو اسے اکیلا مت چھوڑیں۔ اس کے پاس بیٹھیں۔ اسے سنیں۔ بغیر مشورہ دیے، بغیر ججمنٹ کے، بس اسے سن لیں۔ کبھی کبھی صرف سن لینا ہی سب سے بڑی مرہم ہوتا ہے۔

یہ برطانیہ ہے، یہاں سہولتیں بہت ہیں، مگر اپنائیت بازار میں نہیں ملتی۔ یہ ہمیں خود بنانی پڑے گی۔ اپنے گھروں کے دروازے کھولیں، اپنے دلوں کے دروازے کھولیں۔ کیونکہ دولت کی کمی تو محنت سے پوری ہو جاتی ہے، مگر اپنائیت کی کمی سے جو دل خالی ہوتا ہے، وہ کبھی نہیں بھرتا۔ شاید کہ اتر جائے کسی کے دل میں میری بات۔

دعاؤں کا طلبگار محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ 
اگر آپ کو شعر و شاعری سے محبت ہے 
تو میرے اس چھوٹے سے پیج پر ایک بار ضرور آئیں
آپ کے ایک لائک اور فالو سے بہت حوصلہ ملتا ہے

میرا شاعری والا پیج 

https://www.facebook.com/share/1CrunLx72B/

لائک، فالو اور شیئر کرنا نہ بھولیے گا 
جزاک اللہ خیرا 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

شک

یک طرفہ محبت