خوابوں کی تعبیر
وہ خواب جو کسی کونے میں دل نے پال رکھا تھا،
حقیقت بن کے آئے گا، ہمارا یہ عہد آج سچا ہے۔
صرف آنکھوں میں سجانا ہی نہیں کافی ہے خوابوں کو،
انہیں تعمیر کرنے کا بھی ہمارا اب ایک عزم پکّا ہے۔
جو مشکل راہ میں آئی، اسے ہم پار کر لیں گے،
ہمارے ہاتھ میں اب تو یقین کا ایک پکا تِکا ہے۔
نہ گھبراؤ کسی ناکامی سے، یہ زندگی کا کھیل ہے،
ہر ایک ٹھوکر سے ہی منزل کا رستہ صاف لِکھا ہے۔
کرو محنت، نہ ہارو حوصلہ اب دوست میرے مسعود،
کہ اب تعبیر کا موسم ہے، دیکھو ستارہ چمک اٹھا ہے۔
خوابوں کی تعبیر یہ غزل خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے پختہ عزم، جدوجہد اور امید کا درس دیتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) کہتا ہے کہ وہ خواب جو دل میں پال رکھے تھے، انہیں اب سچائی میں بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ محض آنکھوں میں خوبصورت منظر سجانے کا وقت نہیں ہے، بلکہ ان خوابوں کی عملی تعمیر کے لیے عزم کو مضبوط کرنے کا وقت ہے۔
غزل کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ راستے میں آنے والی تمام مشکلات اور ناکامیوں سے گھبرانا نہیں چاہیے، کیونکہ یہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ ہر ٹھوکر اور ناکامی دراصل ہمیں ہماری منزل کے قریب لاتی ہے اور راستہ صاف کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اپنے دوست کو مخاطب کرتے ہوئے حوصلہ دیتا ہے کہ اب ہمت نہیں ہارنی، بلکہ محنت کرنی ہے۔ درحقیقت، اب تعبیر کا موسم شروع ہو چکا ہے، یعنی محنت کا پھل ملنے والا ہے، اور امید کا ستارہ چمک اٹھا ہے۔ یہ نظم محنت، یقین اور مستقل مزاجی کے ذریعے خوابوں کی تکمیل کی ترغیب دیتی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں