اشاعتیں

جنوری, 2015 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ایسا نہیں کہ ہم کو محبت نہیں ملی

ایسا نہیں کہ ہم کو محبت نہیں ملی محمد مسعود نونٹگھم یو کے ایسا نہیں کہ ہم کو محبت نہیں ملی تجھے چاہتے تھے پر تیری الفت نہیں ملی ملنے کو تو زندگی میں کئی ہمسفر ملے پر ان کی طبیعت سے اپنی طبیعت نہیں ملی چہروں میں دوسروں کے تجھے ڈھونڈتے رہے صورت نہیں ملی تو کہیں سیرت نہیں ملی بہت دیر سے آیا تھا وہ میرے پاس یاروں  الفاظ ڈھونڈنے کی بھی مہلت نہیں ملی تجھے گلہ تھا کہ توجہ نہ ملی تجھے مگر ہم کو تو خود اپنی محبت نہیں ملی ہمیں تو تیری ہر عادت اچھی لگی پر افسوس تیری عادت سے میری عادت نہیں ملی 

غموں کو اگر ہم سے دل لگی نہیں ہو گی

 غموں کو اگر ہم سے دل لگی نہیں ہو گی ہمیں یقین ہے کہ پھر شاعری نہیں ہو گی تمھاری یاد کے دل میں چراغ جلتے ہیں یہ بُجھ گئےتو یہاں روشنی نہیں ہو گی ہم نے تو تمام عمر گزاری ہے آبیاری میں مگر یہ شاخ تمنا کبھی میری نہیں ہو گی میں تو راہ حق کا ہی مسافر ہوں مسعود میرے دُکھوں میں زرا بھی کمی نہیں ہو گی

جب میں چھوٹا سا تھا

جب میں چھوٹا سا تھا شاید دنیا بہت بڑی ہوا کرتی تھی  مجھے یاد ہے میرے گھر سے اسکول تک کا وہ راستہ  کیا کیا نہیں تھا راستے میں وہاں چاٹ کے ٹھیلے جلیبی کی دکان  برف کے گولے اور بہت کچھ  اب وہاں موبائل شاپ  ویڈیو پارلر ہیں  پھر بھی سب سُونا ہے  شاید اب دنیا سمٹ رہی ہے جب میں چھوٹا سا تھا شاید شامیں بہت لمبی ہوا کرتی تھیں  مجھے یاد ہے  میں ہاتھ میں پتنگ کی ڈور پکڑے گھنٹوں اڑا کرتا تھا وہ لمبی سائیکل ریس وہ بچپن کے کھیل  وہ ہر شام تھک کے چور ہو جانا اب وہاں شام نہیں ہوتی دن ڈھلتا ہے اور براہ راست رات ہو جاتی ہے شاید وقت سمٹ رہا ہے  جب میں چھوٹا سا تھا شاید دوستی بہت گہری ہوا کرتی تھی دن بھر وہ ہجوم بنا کر کھیلنا وہ دوستوں کے گھر کا کھانا وہ لڑکیوں کی باتیں  وہ ساتھ رونا  اب بھی میرے کئی دوست ہیں پر دوستی جانے کہاں ہے جب بھی ٹریفک سگنل پر ملتے ہیں ہلو ہلو ہو جاتی ہے اور پھر اپنے اپنے راستے چل دیتے ہیں  چھوٹی عید ہو یا بڑی عید شادی ہو یا سالگرہ خُوشی ہو ی...

خلُوص

خلُوص محمد مسعود کبھی کسی کے خلوص کو نہ ٹھکرائیں کیونکہ ہر انسان کے سینے میں دل ہوتا ہے  وہ چاہے غریب کی بستی ہو یا امیر کی ہو دل میں خُدا رہتا ہے دل تو خُدا کا گھر ہے ہم کسی کا دل توڑتے ہیں  تو اپنے رب کو ناراض کرتے ہیں  اگر ہمیں اپنے کئے پر سزائیں ملنے لگیں تو کہیں کے نہ رہیں  کیونکہ وہ سب کُچھ دیکھتا ہے  اور انصاف کرنے والا ہے

بہت سی باتیں بتانی ہیں تجھے

بہت سی باتیں بتانی ہیں تجھے محمد مسعود میرے گاؤں میں سمندر نہیں ہے کچھ قطرے پانیوں کے قید ہیں تالاب میں جب بھی میں وطن واپس جاتا ہوں تو ایک شام وہاں گزار دیتا ہوں مسجد والے تالاب کی سیڑھیوں پر تالاب کا پانی بدلتا نہیں کبھی پانی قید ہے وہاں   شاید اسی لیے پہچانتا ہے مجھے جب بھی میں جاؤں وہاں تو کہتا ہے اچھا ہوا مسعود تو آ گیا  بہت سی باتیں بتانی ہے تجھے  اور پھر شروع ہو جاتا ہے وہ فلاں کی دادی فوت ہو گی  فلاں کے گھر بیٹا ہوا ہے فلاں بابو کی نوکری چھوٹ گئی مغرب کی طرف کا پیپل کا درخت کاٹ دیا سڑک بنانے والوں نے وغیرہ وغیرہ پھر مجھ سے مخاطب ہو کر پوچھتا ہے مسعود اچھا یہ تو بتا شہر کے مزاج کیسے ہیں کون بتاتا ہے تجھے خبریں شہر کی  میں جواب دیتا ہو  سمندر ہے نا  ڈھیر سارا پانی  اور اتنا کہتے ہی  ایک بگولا پانی کا گلے میں اٹک جاتا ہے خُدا حفظ کہہ کہ چلا آتا ہوں واپس شہر میں جہاں ایک بڑا سا سمندر ہے روز سمندر کے کنارے بیٹھا دیکھتا ہوں کیسے سینکڑوں گیلن پانی  بدل جاتے...

رات گُزری اُن کے انتظار میں

رات گُزری اُن کے انتظار میں محمد مسعود رات گُزری اُن کے انتظار میں اور آنُسو بہتے رہے پیار میں تنہائی کی چادر تن سے لپٹے بیھٹے رہے سانسوں کے منجدار میں  تھا خامُوش منظر بدلا بدلا دل بھی نہ تھا اختیار میں وہ آئیں گے سوچتا رہا میں کھلیں گی کلیاں پھر سے بہار میں بے وجہ نکل پڑا تھا ایک دن مسعود پیار ڈھونڈنے کے لیے اِس جہان میں Poet: MOHAMMED MASOOD NOTTINGHAM  UK

میں رات گئے تک جاگوں گا

میں رات گئے تک جاگوں گا کچھ دوست بہت یاد آئیں گے کچھ باتیں تھیں پھولوں جیسی کچھ خوشبو جیسے لہجے تھے میں جب بھی چمن میں ٹہلوں گا کچھ دوست بہت یاد آئیں گے وہ پل بھر کی ناراضگی اور مان بھی جانا پل بھر میں میں خود سے جب بھی روٹھوں گا کچھ دوست بہت یاد آئیں گے

اِن آنکھوں سے رواں رات بات ہو گی

اِن آنکھوں سے رواں رات برسات ہو گی اگر زندگی صرف جذبات ہو گی مسافر ہو تم مسافر ہیں ہم بھی کسی موڑ پر پھر ملاقات ہو گی صداؤں کو الفاظ ملنے نہ پائیں نہ بادل گرجیں گے نہ برسات ہو گی چراغوں کو آنکھوں میں محفوظ رکھنا بڑی دور تک رات ہی رات ہو گی ازل سے ابد تک سفر ہی سفر ہے  کہیں صبح ہو گی کہیں رات ہو گی

