اشاعتیں

ایسا نہیں کہ ہم کو محبت نہیں ملی

ایسا نہیں کہ ہم کو محبت نہیں ملی محمد مسعود نونٹگھم یو کے ایسا نہیں کہ ہم کو محبت نہیں ملی تجھے چاہتے تھے پر تیری الفت نہیں ملی ملنے کو تو زندگی میں کئی ہمسفر ملے پر ان کی طبیعت سے اپنی طبیعت نہیں ملی چہروں میں دوسروں کے تجھے ڈھونڈتے رہے صورت نہیں ملی تو کہیں سیرت نہیں ملی بہت دیر سے آیا تھا وہ میرے پاس یاروں  الفاظ ڈھونڈنے کی بھی مہلت نہیں ملی تجھے گلہ تھا کہ توجہ نہ ملی تجھے مگر ہم کو تو خود اپنی محبت نہیں ملی ہمیں تو تیری ہر عادت اچھی لگی پر افسوس تیری عادت سے میری عادت نہیں ملی 

غموں کو اگر ہم سے دل لگی نہیں ہو گی

 غموں کو اگر ہم سے دل لگی نہیں ہو گی ہمیں یقین ہے کہ پھر شاعری نہیں ہو گی تمھاری یاد کے دل میں چراغ جلتے ہیں یہ بُجھ گئےتو یہاں روشنی نہیں ہو گی ہم نے تو تمام عمر گزاری ہے آبیاری میں مگر یہ شاخ تمنا کبھی میری نہیں ہو گی میں تو راہ حق کا ہی مسافر ہوں مسعود میرے دُکھوں میں زرا بھی کمی نہیں ہو گی

جب میں چھوٹا سا تھا

جب میں چھوٹا سا تھا شاید دنیا بہت بڑی ہوا کرتی تھی  مجھے یاد ہے میرے گھر سے اسکول تک کا وہ راستہ  کیا کیا نہیں تھا راستے میں وہاں چاٹ کے ٹھیلے جلیبی کی دکان  برف کے گولے اور بہت کچھ  اب وہاں موبائل شاپ  ویڈیو پارلر ہیں  پھر بھی سب سُونا ہے  شاید اب دنیا سمٹ رہی ہے جب میں چھوٹا سا تھا شاید شامیں بہت لمبی ہوا کرتی تھیں  مجھے یاد ہے  میں ہاتھ میں پتنگ کی ڈور پکڑے گھنٹوں اڑا کرتا تھا وہ لمبی سائیکل ریس وہ بچپن کے کھیل  وہ ہر شام تھک کے چور ہو جانا اب وہاں شام نہیں ہوتی دن ڈھلتا ہے اور براہ راست رات ہو جاتی ہے شاید وقت سمٹ رہا ہے  جب میں چھوٹا سا تھا شاید دوستی بہت گہری ہوا کرتی تھی دن بھر وہ ہجوم بنا کر کھیلنا وہ دوستوں کے گھر کا کھانا وہ لڑکیوں کی باتیں  وہ ساتھ رونا  اب بھی میرے کئی دوست ہیں پر دوستی جانے کہاں ہے جب بھی ٹریفک سگنل پر ملتے ہیں ہلو ہلو ہو جاتی ہے اور پھر اپنے اپنے راستے چل دیتے ہیں  چھوٹی عید ہو یا بڑی عید شادی ہو یا سالگرہ خُوشی ہو ی...

خلُوص

خلُوص محمد مسعود کبھی کسی کے خلوص کو نہ ٹھکرائیں کیونکہ ہر انسان کے سینے میں دل ہوتا ہے  وہ چاہے غریب کی بستی ہو یا امیر کی ہو دل میں خُدا رہتا ہے دل تو خُدا کا گھر ہے ہم کسی کا دل توڑتے ہیں  تو اپنے رب کو ناراض کرتے ہیں  اگر ہمیں اپنے کئے پر سزائیں ملنے لگیں تو کہیں کے نہ رہیں  کیونکہ وہ سب کُچھ دیکھتا ہے  اور انصاف کرنے والا ہے

بہت سی باتیں بتانی ہیں تجھے

بہت سی باتیں بتانی ہیں تجھے محمد مسعود میرے گاؤں میں سمندر نہیں ہے کچھ قطرے پانیوں کے قید ہیں تالاب میں جب بھی میں وطن واپس جاتا ہوں تو ایک شام وہاں گزار دیتا ہوں مسجد والے تالاب کی سیڑھیوں پر تالاب کا پانی بدلتا نہیں کبھی پانی قید ہے وہاں   شاید اسی لیے پہچانتا ہے مجھے جب بھی میں جاؤں وہاں تو کہتا ہے اچھا ہوا مسعود تو آ گیا  بہت سی باتیں بتانی ہے تجھے  اور پھر شروع ہو جاتا ہے وہ فلاں کی دادی فوت ہو گی  فلاں کے گھر بیٹا ہوا ہے فلاں بابو کی نوکری چھوٹ گئی مغرب کی طرف کا پیپل کا درخت کاٹ دیا سڑک بنانے والوں نے وغیرہ وغیرہ پھر مجھ سے مخاطب ہو کر پوچھتا ہے مسعود اچھا یہ تو بتا شہر کے مزاج کیسے ہیں کون بتاتا ہے تجھے خبریں شہر کی  میں جواب دیتا ہو  سمندر ہے نا  ڈھیر سارا پانی  اور اتنا کہتے ہی  ایک بگولا پانی کا گلے میں اٹک جاتا ہے خُدا حفظ کہہ کہ چلا آتا ہوں واپس شہر میں جہاں ایک بڑا سا سمندر ہے روز سمندر کے کنارے بیٹھا دیکھتا ہوں کیسے سینکڑوں گیلن پانی  بدل جاتے...

رات گُزری اُن کے انتظار میں

رات گُزری اُن کے انتظار میں محمد مسعود رات گُزری اُن کے انتظار میں اور آنُسو بہتے رہے پیار میں تنہائی کی چادر تن سے لپٹے بیھٹے رہے سانسوں کے منجدار میں  تھا خامُوش منظر بدلا بدلا دل بھی نہ تھا اختیار میں وہ آئیں گے سوچتا رہا میں کھلیں گی کلیاں پھر سے بہار میں بے وجہ نکل پڑا تھا ایک دن مسعود پیار ڈھونڈنے کے لیے اِس جہان میں Poet: MOHAMMED MASOOD NOTTINGHAM  UK

میں رات گئے تک جاگوں گا

میں رات گئے تک جاگوں گا کچھ دوست بہت یاد آئیں گے کچھ باتیں تھیں پھولوں جیسی کچھ خوشبو جیسے لہجے تھے میں جب بھی چمن میں ٹہلوں گا کچھ دوست بہت یاد آئیں گے وہ پل بھر کی ناراضگی اور مان بھی جانا پل بھر میں میں خود سے جب بھی روٹھوں گا کچھ دوست بہت یاد آئیں گے