ایک ادھوری کہانی
ایک ادھوری کہانی
کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں بس ادھوری رہ جاتی ہیں۔
تحریر: محمد مسعود، نوٹنگھم، برطانیہ
قسط دوم ( آخری حصہ )
انتظار بھی عجیب کیفیت ہے۔ یہ ہمیشہ دروازے پر نظریں جمائے بیٹھنے کا نام نہیں، نہ ہر انتظار میں کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے۔ بعض انتظار بہت خاموش ہوتے ہیں۔ انسان معمول کے مطابق زندگی گزارتا رہتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، ہنستا ہے، اپنے کام کرتا ہے، مگر دل کے کسی گوشے میں ایک چراغ جلتا رہتا ہے جسے نہ وہ بجھاتا ہے اور نہ اس کی روشنی کسی کو دکھاتا ہے۔
شاید کچھ انتظار انسان کی عادت بن جاتے ہیں۔
اور عادتیں جب روح میں اتر جائیں تو انہیں چھوڑنا آسان نہیں رہتا۔
لوگ اکثر کہتے ہیں کہ جو چلا گیا اسے جانے دو، زندگی کسی کے لیے نہیں رکتی، آگے بڑھنا سیکھو۔
بات بالکل درست ہے۔
مگر کہنے اور سہنے والے کے درمیان ہمیشہ ایک فاصلہ رہتا ہے۔
جس نے کسی کو ٹوٹ کر چاہا نہ ہو، اسے بھلانے کا مشورہ بہت آسانی سے دے سکتا ہے۔ جس نے رات کے سناٹے میں کسی کی یاد سے لڑائی نہ کی ہو، اسے یہ کہنا آسان لگتا ہے کہ سوچنا چھوڑ دو۔
دل اگر حکم مانتا تو دنیا میں محبت کا کوئی غم ہی نہ ہوتا۔
ہم خود سے کہتے کہ آج کے بعد فلاں شخص یاد نہیں آئے گا اور دل اطاعت سے اسے بھول جاتا۔
مگر دل کی اپنی دنیا ہے۔
اس پر عقل کی حکومت بہت کم چلتی ہے۔
پردیس میں رہتے ہوئے میں نے تنہائی کی ایک اور شکل دیکھی ہے۔ تنہائی صرف یہ نہیں کہ آپ کے اردگرد کوئی موجود نہ ہو۔ اصل تنہائی شاید وہ ہے جب آپ کے ارد گرد بہت سے لوگ ہوں، مگر جس ایک شخص سے دل کی بات کہنا چاہتے ہوں وہ موجود نہ ہو۔
نوٹنگھم کی سردیوں میں شام جلد اتر آتی ہے۔ بارش، سرد ہوا، بھیگی سڑکیں اور روشنیوں کے عکس کبھی کبھی انسان کو اپنے اندر بہت دور لے جاتے ہیں۔ ایسے میں ماضی کسی بن بلائے مہمان کی طرح آ کر سامنے بیٹھ جاتا ہے۔
آپ اسے جانے کا نہیں کہہ سکتے۔
وہ آپ ہی کا تو حصہ ہوتا ہے۔
میں نے یہاں یہ بھی سیکھا کہ ہر درد دنیا کو نہیں دکھایا جاتا۔ لوگ کچھ دیر ہمدردی کر سکتے ہیں، چند تسلی کے الفاظ کہہ سکتے ہیں، مگر رات کو جب آپ اپنے کمرے میں اکیلے ہوتے ہیں تو آپ کے درد کے ساتھ صرف آپ ہوتے ہیں۔
آخرکار انسان کو اپنے آنسو خود پونچھنے پڑتے ہیں۔
اپنے دل کو خود سمجھانا پڑتا ہے۔
اور اپنے ٹوٹے ہوئے حصوں کو خود اکٹھا کرنا پڑتا ہے۔
شاید یہی زندگی ہے۔
میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ صرف میرے ساتھ زیادتی ہوئی اور دوسرا شخص سراسر غلط تھا۔ رشتوں کے ٹوٹنے کی حقیقت اکثر اتنی سادہ نہیں ہوتی۔ ہر انسان کے پاس اپنی کہانی ہوتی ہے، اپنی وجوہات، اپنی مجبوریاں اور اپنا زاویۂ نظر۔
مگر ایک بات ضرور ہے:
رشتے ختم ہو سکتے ہیں، احترام ختم نہیں ہونا چاہیے۔
محبت باقی نہ رہے تو بھی ایک دوسرے کے گزرے ہوئے وقت کی عزت باقی رہنی چاہیے۔
کسی کے ساتھ برسوں گزارنے کے بعد اسے یوں اجنبی بنا دینا جیسے کبھی جانتے ہی نہ تھے، شاید جدائی سے بھی زیادہ تکلیف دیتا ہے۔
کیونکہ محبت کرنے والا صرف شخص نہیں کھوتا۔
وہ اپنے بہت سے خواب بھی کھو دیتا ہے۔
کچھ مستقبل کے منصوبے جو کبھی حقیقت بننے تھے۔
کچھ باتیں جو ابھی کہنی باقی تھیں۔
کچھ جگہیں جہاں ساتھ جانا تھا۔
کچھ خوشیاں جو مل کر منانی تھیں۔
اور کچھ وعدے جنہیں وقت نے پورا ہونے سے پہلے ہی دفن کر دیا۔
اسی لیے بعض جدائیاں صرف ایک انسان کی جدائی نہیں ہوتیں۔
وہ ایک پورے ممکنہ مستقبل کی موت ہوتی ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ دل کو سنبھلنے میں اتنا وقت لگتا ہے۔
ہم صرف کسی انسان کو نہیں بھلا رہے ہوتے، ہم اس زندگی کو بھی الوداع کہہ رہے ہوتے ہیں جو ہم نے اس کے ساتھ اپنے ذہن میں بنا رکھی تھی۔
پھر وقت آہستہ آہستہ اپنا کام کرتا ہے۔
پہلے ایک دن گزرتا ہے۔
پھر ایک ہفتہ۔
پھر مہینہ۔
اور دیکھتے ہی دیکھتے سال بھی گزر جاتے ہیں۔
درد اپنی شکل بدلنے لگتا ہے۔
جو یاد پہلے آنکھوں میں آنسو لے آتی تھی، کبھی وہی یاد برسوں بعد ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لے آتی ہے۔
انسان سوچتا ہے:
کیا وقت نے مجھے ٹھیک کر دیا؟
شاید نہیں۔
وقت زخم مٹاتا نہیں، ہمیں ان کے ساتھ جینا سکھاتا ہے۔
جسم کے زخم بھر جائیں تو نشان رہ جاتے ہیں اور دل کے زخم بھر جائیں تو یادیں۔
کبھی کوئی انہیں چھو دے تو ہلکی سی ٹیس آج بھی اٹھتی ہے۔
مگر اب انسان چیختا نہیں۔
بس خاموش ہو جاتا ہے۔
میں نے بھی شاید یہی خاموشی سیکھ لی ہے۔
آج کسی کے سامنے بیٹھ کر میں اپنے ماضی کا ذکر کروں تو ممکن ہے بالکل عام لہجے میں کر دوں۔ مگر کچھ جملے لکھتے ہوئے انگلیاں آج بھی رک جاتی ہیں۔
کیونکہ لفظوں کے بھی اپنے زخم ہوتے ہیں۔
“جدائی”
“انتظار”
“یاد”
اور سب سے بڑھ کر:
“خدا حافظ۔”
وہ خدا حافظ جو کبھی کہا ہی نہیں گیا۔
میں نے اس ایک لفظ کے بارے میں بہت سوچا ہے۔
آخر مجھے اس کے نہ کہے جانے کا اتنا دکھ کیوں ہے؟
شاید اس لیے کہ انسان اختتام چاہتا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ زندگی کے ہر باب کا آخری صفحہ ہو۔ ہر سوال کا جواب ہو۔ ہر آنے والے کو خوش آمدید اور ہر جانے والے کو خدا حافظ کہا جائے۔
مگر زندگی کتاب کی طرح ترتیب سے نہیں چلتی۔
کچھ باب درمیان میں ختم ہو جاتے ہیں۔
کچھ سوال بغیر جواب رہ جاتے ہیں۔
کچھ لوگ بغیر بتائے چلے جاتے ہیں۔
اور کچھ رشتے بغیر خدا حافظ کے ختم ہو جاتے ہیں۔
تب انسان کو خود ہی اپنے اندر وہ آخری صفحہ لکھنا پڑتا ہے۔
یہ کام آسان نہیں۔
کیونکہ دل کہیں نہ کہیں امید کو زندہ رکھنا چاہتا ہے۔
چاہے عقل سو دلیلیں دے کہ اب کچھ باقی نہیں، دل ایک چھوٹی سی جگہ خالی رکھتا ہے۔
شاید اسی کو لوگ انتظار کہتے ہیں۔
لیکن عمر کے ساتھ میں نے یہ بھی سمجھا کہ انتظار اور زندگی روک دینے میں فرق ہے۔
کسی کو یاد رکھنا غلط نہیں۔
اپنی پوری زندگی اس یاد کے حوالے کر دینا شاید اپنے ساتھ زیادتی ہے۔
کسی کی محبت کو دل میں عزت کے ساتھ رکھنا ایک خوبصورت احساس ہے، مگر اسی محبت کو اپنی باقی تمام خوشیوں کے راستے میں دیوار بنا دینا شاید محبت نہیں رہتی، سزا بن جاتی ہے۔
اور انسان آخر کب تک خود کو سزا دیتا رہے؟
جس نے جانا تھا، وہ چلا گیا۔
جس نے رکنا تھا، وہ رک جاتا۔
یہ جملہ لکھنا آسان ہے، قبول کرنا بہت مشکل۔
لیکن شاید سکون کی ابتدا قبول کرنے سے ہی ہوتی ہے۔
میں آج بھی اسے برا نہیں کہتا۔
دل دکھا ضرور، بہت دکھا۔ کچھ زخم ایسے بھی ملے جن کا ذکر شاید کبھی نہ کر سکوں۔ مگر محبت اگر کبھی سچی تھی تو اس کے ختم ہونے کے بعد نفرت کیوں ضروری ہو؟
کبھی جس شخص کی خوشی اپنی خوشی محسوس ہوتی تھی، جدائی کے بعد اس کی بربادی کی خواہش کرنا مجھے محبت نہیں لگتی۔
اسی لیے اب دل سے ایک ہی دعا نکلتی ہے:
جہاں بھی ہو، خوش رہو۔
ممکن ہے تمہیں کبھی اندازہ ہی نہ ہوا ہو کہ تمہارے جانے کے بعد کسی نے خود کو کتنی مشکل سے سنبھالا۔
ممکن ہے تمہیں معلوم نہ ہو کہ کچھ راتوں میں تمہاری ایک یاد نے کتنی نیندیں چھینیں۔
ممکن ہے تم نے بہت پہلے سب کچھ بھلا دیا ہو۔
اور شاید یہی بہتر ہے۔
کیونکہ محبت کا آخری درجہ شاید یہ نہیں کہ دوسرا بھی ہمارے درد میں مبتلا ہو۔
شاید آخری درجہ یہ ہے کہ ہم اپنے درد کے باوجود اس کے لیے آسانی مانگ سکیں۔
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں، اگر زندگی میں دوبارہ موقع ملتا تو کیا میں پھر اسی راستے پر چلتا؟
یہ سوال بہت مشکل ہے۔
دل کے زخم کہتے ہیں، نہیں۔
یادوں کی خوبصورتی کہتی ہے، شاید ہاں۔
کیونکہ اگر درد نہ ملتا تو وہ خوبصورت لمحے بھی نہ ملتے۔
اگر جدائی نہ ہوتی تو شاید محبت کی قدر بھی اتنی نہ ہوتی۔
زندگی ہمیں ہر چیز قیمت لے کر دیتی ہے۔
بعض خوبصورت یادوں کی قیمت برسوں کا درد ہوتی ہے۔
اور ہم یہ قیمت تب جانتے ہیں جب سودا ہو چکا ہوتا ہے۔
آج نوٹنگھم کی انہی سرد راتوں میں جب بارش ہوتی ہے تو میں کبھی کبھی کھڑکی کے پاس بیٹھ جاتا ہوں۔ پہلے ایسی راتوں میں دل اس کے لوٹ آنے کا تصور کرتا تھا۔
اب نہیں۔
اب صرف ماضی کو یاد کرتا ہوں۔
کبھی مسکراتا ہوں۔
کبھی آنکھ نم ہو جاتی ہے۔
مگر اب میں اپنے دل کو یہ نہیں کہتا کہ انتظار کرو۔
میں نے سمجھ لیا ہے کہ بعض لوگ واپس آنے کے لیے نہیں جاتے۔
وہ صرف یاد بننے کے لیے جاتے ہیں۔
اور یادوں کے ساتھ جنگ نہیں کی جاتی۔
انہیں دل کے کسی خاموش گوشے میں جگہ دے دی جاتی ہے، جہاں وہ زندگی کے راستے میں رکاوٹ بھی نہ بنیں اور ان کی بے حرمتی بھی نہ ہو۔
میں نے بھی شاید اب اسے وہی جگہ دے دی ہے۔
کوئی پوچھے کہ کیا بھول گئے؟
تو جواب ہوگا:
نہیں۔
بھول جانا ضروری بھی نہیں۔
کچھ لوگ بھلائے نہیں جاتے، بس ان کا انتظار چھوڑ دیا جاتا ہے۔
یہ فرق سمجھنے میں مجھے بہت وقت لگا۔
اور شاید یہی اس پوری ادھوری کہانی کا حاصل ہے۔
میں نے پہلے سوچا تھا کہ میری کہانی اس دن مکمل ہوگی جب وہ واپس آئے گا۔
پھر سوچا شاید اس دن جب مجھے میرے سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔
پھر محسوس ہوا کہ شاید اس دن جب میں اسے مکمل طور پر بھول جاؤں گا۔
آج سمجھ میں آیا کہ ان میں سے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔
کبھی کبھی کہانی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب انسان یہ قبول کر لے کہ اسے ادھورا ہی رہنا تھا۔
ہر تعلق منزل تک پہنچنے کے لیے نہیں بنتا۔
کچھ لوگ راستے میں ملتے ہیں، ہمارے ساتھ کچھ دور چلتے ہیں، ہمیں ہنسنا سکھاتے ہیں، محبت کا احساس دلاتے ہیں اور پھر ایک ایسے موڑ پر الگ ہو جاتے ہیں جہاں سے دونوں کی منزلیں جدا ہوتی ہیں۔
ان کے چلے جانے سے سفر ختم نہیں ہوتا۔
صرف ہم سفر بدل جاتا ہے۔
اور کبھی کبھی انسان کو باقی راستہ اکیلے ہی طے کرنا پڑتا ہے۔
میں نے درد کو مسکرا کر سہنا سیکھا۔
میں نے یادوں کے ساتھ جینا سیکھا۔
میں نے یہ بھی سیکھا کہ ہر خاموشی کا جواب نہیں ملتا، ہر بچھڑا ہوا شخص واپس نہیں آتا اور ہر محبت کا انجام وصال نہیں ہوتا۔
مگر شاید سب سے اہم بات یہ سیکھی کہ کسی کے چلے جانے کے بعد بھی زندگی ختم نہیں ہوتی۔
دل ٹوٹتا ہے مگر دھڑکتا رہتا ہے۔
آنکھ روتی ہے مگر ایک دن پھر کسی خوشی پر چمکتی بھی ہے۔
رات کتنی ہی لمبی ہو، صبح آخر آتی ضرور ہے۔
آج اگر وہ شخص کبھی میری یہ تحریر پڑھ لے تو میں اس سے کوئی سوال نہیں کرنا چاہتا۔
نہ یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں گئے۔
نہ یہ کہ پلٹ کر کیوں نہیں دیکھا۔
نہ یہ کہ کبھی میری یاد آئی یا نہیں۔
بس ایک بات کہنا چاہوں گا:
تم میری زندگی کا ایک ایسا باب تھے جسے میں چاہ کر بھی مٹا نہیں سکتا۔ تمہارے ساتھ جڑی یادوں میں کچھ میری زندگی کے خوبصورت ترین لمحے ہیں اور تمہاری جدائی میں میرے مشکل ترین دن بھی۔
میں دونوں کو قبول کرتا ہوں۔
نہ اب کوئی شکایت ہے، نہ کسی جواب کی ضد۔
اور وہ دو لفظ جو تم جاتے ہوئے نہیں کہہ سکے تھے، شاید آج مجھے ہی کہہ دینے چاہئیں۔
خدا حافظ۔
یہ خدا حافظ نفرت کا نہیں۔
شکایت کا بھی نہیں۔
یہ اس محبت کے احترام میں ہے جو کبھی تھی۔
ان لمحوں کے نام ہے جو گزر گئے۔
ان خوابوں کے نام ہے جو پورے نہ ہو سکے۔
ان آنسوؤں کے نام ہے جو کسی نے نہیں دیکھے۔
اور اس انتظار کے نام ہے جس نے مجھے یہ سکھایا کہ انسان کسی دوسرے کے بغیر تو رہ سکتا ہے، مگر اپنے آپ کو کھو کر نہیں۔
آج بھی کبھی بارش کی بوند کھڑکی پر گرتی ہے تو کوئی پرانی یاد دستک دے دیتی ہے۔
میں دروازہ کھولتا ہوں۔
اسے چند لمحے اپنے پاس بیٹھنے دیتا ہوں۔
پھر خاموشی سے رخصت کر دیتا ہوں۔
کیونکہ اب میں جانتا ہوں:
کچھ لوگ ہماری زندگی سے چلے جاتے ہیں مگر دل سے کبھی مکمل طور پر نہیں جاتے۔ کچھ محبتیں منزل تک نہیں پہنچتیں مگر پھر بھی جھوٹی نہیں ہوتیں۔ کچھ رشتوں کو خدا حافظ کہنے میں برسوں لگ جاتے ہیں، اور کچھ کہانیاں مکمل ہو کر بھی دل میں ہمیشہ “ادھوری” رہتی ہیں۔
شاید میری کہانی بھی ایسی ہی ہے۔
ایک ایسی کہانی جس کا ایک کردار بہت پہلے جا چکا ہے، مگر اس کے چھوڑے ہوئے لفظ، یادیں اور احساس آج بھی کہیں موجود ہیں۔
فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے میں ان یادوں میں رہتا تھا۔
اب وہ یادیں میرے اندر رہتی ہیں۔
اور زندگی...
زندگی اب بھی جاری ہے۔ ( ختم شد )
دعاؤں کا طلبگار محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں