دل کے زخموں کی گہرائی

وہ گئے ہیں تو موسم بھی اب بے کیف سا لگتا ہے مجھے شام کو۔
تیری دوری کی آفت بڑی سنگین ہے کیسے لکھوں اس کڑے انجام کو۔

عمر بھر کی مسافت میں ایک پل سکون نہ ملا ڈھونڈتا رہا صبح و شام کو۔
دل کے زخموں کی گہرائی کو کون ماپے گا کون دے گا میرے علاج کو۔

شہر خاموش تھا، جُگنو بھی نہیں تھے چاند نے تنہا کیا اس مقام کو۔
اب یہ خواہش ہے کہ دنیا سے کنارہ کر لوں، تھام لوں اپنے نئے کام کو۔

وقت آئے گا جب دل کی دُعا قبول ہوگی پھر بدلیں گے بُرے انجام کو۔
دیکھنے میں مگر کیا برائی ہے جی بھر کے تھامو اس پیغام کو۔

ہاتھ پھیلا کے مانگی تھی میں نے یہ روشنی چھوڑ دو اب پرانے الزام کو۔
بس یہی اک تمنا ہے، میں اور تُو ہوں پھر بھول جائیں اس سارے نظام کو۔



دل کے زخموں کی گہرائی یہ غزل کا بنیادی موضوع ہجر اور جدائی کے شدید دکھ کو بیان کرنا ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اپنی محبوبہ کے جانے کے بعد محسوس ہونے والی بے کیفی اور شام کے اداس موسم کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ محبوب کی دوری ایک سنگین آفت ہے جس کا انجام بہت کڑا ہے۔
شاعر ( محمد مسعود ) نے زندگی کو ایک طویل مسافت قرار دیا ہے جہاں اسے کبھی ایک پل کا بھی سکون میسر نہیں آیا اور وہ مسلسل صبح و شام سکون کی تلاش میں رہا ہے۔ غزل کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اس کے دل کے زخموں کی گہرائی کو کوئی نہیں سمجھ سکتا اور نہ ہی اس کے دکھ کا کوئی علاج کر سکتا ہے۔
تنہائی اور اداسی اس قدر ہے کہ رات کا منظر بھی مایوس کن ہے؛ شہر خاموش ہے، جُگنو غائب ہیں، اور چاند نے بھی تنہا چھوڑ دیا ہے۔ اس کیفیت سے تنگ آکر شاعر ( محمد مسعود ) اب دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتا ہے۔
تا ہم، شاعر ( محمد مسعود ) کے دل میں ایک امید بھی باقی ہے کہ ایک وقت آئے گا جب اس کی دعا قبول ہو گی اور حالات کا بُرا انجام بدل جائے گا۔ غزل کا اختتام ایک خوبصورت تمنا پر ہوتا ہے کہ وہ اور اس کا محبوب سب کچھ بھول کر ایک ساتھ ہوں اور پرانے گلے شکوے مٹا دیں۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں