اشاعتیں

2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

برطانیہ کا سماجی نظام اور انفرادی جکڑ بندیاں

تصویر
برطانیہ کا سماجی نظام اور انفرادی جکڑ بندیاں  ادراک اور بے بسی   برطانیہ جیسے ترقی یافتہ اور منظم معاشرے میں زندگی گزارنا بظاہر ایک خواب کی مانند معلوم ہوتا ہے۔ بلند معیارِ زندگی، قانون کی حکمرانی، معاشی مواقع اور سماجی تحفظ کے نظام نے دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔ لیکن اس چکا چوند کے پیچھے ایک ایسا پیچیدہ اور مشینی نظام کارفرما ہے جو انسان کو اپنی گرفت میں اس طرح جکڑ لیتا ہے کہ جب تک اسے اس کے منفی اثرات کا احساس ہوتا ہے، تب تک واپسی کے تمام راستے مسدود ہو چکے ہوتے ہیں۔   برطانوی معاشرے کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا 'کنزیومر کلچر' (Consumer Culture) یا صارفی نظام ہے۔ یہاں کا پورا ڈھانچہ قرض اور اقساط (Credit and Interest) پر کھڑا ہے۔ گھر، گاڑی، فون، اور یہاں تک کہ روزمرہ کی گھریلو اشیاء بھی قرض کی بنیاد پر حاصل کی جاتی ہیں۔ ایک عام انسان جب اس معاشرے میں قدم رکھتا ہے، تو وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ان سہولیات کا سہارا لیتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ ترقی کر رہا ہے، لیکن درحقیقت وہ ایک ایسے چکر میں پھنس رہا ہوتا ہے جہاں اسے اپنے بلوں اور اقساط کی ادائیگی کے لیے...

قیدِ تنہائی کیسی ہوتی ہے؟

تصویر
قیدِ تنہائی کیسی ہوتی ہے؟ تحریر: محمد مسعود نوٹنگھم یو کے    قیدِ تنہائی صرف چار دیواری میں بند ہو جانے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے اندر پھیل جانے والی ایک ایسی خاموشی ہے جو آہستہ آہستہ روح تک کو چھو لیتی ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان لوگوں کے ہجوم میں بھی خود کو اکیلا محسوس کرنے لگتا ہے۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق ہوتا ہے، مگر دل کے اندر ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے جسے کوئی آواز، کوئی ہنسی اور کوئی مصروفیت بھی پُر نہیں کر پاتی۔ قیدِ تنہائی کی اصل اذیت یہی ہے کہ انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے مگر سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ دل میں سینکڑوں باتیں جمع ہو جاتی ہیں، یادیں، پچھتاوے اور ادھورے خواب… مگر وہ سب خاموشی کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتے ہیں۔ انسان کبھی ماضی میں کھو جاتا ہے اور کبھی مستقبل کی بے یقینی اسے خوفزدہ کر دیتی ہے۔ ایسے میں وقت بھی عجیب سا لگنے لگتا ہے؛ لمحے صدیوں کی طرح گزرنے لگتے ہیں۔ جب انسان قیدِ تنہائی میں ہوتا ہے تو سب سے زیادہ اسے اپنی یادیں ستاتی ہیں۔ وہ چہرے جو کبھی زندگی کا حصہ تھے، وہ لمحے جو کبھی خوشیوں سے بھرپور تھے، اچانک آنکھوں کے سامنے آ ...

بے رحم یادیں

تصویر
​بے رحم یادیں بے رحم یادیں دراصل وہ خاموش مسافر ہیں جو بن بلائے ہمارے ذہن کی دہلیز پر آ بیٹھتی ہیں اور پھر وہاں سے جانے کا نام نہیں لیتیں۔ انسانی زندگی میں یادوں کی حیثیت ایک سائے کی سی ہے، جو دھوپ ہو یا چھاؤں، ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔ لیکن جب یہ یادیں "بے رحم" ہو جائیں، تو یہ محض ماضی کا قصہ نہیں رہتیں بلکہ ایک ایسا مستقل کرب بن جاتی ہیں جو انسان کے حال کو دیمک کی طرح چاٹنے لگتا ہے۔ یادوں کی بے رحمی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ یہ ہمیں ان لمحوں میں قید کر دیتی ہیں جو اب وجود ہی نہیں رکھتے۔ وہ وقت جو گزر گیا، وہ لوگ جو بچھڑ گئے، اور وہ باتیں جو اب قصہ پارینہ بن چکی ہیں، جب وہ یادوں کی صورت میں بار بار سامنے آتی ہیں تو انسان خود کو ایک ایسے قید خانے میں محسوس کرتا ہے جس کی دیواریں نظر نہیں آتیں مگر ان کا بوجھ روح کو تھکا دیتا ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ گزرے ہوئے دکھ سے زیادہ اس دکھ کی یاد تکلیف دہ ہوتی ہے، کیونکہ زخم تو بھر جاتے ہیں لیکن ان کے نشانات جب بھی نظر پڑیں، وہی پرانا درد تازہ کر دیتے ہیں۔ اس بے رحمی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یادیں کبھی انتخاب نہیں کرتیں۔ یہ نہیں دیکھتیں کہ انسا...

ہر درد کا درماں

تصویر
ہر درد کا درماں محبت میں عجب ایک کیف کا ساماں نظر آیا وہ جب مسکائے تو ہر درد کا درماں نظر آیا   ستارے اس لیے شاید زمین پر جھک کے بیٹھے ہیں انہیں تیرے رخِ روشن پہ ایک ایماں نظر آیا   تیری آنکھوں کے ساغر میں عجب جادو ہے اے جاناں خدا کی قسم مجھ کو تو سارا جہاں نظر آیا   وفا کے رستے میں ہم نے قدم رکھا ہے جب سے ہی ہمیں ہر خارِ گلشن بھی گلِ خنداں نظر آیا   غمِ دوراں کے مارے تھے، مگر جب تم ملے ہم کو حیاتِ نو کا ایک دلکش ہمیں عنواں نظر آیا   تیرے قدموں کی آہٹ سے مہک اٹھتی ہے یہ بستی تیرا ہر نقشِ پا ہم کو بہت تاہاں نظر آیا   تیری یادوں کی خوشبو سے ہے میرا دل ابھی روشن محبت کا حسیں جذبہ بہت رقصاں نظر آیا   تڑپتے دل کو اب اے کاش تھوڑی سی اماں مل جائے لبِ خاموش پہ اب شکوہِ ہجراں نظر آیا   مسعود اب تم کہو قصہ اپنی اس محبت کا تمہیں تو عشق میں ہر شخص ہی ناداں نظر آیا       یہ نظم محبت کی گہرائی اور عشق کی شدت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود نے محبوب کی مسکان، رخ روشن اور آنکھوں کے جادو کو اپنے درد کا علاج اور زندگی کی خوشیوں کا ذریعہ ...

How is Mohammed Masood

تصویر
Muhammad Masood: A Renowned Writer and Entrepreneur Based in Nottingham, UK Muhammad Masood is a multifaceted personality with a distinguished reputation in both the literary and business sectors. His journey reflects a perfect balance between creative expression and professional excellence. 1. Literary Identity (Poet & Columnist) Muhammad Masood is an accomplished poet, short story writer, and columnist. His literary portfolio includes a rich collection of poems, stories, and insightful articles on various social and intellectual themes. His work is celebrated for its deep observational quality and a profound connection to his cultural roots. 2. Background and Heritage Originally hailing from the famous village of Rathoa Muhammad Ali in the Mirpur district of Azad Kashmir, his heritage plays a vital role in his creative life. The essence of his homeland is vividly reflected in his writings, offering readers a window into Kashmiri culture, traditions, and values. 3. Professional Li...

How is Mohammed Masood

تصویر
جواب: محمد مسعود (برطانیہ میں مقیم کشمیری ادیب اور کاروباری شخصیت) ​محمد مسعود ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں، جن کی پہچان ادب اور کاروبار دونوں شعبوں میں یکساں طور پر مستحکم ہے۔ ان کے بارے میں تفصیلی معلومات درج ذیل ہیں: ​1. ادبی پہچان (شاعر اور کالم نگار): محمد مسعود ایک منجھے ہوئے شاعر، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ ان کی تحریروں میں نظمیں، کہانیاں اور مختلف سماجی و فکری موضوعات پر آرٹیکلز شامل ہیں۔ ان کا کلام اور نثر ان کی گہری مشاہداتی حس اور اپنی مٹی سے محبت کا عکاس ہے۔ ​2. پس منظر اور جائے پیدائش: ان کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع میرپور کے مشہور گاؤں رٹھوعہ محمد علی سے ہے۔ اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کا رنگ ان کی تخلیقات میں نمایاں نظر آتا ہے، جو قارئین کو کشمیری ثقافت اور اقدار سے روشناس کرواتی ہیں۔ ​3. پیشہ ورانہ زندگی (برطانیہ): محمد مسعود طویل عرصے سے نوٹنگھم، برطانیہ میں مقیم ہیں۔ پیشہ ورانہ طور پر وہ برطانیہ میں اپنا ٹرانسپورٹ کا کاروبار (Transport Business) کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ وہ ایک کامیاب بزنس مین ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی کمیونٹی میں ایک باوقار مقام رکھتے ہیں۔ ​4. رابطہ اور رسا...

How is Mohammed Masood from Nottingham

تصویر
Mohammed Masood Nottingham – Urdu Poet Name: Mohammed Masood Nottingham Also Known As: M Masood Nottingham UK Born: Rathua Muhammad Ali, Mirpur, Azad Kashmir, Pakistan Residence: Nottingham, United Kingdom Occupation: Urdu Poet, Writer, Blogger Language: Urdu Genres: Ghazal, Poetry, Prose Themes: Migration, Love, Homeland Nostalgia, Spirituality, Social Reflection Biography: Mohammed Masood Nottingham is a contemporary Urdu poet living in Nottingham, UK. He originally hails from Mirpur, Azad Kashmir, and has become known for his evocative ghazals and reflective poetry. His work captures the emotional depth of migration, longing for homeland, love, and spiritual contemplation. Masood’s poetry combines classical Urdu traditions with accessible language, making it appealing to a wide readership. He actively shares his work online via literary platforms and his personal blog, “M Masood Nottingham UK,” reaching Urdu readers worldwide. Online Search Keywords: Mohammed Masood Nottingham Moham...

فریبِ بندگی

تصویر
فریبِ بندگی ​تمہاری یاد کی وہ پرانی سی ایک ایک بات رُلا دیتی ہے ​ہمیں تو تنہائی میں اب گزری ہوئی ہر رات رُلا دیتی ہے ​بڑے ہی حوصلے سے جیتے ہیں ہم اس جہاں کے اندر ​مگر کبھی اپنوں کی دی ہوئی وہ ایک مات رُلا دیتی ہے ​خوشی کے رنگ میں بھی چھپا ہوتا ہے ایک گہرا غم ​کبھی کبھی تو ہمیں خوشیوں کی یہ برسات رُلا دیتی ہے ​سنا ہے پتھروں کے سینے میں بھی تو ایک دل ہوتا ہے ​مگر ہمیں تو انسانوں کی لکھی ہوئی اوقات رُلا دیتی ہے ​بہت ہی ضبط سے جیتا ہے زمانے میں یہ مسعود لیکن ​اسے تو مخلص لوگوں کی بس چھوٹی سی بات رُلا دیتی ہے ​ یہ نظم "فریبِ بندگی" انسانی احساسات، تنہائی، دکھ اور باطنی کرب کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود ماضی کی یادوں کو ایسا بوجھ قرار دیتا ہے جو ہر لمحہ آنکھیں نم کر دیتا ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ بظاہر مضبوط حوصلے کے ساتھ زندگی گزارنے کے باوجود اپنوں کی دی ہوئی شکست اور بے رخی دل کو گہرے زخم دیتی ہے۔ خوشیوں کی چمک میں بھی ایک پوشیدہ غم موجود ہے جو کبھی کبھی شدت سے محسوس ہوتا ہے۔ شاعر محمد مسعود انسانی رویّوں کی سنگدلی پر افسوس کرتا ہے اور کہتا ہے کہ پتھروں میں بھی دل ہ...