اب جو رُوٹھے تو کبھی منانا نہیں جا کر

اب جو رُوٹھے تو کبھی منانا نہیں جا کر سہہ لیں گے دُکھ اِسے سنانا نہیں جا کر لوٹ آئے گا ضرور اگر وہ میرا ہوا تو آج سے طے ہوا خود بلانا نہیں جا کر  اِسے چاہا ہے اِسے چاہتے رہیں گے اِس کے دل میں کیا ہے آزمانا نہیں جا کر ملے تو برسا دیں گے ہم  اپنا پیار اِس پر  نہیں تو حالِ دل بھی بتانا نہیں جا کر محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے 

محبت زندگی کا سفر

محبت زندگی کا سفر محمد مسعود نونٹگھم  محبت کا سفر بھی کیا سفر ہے جو ادھورا ہو نہیں سکتا محبت کا مسافر چاہے چکنا چُور ہو  تھک نہیں سکتا کبھی راستے میں رُک نہیں سکتا اور اِس میں واپسی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی محبت زندگی کا سفر ہے

محبت

محبت محبت نہ کرنا انسان کے بس میں نہیں ہوتا محبت کیوں کی کی نہیں جاتی ہو جاتی ہے اگر محبت دو فریقوں کے درمیان میں ہو تو زندگی جنت اور اگر محبت کے شکنجے میں ایک ہی انسان پھنس جائے تو دوسرا نہ کر پائے تو زندگی جہنم سے کم نہیں  محمد مسعود نونٹگھم یوکے میڈوز

ہمیں گہری نیند سونے دو

ہمیں گہری نیند سونے دو محمد مسعود نونٹگھم یو کے ہمیں گہری نیند سونے دو آ جاؤ ہم حواسوں میں نہیں  ہمارے سارے خواب نوچ لو  ہمیں گہری نیند سونے دو ہمیں کھونے دو وہ ساری یادیں جو آتی ہیں ہمیں تیری وہ ساری راتیں جو ہجر میں تیرے ہمیں اب تھک کے چُور ہونے دو ہمیں گہری نیند سونے دو ہمیں گہری نیند سونے دو

اِے دل اِسے کبھی توبُھول جایا کرو

اِے دل اِسے کبھی تو بُھول جایا کرو محمد مسعود نونٹگھم یو کے اِے دل اِسے کبھی تو بُھول جایا کرو دیکھنا وہ ایک دن تُجھے چھوڑ جائے گا نہ اِسے اتنا تم ستایا کرو اتنا اعتبار بھی اچھا نہیں ہوتا شدتِ غم سے سینہ پھٹ جائے گا آنکھ سے کچھ آنُسو بہایا کرو اِس جیسا تُجھے کہیں مل نہیں سکتا ہزار بار بھی رُوٹھے تو منایا کرو یہاں بعد مُدت کوئی سُکھ ملتا ہے  ہاتھ آئی خوشی یوں نہ گنوایا کرو

کچھ راز ہیں میرے سینے میں

کچھ راز ہیں میرے سینے میں محمد مسعود نونٹگھم  کچھ راز ہیں میرے سینے میں  دن بہت کم ہیں میرے جینے میں مجھے دھیرے دھیرے کہنے دو مجھے اپنے دل میں رہنے دو  میری بوجھل پلکیں کہتی ہیں  مجھ کو یقین سچ کہتی ہیں میں سب کچھ کھونا چاہتی ہوں بس تیری بس تیری ہونا چاہتی ہوں عجیب خواہش میں کھو جاؤں تیری گود میں سر رکھ کے سو جاؤں مجھ پر ایک احسان کر دو ایک دن میرے نام کر دو پھر نہ میں لوٹ کے آؤں گی نہیں تجھ کو کبھی ستاؤں گی کچھ راز ہیں میرے سینے میں  دن بہت کم ہیں میرے جینے میں

موسم بہار میں تنہا ہوۓ تو ہم رو پڑے

موسم بہار میں تنہا ہوۓ تو ہم رو پڑے محمد مسعود نوٹیگم یو کے موسم بہار میں تنہا ہوۓ تو ہم رو پڑے ملے ملاۓ دوست کھوۓ تو ہم رو پڑے بانہوں پہ سونے کی ایسی فطرت بنی آج تنہا جب سوۓ تو ہم رو پڑے جب دل غمگین ہوا ہم نے برداشت کی آنکھوں نے آنسو پروۓ تو ہم رو پڑے وہ سپنوں میں تو بہت خوش ہو گۓ سپنوں کے اختتام ہوۓ تو ہم رو پڑے اتنا عادی کیا کسی نےپھولوں کا مجھے کسی نے کانٹے چھبوۓ تو ہم رو پڑے سوچا تھا خوش دلی سے لکھیں گے غزل  مگر قلم سیاہی میں جب ڈبوۓ تو ہم رو پڑے

چھوڑ دی تیری دنیا تیری خوشی کے لیے

چھوڑ دی تیری دنیا تیری خوشی کے لیے محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے چھوڑ دی تیری دنیا تیری خوشی کے لیے جی سکیں گے نہ اب ہم اور کسی کے لیے تیرا ملنا اور بچھڑنا ایک خواب تھا تیری چاہت تو تھی دل لگی کے لیے میرے آنگن میں ہر سو اندھیرا رہا چراغ ڈھونڈا بہت روشنی کے لیے اپنی قسمت میں اشکوں کی سوغات تھی ہم تو ترستے رہے ایک ہنسی کے لیے تیری جدائی سے بڑھ کر اور کیا غم ہو گا مسعود زخم کافی ہیں یہی زندگی کے لیے

اچھا ہوا تو نہیں اُمید نہیں آس نہیں یاد نہیں

اچھا ہوا تو نہیں اُمید نہیں آس نہیں یاد نہیں محمد مسعود نونٹگھم یو کے اچھا ہوا تو نہیں اُمید نہیں آس نہیں یاد نہیں  اب ہم تنہا ہوئے تو جینا سیکھ لیں گے ہم  پہلے غم کی تشہیر کر دیا کرتے تھے ہم  اب غموں کو تو پینا سیکھ لیں گے ہم جن کے آنے پہ تم نظریں چرا بیٹھے ہو جب اُنہوں نے وفا کی تو دیکھ لیں گے ہم جل چکا ہے آشیانہ حفاظت کیا ہے ضرورت ہم ہر بڑھتے ہوئے طوفان کو روگ لیں گے ہم  پہلے کی طرح تیرے دھوکے میں نہ آئیں گے ہم  اپنی منزل کے لیے خود ہی سوچ لیں گے ہم

تُجھے مناؤں تو مان جانا

میں اپنی راتوں کی فرصتُوں میں تُجھے  مناؤں تو مان جانا اگر کسی دن میں اپنے آنسُو بھی  لے کے آؤں تو مان جانا تو خوش نہیں ہے میری بقا پر تو صرف  اتنا بتا دے مجھ کو تیری خوشی کے لیے میں اگر سُولی پہ  مسکراؤں تو مان جانا تو بد گمان ہے میری وفا سے ایک بار  تو آزما لے مجھ کو جو ہار جاؤں تو لوٹ جانا  جو جیت جاؤں تو مان جانا

سمندر سے پوچھو

سمندر سے پوُچھو محمد مسعود نونٹگھم یو کے سمندر کی لہروں سے پوُچھو ۔۔۔۔ پیار کیا ہے کسی اجنبی سے کسی مسافر سے پُوچھو کسی سے بھی پُوچھو کسی بھی طرح پُوچھو  پیار کیا ہے پیار ایک میٹھا موسم ہے کبھی آنُسوؤں بھرتا ہے کبھی مسکراہٹوں میں بھرتا ہے پیار زندگی کی آباد گاہ ہے جو کسی کے دل میں کسی کے لیے دھڑکتا ہے پیار ایک پُر سُرور خوشبو ہے جو دلوں میں سِمٹتا ہے مچلتا ہے پیار نہ جانے پیار کیا ہے حُسن زندگی جانے پیار کیا ہے

قیامت تین منٹ دور

قیامت تین منٹ دور 23/01/2015 محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے بلیٹن آف اٹامک سائنٹسٹس نامی گروپ نے 'قیامت کی گھڑی' کو دو منٹ آگے بڑھادیا ہے جس کے بعد یہ آدھی رات سے صرف تین منٹ دور رہ گئی ہے۔ قیامت کی گھڑی کو 1947 میں بنایا گیا تھا۔ اسے 18 مرتبہ تبدیلی کیا جاچکا ہے۔ 1953 میں یہ گھڑی آدھی رات سے دو منٹ دوری پر تھی جبکہ 1991 میں یہ 17 منٹ دور کردی گئی تھی۔ یہ گھڑی 2012 سے آدھی رات سے پانچ منٹ کے فاصلے پر تھی تاہم اب اسے دو منٹ آگے کردیا گیا ہے اور اب یہ تین منٹ کی دوری پر رہ گئی ہے۔ آخری مرتبہ یہ 1983 میں اس پوزیشن پر آئی تھی جب امریکا اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ چل رہی تھی۔ گروپ کے ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر کینٹ بینیڈکٹ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور نیوکلیئر ہتھیاروں کی دوڑ اور بڑی تعداد میں موجود ان کے اثاثوں کی وجہ سے انسانی تہذیب کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے رہنما شہریوں کو اس ممکنہ تباہی سے بچانے میں ناکام رہے ہیں۔ سائنسدانوں نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے رہنماؤں پر اس حوالے سے کارروائی پر زور ڈالیں تاکہ فاسل فیول سے پیدا ہونے والی آل...

بہت سی باتیں بتانی ہیں تجھے

بہت سی باتیں بتانی ہیں تجھے محمد مسعود میرے گاؤں میں سمندر نہیں ہے کچھ قطرے پانیوں کے قید ہیں تالاب میں جب بھی میں وطن واپس جاتا ہوں تو ایک شام وہاں گزار دیتا ہوں مسجد والے تالاب کی سیڑھیوں پر تالاب کا پانی بدلتا نہیں کبھی پانی قید ہے وہاں   شاید اسی لیے پہچانتا ہے مجھے جب بھی میں جاؤں وہاں تو کہتا ہے اچھا ہوا مسعود تو آ گیا  بہت سی باتیں بتانی ہے تجھے  اور پھر شروع ہو جاتا ہے وہ فلاں کی دادی فوت ہو گی  فلاں کے گھر بیٹا ہوا ہے فلاں بابو کی نوکری چھوٹ گئی مغرب کی طرف کا پیپل کا درخت کاٹ دیا سڑک بنانے والوں نے وغیرہ وغیرہ پھر مجھ سے مخاطب ہو کر پوچھتا ہے مسعود اچھا یہ تو بتا شہر کے مزاج کیسے ہیں کون بتاتا ہے تجھے خبریں شہر کی  میں جواب دیتا ہو  سمندر ہے نا  ڈھیر سارا پانی  اور اتنا کہتے ہی  ایک بگولا پانی کا گلے میں اٹک جاتا ہے خُدا حفظ کہہ کہ چلا آتا ہوں واپس شہر میں جہاں ایک بڑا سا سمندر ہے روز سمندر کے کنارے بیٹھا دیکھتا ہوں کیسے سینکڑوں گیلن پانی  بدل جاتے...

رات گُزری اُن کے انتظار میں

رات گُزری اُن کے انتظار میں محمد مسعود رات گُزری اُن کے انتظار میں اور آنُسو بہتے رہے پیار میں تنہائی کی چادر تن سے لپٹے بیھٹے رہے سانسوں کے منجدار میں  تھا خامُوش منظر بدلا بدلا دل بھی نہ تھا اختیار میں وہ آئیں گے سوچتا رہا میں کھلیں گی کلیاں پھر سے بہار میں بے وجہ نکل پڑا تھا ایک دن مسعود پیار ڈھونڈنے کے لیے اِس جہان میں Poet: MOHAMMED MASOOD NOTTINGHAM  UK

تم سے دور رہوں بھی مگر کیسے

تم سے دُور رہوں مگر کیسے Tum Se Door Rahoon Magar Kaise Poet: محمد مسعود نونٹگھم  Tum Se Door Rahoon bhi Magar Kaise Haal-E-Dil  Kahoon bhi Magar Kaise تم سے دُور رہوں بھی مگر کیسے حالِ دل کہوں بھی مگر کیسے   Bahut Samjhaya Is Pagal Dil Ko  Dil Ko Mazboor Karoon bhi Magar Kaise بہت سمجھایا اِس پاگل دل کو  دل کو مجبُور کروں بھی مگر کیسے Kuchh Toh Kahtay Hain Aankho Se Woh Bhi Woh Baat Kagaz Par Likoon bhi Magar Kaise کُچھ تو کہتے ہیں آنکھوں سے وہ بھی وہ بات کاغذ پر لکھوں بھی مگر کیسے Waqt Ki Lahron Se Main Waakif Toh Hoon Waqt Ke Safar Ko Samjhun bhi Magar Kaise وقت کی لہروں سے میں واقف تو ہوں  وقت کے سفر کو سمجھاؤں بھی مگر کیسے Har Gham Uttha Lenge Saath Jo Tum Ho Tum Bin Khud Ko Sochun bhi Magar Kaise ہر غم اُٹھا لیں گے ساتھ جو تم ہو  تم بن خُود کو سوچوں بھی مگر کیسے Tum Se Door Rahoon bhi Magar Kaise Haal-E-Dil  Kahoon bhi Magar Kaise  تم سے دُور رہوں ب...

انسان کی مُورت

تصویر
انسان پیار کی مُورت ضروری تو نہیں کہ انسان پیار کی مُورت ہو ضروری تو نہیں کہ انسان  اچھا اور بہت ہی خُوبصورت ہو پر سب سے اچھا انسان وہ ہے جو آپ کے ساتھ ہو جب آپ کو اُس کی  ضرورت ہو محمد مسعود نونٹگھم  یو کے

بیٹی

 بیٹی  تحریر محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے   بیٹی ایک ماں ایک بہن ایک دوست ایک رازدار کا امتزاج ہوتی ہے یہ ایک کشمیرالجہت رِشتہ ہے گھر میں صرف اسکی موجودگی ہی رنگ اور خوشبو بھر دیتی ہے جب تک غیر شادی شدہ ہوتی ہے بیٹی ایک ہمہ وقت شادمانی ہوتی ہے والدین کیلئے ہنسے کھیلنے والی گڑیا ہوتی ہے وہ ماں سے رشتی کی وسعت ہوتی ہے اور باپ کی ہمہ وقت خبرگیری کرتی ہے وہ اپنی تھکی ماندی ماں کا ہاتھ بٹاتی ہے اوراپنے باپ کی پیشانی پر اُنس و محبت بھرا ہاتھ اسکے گھر واپس آنے پررکھتی ہے جب آپ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں جب آپ مایوس ہوں تو آپکو گلے لگا کرشادمانی سے مسکراتی ہے جب آپ اپنی صحت کو نظر انداز کرتے ہیں تو پیار بھری ڈانٹ پلاتی ہے وہ آپکو اپنے محبت بھری انداز سے حیران کر تی ہے  جب بیٹی بیاہی جاتی ہے تواسکی اُداس نگاہیں بتاتی ہیں  کہ وہ آپکو کتنا یاد کرتی ہے اور وہ ہمیشہ مشکل وقت میں آپ کے ہمراہ ہوتی ہے  آپ جانتے ہیں کہ صرف وہ ہی ایک ایسا رِشتہ ہے  جو دیگر تمام  رِشتے داروں کو پسِ پشت ڈال دے گی جب آپکو اُس کی  ضرورت ہو گی  ...

کبھی تم مجھے قریب سے آ کر دیکھنا

کبھی تم مجھے قریب سے آ کر دیکھنا Kabhi tum mujhe kareeb se aa k dekhna محمد مسعود M MASOOD NOTTINGHAM UK Kabhi tum mujhe kareeb se aa k dekhna Aise nahi jara aur paas aa ke dekhna کبھی تم مجھے قریب سے آ کر دیکھنا ایسے نہیں زرا اور پاس آکر دیکھنا Main tum se kitna pyar karta hoon Mujhe kbhi seene se laga kar dekhna میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں مجھے کبھی سینے سے لگا کر دیکھنا Main tumhe ashko ki kataar me najar aaunga Meri yaad me kabhi aansu baha ke dekhna میں تمہیں اشکوں کی قطار میں نظر آؤں گا میری یاد میں کبھی آنسُو بہا کے دیکھنا  Meri ghazal pad kar bhi tum par asar na ho Toh logo ko meri ghazal suna ke dekhna میری غزل پڑھ کر بھی اثر نہ ہو مسعود  تو لوگوں کو میری غزل سُنا کے دیکھنا

بیوٹی پارلر کا کاروبا اسلام کی روح میں

بیوٹی پارلر کا کاروبار  محمد مسعود نوٹنگھم یو کے  آج کل بیوٹی پارلر کا کاروبار خطرناک حد تک مسلم ممالک میں زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اور جہاں تک بیوٹی پارلر کی بات ہے ان پارلرز میں موسیقی ہر وقت چلائی جاتی ہے جو کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی ہے ۔ اور اسلام نے عورتوں کو بہت ساری سجنے سنورنے کے حوالے سے احکامات بتائے ہیں لیکن ان پارلرز میں عورتیں اپنی پلکوں کو نوچواتی ہیں جو کہ اسلام ان چیزوں کو سختی سے منع کرتا ہے۔ ان بیوٹی پارلرز میں کسی بھی قسم کا پردہ نہیں کیا جاتا اور عورتیں ایک دوسرے کے سامنے بغیر پردے کے کام کرتی ہیں ۔ اور زیادہ تر بیوٹی پارلرز میں اسلام کے اصولوں کو مدنظر نہیں رکھا جاتا ۔ کیونکہ اسلام نے عورت کو صرف اور صرف اپنے شوہر کے لیے سجنے سنورنے کا حکم دیا ہے اور عورت کو خوشبو لگا کر گھر سے باہر نکلنے سے منع فرمایا ہے لیکن ان پارلرز میں عورتیں سجنے سنورنے کے علاوہ نہ تو وہ پردہ کرتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خوشبو لگا کر بازاروں میں گھومتی پھرتی ہیں۔ ان پارلرز میں عورتیں مردوں کا روپ دھار کر سجتی سنورتی ہیں حالانکہ نبی کریم ﷺ نے جو عورت...

گھر چھوڑ کر

گھر چھوڑ کر چلا ہوں گھر کو چھوڑ کر نہ جانے جاؤں گا کدھر کوئی نہیں جو ٹوک کر کوئی نہیں جو روک کر کہے کہ لوٹ آئیے میری قسم نہ جائیے محمد مسعود

خوشی اور غم

خوشی اور غم تحریر محمد مسعود نونٹگھم یو کے خوشی  اور غم انسانی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں انسان اگر یہ چاہی کے اس کی زندگی میں ہمیشہ ہی خوشی رہے اسے کبھی غم کا کوئی سایہ نہ ہو تو ایسا ہونا نہ ممکن ہی ہے کیوں کہ خوشی کے ساتھ غم کل ہونا بھی انسان کی زندگی کا حصہ ہوتا ہے . اگر  انسان  کی زندگی میں خوشی ہی خوشی ہی ہو تو انسان اپنے رب کو کبھی یاد نہ کرے کیوں کے انسان نام ہی اسی چیز کا ہے خطا کا پتلا  اسی لئے انسان کی زندگی میں جب جب کوئی خوشی ملے اسے چاہے کے اپنے رب کا شکر ادا کرے جس نے اسے خوشی دی لیکن جب کبھی کوئی غم ملے تو اس پر بھی صبر کرے کیوں کہ میرا رب اپنے بندے پر اس کی بساط سے زیادہ وزن نہیں ڈالتا کیوں کہ وہ سب ہی جانتا ہے خوشی اور غم دونوں ہی اس کے ہاتھ میں ہیں انسان کسی بھی چیز کی خوشی میں زیادہ خوش نہیں رہ سکتا کیوں کہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے یہ بات بھی کہ وہ کسی بھی ایک خوشی میں بہت دائر تک خوش نہیں رہ سکتا یہ سب ایک فرضی چیز ہوتی ہے جیسا کے مجھے اگر کوئی خوشی ملے تو میں کش دائر یا کش دن تک اس کی خوشی محسوس کروں گا اس کے بعد بھول جاؤں گا اسی طرح جب انسان کی ...

خوشی اور غم

خوشی اور غم محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے خوشی اور غم زندگی کی وہ کیفیات ہیں جو ہر انسان پریکے بعد دیگرے طاری ہوتی رہتی ہیں کوئی بھی انسان نہ تو ہمیشہ خوش رہتا ہے اور نہ ہی ہمیشہ اداس جس طرح دن اور رات کا سلسلہ ازل سے جاری ہے اور تا ابد قائم رہے گا اِسی طرح جب تک یہ زندگی ہے ہر ذی حیات انسان کو کسی نہ کسی صورت خوشی اور غم کی کیفیات سے واسطہ بھی رہے گا جس طرح نہ ہی ہر وقت دن رہتا ہے اور نہ ہی رات اسی طرح انسان بھی نہ تو ہمیشہ خوش رہتا ہے اور نہ ہی ہمیشہ اداس یہ خوشی اور غم ہی ہے جوانسان کو اداسی یا مسرت سے دوچار کرتی رہتی ہے اب یہ انسان پر ہے کہ وہ ان دونوں کیفیات میں اپنی شخصیت کا توازن کس طرح برقرار رکھتا ہے۔ خوشی کے لمحات میں اللہ کریم کا شکر ادا کرنا چاہیئے اور غم کے لمحات میں صبر بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے سوگواریت کو اپنے اوپر طاری نہیں کرنا چاہیئے کہ یہ پھر مایوسی کی علامت ہے۔ خود بھی خوش رہیں اور دوسروں کو بھی خوش رکھیں۔ اللہ کرہم سب کو خوش اور آباد رکھے۔آمین          محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے

تو الفاظوں کی طرح مجھ سے کتابوں میں ملا کر

تو الفاظوں کی طرح مجھ سے کتابوں میں ملا کر Tu lafzon ki tarha mujh se kitabon mein mila kar Poet: M MASOOD Nottingham UK  Tu lafzon ki tarha mujh se kitabon mein mila kar Logon ka tujhe dar hai tu khawabon mein mila kar تو الفاظوں کی طرح مجھ سے کتابوں ملا کر لوگوں کا تجھے ڈر ہے تو خوابوں ملا کر Phool ka khushboo se taluk hain zaruri Tu mehak ban kar mujh se gulabon mein mila kar پھول کا خوشبو سے تعلق ہے ضروری تو مہک بن کر مجھ سے گلابوں ملا کر Jise chhu kar main mehsoos kar saku Tu masti ki tarha mujh se sharabon mein mila kar جسے چھو کر میں محسوس کر سکوں تو مستی کی طرح مجھ سے صحرابوں میں ملا کر Main bhi insan hu, hai dar mujhko bhi behakne ka Is waaste tu mujh se hijabon mein mila kar میں بھی انسان ہوں ہے ڈر مجھ کو بھی بہکنے کا  اِس واسطے تو مجھ سے حجابوں میں ملا کر    شاعر محمد مسعود میڈوز نونٹگھم یو کے MOHAMMED MASOOD NOTTINGHAM  UK