تیری خوشبو کے موسم

تصویر
تیری خوشبو کے موسم چاندنی رات تھی، تُو بھی قریب آیا تھا دل نے پہلی ہی نظر میں تجھے اپنایا تھا تیری آنکھوں میں عجب سا کوئی جادو دیکھا میں نے ہر خواب کو پلکوں پہ سجایا تھا تیری باتوں کی مہک آج بھی سانسوں میں ہے جیسے گلشن میں کوئی پھول کھلایا تھا تیرے لمس کی حرارت ابھی باقی ہے مجھ میں جیسے برفوں کو کسی نے بھی پگھلایا تھا تو جو ہنستا ہے تو لگتا ہے بہار آتی ہے تو جو روٹھے تو زمانہ بھی خفا پایا تھا رات تنہائی میں جب تیرا خیال آتا ہے میں نے خود کو تیری بانہوں میں سمایا تھا عشق میں ڈوب کے جینا ہی مزہ دیتا ہے یہ سبق تُو نے ہی "مسعودؔ" کو سکھایا تھا یہ غزل محبت کے ایک لطیف اور خوشبودار احساس کی عکاسی کرتی ہے جس میں شاعر محمد مسعود اپنے محبوب کے ساتھ گزارے گئے حسین لمحات کو یاد کرتا ہے۔ چاندنی رات میں پہلی ملاقات کا منظر دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتا ہے اور پہلی نظر کی چاہت عمر بھر کا رشتہ بن جاتی ہے۔ محبوب کی آنکھوں کا جادو، باتوں کی مہک اور لمس کی حرارت شاعر محمد مسعود کے وجود میں آج بھی زندہ ہیں۔ وہ محبوب کی مسکراہٹ کو بہار سے تشبیہ دیتا ہے اور اس کی ناراضی کو پورے زمان...

خاموش راز

تصویر
کسی کو کیا خبر ہے دل پہ کیا گزری ہوئی ہے میں ہنستا ہوں مگر آنکھوں میں ایک نمی چھپی ہوئی ہے میرے اور میرے رب کے سوا کون جانے حالِ دل یہ کیسی آگ ہے جو روح میں جلی ہوئی ہے اپنوں کی محفلوں میں بھی تنہا کھڑا ہوں میں میرے نصیب میں شاید یہ خاموشی لکھی ہوئی ہے لبوں پہ ذکرِ شکر ہے، دل میں طوفان بے کنار یہ زندگی بھی کیسی آزمائش بنی ہوئی ہے ہر ایک چہرہ ملا، پر سکونِ دل نہ مل سکا ہر ایک خوشی بھی جیسے ادھوری رچی ہوئی ہے مسعودؔ اپنے درد کو اشعار میں ڈھال دے یہی دوا ہے جو تجھے رب نے عطا کی ہوئی ہے                         شاعر محمد مسعود نوٹنگھم یو کے  یہ غزل انسان کے باطنی احساسات، تنہائی اور دل کے پوشیدہ دکھوں کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود بیان کرتا ہے کہ اس کی زندگی میں جو کچھ گزر رہا ہے، اس سے کوئی واقف نہیں، یہاں تک کہ اس کے اپنے بھی اس کے حالِ دل سے بے خبر ہیں۔ وہ ظاہری طور پر خوش اور مطمئن دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے اندر دکھ، اداسی اور بے سکونی چھپی ہوئی ہے۔ شاعر محمد مسعود اپنے رب کو ہی وہ ہستی مانتا ہے جو اس کے دل ...

حصارِ خاموشی

تصویر
ہر ایک شخص مجھے اب جدا دکھائی دیتا ہے ہجوم میں بھی کوئی تنہا دکھائی دیتا ہے کسی کے ہاتھ میں اب روشنی نہیں باقی ہر ایک دل مجھے بجھا دکھائی دیتا ہے وہ کون ہے جو زمانے سے بچ کے چلتا ہے ہر ایک شخص یہاں ڈرا دکھائی دیتا ہے عدالتوں میں بھی سچ کی صدا دبائی گئی ہر ایک لب مجھے سہما دکھائی دیتا ہے ہوا میں زہر ہے نفرت کا اس قدر پھیلا ہر ایک شہر مجھے جلتا دکھائی دیتا ہے یہ کس مقام پہ لا کر کھڑا کیا ہم کو ہر ایک رشتہ مجھے ٹوٹا دکھائی دیتا ہے میں اپنے گھر میں بھی خود کو مسافر پاتا ہوں ہر ایک کمرہ مجھے صحرا دکھائی دیتا ہے کسی کی یاد کا موسم نہیں اترتا ہے یہ دل بھی اب مجھے پیاسا دکھائی دیتا ہے کلام کرتے ہوئے دل اداس رہتا ہے مسعودؔ خود بھی مجھے تنہا دکھائی دیتا ہے یہ نظم “حصارِ خاموشی” معاشرتی تنہائی، خوف اور انسانی رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود موجودہ دور کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے جہاں انسان ہجوم میں رہتے ہوئے بھی تنہا محسوس کرتا ہے۔ لوگوں کے دلوں سے محبت اور روشنی ختم ہو چکی ہے اور ہر طرف خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کا ماحول نظر آتا ہے۔ شاعر محمد مسعود اس بات پر افسوس ...

آخری سفر اور دنیا داری

تصویر
​وہ ہاتھ جو آج میرے ہاتھوں میں بڑے مان سے تھمے ہیں وہ آنکھیں جو آج مجھ سے ملنے کو ترستی ہیں وہ رشتے جن کے لیے میں نے اپنی نیندیں اور خواب گروی رکھ دیے ایک دن سب بدل جائیں گے۔۔۔ ​جب میری آنکھیں بند ہوں گی اور سانس کی ڈوری ٹوٹے گی تو محبتوں کا وہ حصار، جس کے بیچ میں جی رہا ہوں اچانک ایک دیوار بن کر گرنے لگے گا میرے اپنے، جن کی دنیا میرے دم سے تھی وہ گھڑی کی سوئیوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہوں گے ​کسی کو جلدی ہو گی کہ تدفین کا وقت نکلا جا رہا ہے کسی کو اپنی بھوک ستائے گی کہ ابھی کھانا طے ہونا باقی ہے وہ جو مجھ سے لپٹ کر روتے تھے وہ فون پر اپنے ضروری کام نپٹاتے نظر آئیں گے ​بچے، جو میری زندگی کا حاصل ہیں شاید ان کے ذہن میں گھر کی تقسیم اور بینک بیلنس کا حساب ہو گا دوستوں کو اپنی محفلوں میں واپسی کی فکر ہو گی اور عزیز و اقارب کو اپنے گھروں کے دور دراز راستوں کی ​عجیب منظر ہو گا وہ بھی۔ لاش میری ہو گی، اور مصلحتیں ان کی دکھ میرا ہو گا، اور گھبراہٹ ان کی میں خاموش پڑا دیکھوں گا کہ انسان کتنا اکیلا ہے اور رشتے کتنے کمزور ​وہ جلدی میں ہوں گے کہ خاک کو خاک کے حوالے کریں اور میں اس خاموشی میں مسکرا ک...

میں پہلے جیسا ہونا چاہتا ہوں

تصویر
میں پہلے جیسا ہونا چاہتا ہوں مگر مجھے یاد نہیں کہ میں پہلے کیسا تھا۔ کیا میں وہ تھا جو ہنستے ہوئے تھک جاتا تھا؟ یا وہ جو خاموشی میں بھی اپنی آواز سن لیتا تھا؟ میرے قدموں میں شاید جلدی نہ تھی میرے دل میں شاید خوف کم تھا اور آئینے میں جو چہرہ تھا وہ سوال کم، یقین زیادہ تھا۔ اب میں خود کو ڈھونڈتا ہوں اپنی ہی پرانی تصویروں میں اپنے ہی چھوٹے خوابوں میں اور ادھورے لفظوں میں۔ میں بدل گیا ہوں یا بکھر گیا ہوں یہ بھی نہیں جانتا بس اتنا جانتا ہوں کہ کہیں اندر اب بھی کوئی مجھے پکار رہا ہے۔ میں پہلے جیسا ہونا چاہتا ہوں یا شاید… بس اپنے جیسا ہونا چاہتا ہوں جو کہیں راستے میں مجھ سے بچھڑ گیا تھا۔ یہ نظم ایک ایسے شخص کے اندرونی کرب اور شناخت کی تلاش کا اظہار ہے جو خود کو بدلتا ہوا محسوس کرتا ہے مگر یہ نہیں جانتا کہ وہ پہلے کیسا تھا۔ شاعر محمد مسعود ماضی کی سادہ خوشیوں، بے خوف دل اور یقین سے بھرے وجود کو یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ سب دھندلا چکا ہے۔ آئینہ اب سوالات سے بھرا چہرہ دکھاتا ہے اور دل میں بےچینی ہے۔ وہ اپنی پرانی تصویروں، چھوٹے خوابوں اور ادھورے لفظوں میں خود کو ڈھونڈتا ہے، م...

لفظوں کے درمیان ہم

تصویر
لفظوں کے درمیان ہم مرد نے جب بھی قلم اٹھائی، عورت کو اس نے خوابوں کی روشنی لکھا، اپنی کمی کو اس کی مسکراہٹ میں چھپایا، اور خود کو مکمل سمجھ لیا۔ عورت نے جب بھی قلم اٹھائی، مرد کو اس نے وقت کا فریب لکھا، وعدوں کی بھیڑ میں تنہا، اور سچ سے ذرا دور پایا۔ مگر لفظوں کے درمیان کہیں ایک خاموش سچ بھی سانس لیتا رہا، کہ دونوں ہی تھکے تھے، دونوں ہی ٹوٹے تھے۔ مسعود کہتا ہے، قصے ہمیشہ الزام سے شروع ہوتے ہیں، اور سمجھ سے ختم، جہاں محبت کو جیتنے کے لیے خود کو ہارنا پڑتا ہے۔ یہ نظم مرد اور عورت کے باہمی تصورات اور دکھوں کو نہایت نرم مگر گہرے انداز میں بیان کرتی ہے۔ مرد جب عورت کے بارے میں لکھتا ہے تو اسے خوابوں کی روشنی اور اپنی کمیوں کا مداوا سمجھتا ہے، یوں وہ خود کو مکمل محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس کے برعکس عورت جب مرد پر قلم اٹھاتی ہے تو اسے وقت کا فریب، وعدوں میں گھرا ہوا مگر سچ سے دور پاتی ہے، کیونکہ اس کے تجربات میں تنہائی اور ٹوٹے ہوئے وعدے نمایاں ہیں۔ نظم یہ واضح کرتی ہے کہ دونوں کے الفاظ اپنے اپنے دکھ کی سچائی رکھتے ہیں، مگر حقیقت صرف ایک رخ سے مکمل نہیں ہوتی۔ لفظوں کے درمیان ایک خاموش ...

کسک

تصویر
سجا کر مکر کی محفل، کیا خاموش منصف کو عدل کے ہر ترازو پر، بہت ہی ظلم ہوا ہے بھروسہ جس پہ کرتے تھے، اسی نے راستہ بدلا ہماری سادہ لوحی پر، بہت ہی ظلم ہوا ہے وہ جن کے ہاتھ میں اب تک، ہماری ہی لکیریں تھیں انہی کے ہاتھ سے اب تو، بہت ہی ظلم ہوا ہے پھٹے تلوے، کھلی آنکھیں اور یہ بکھری ہوئی یادیں سفر کی ہر مسافت پر، بہت ہی ظلم ہوا ہے لہو سے ہم نے لکھ ڈالا، فسانہ اپنی ہستی کا مگر یہ کہہ کے ٹالا گیا، بہت ہی ظلم ہوا ہے     اس نظم “کسک” میں شاعر محمد مسعود نے معاشرتی ناانصافی، دھوکے اور ٹوٹے ہوئے اعتماد کی گہری تصویر کشی کی ہے۔ نظم کا مرکزی احساس یہ ہے کہ ظلم صرف کھلے دشمنوں سے نہیں، بلکہ اکثر اُن ہی ہاتھوں سے ہوتا ہے جن پر کبھی کامل بھروسا کیا گیا ہو۔ شاعر محمد مسعود مکر و فریب کی سجی ہوئی محفلوں اور خاموش منصف کی علامت کے ذریعے اس عدل کی طرف اشارہ کرتا ہے جو نظر آتے ہوئے بھی بے اثر ہے۔ ہر بند میں کسی نہ کسی سطح پر ہونے والے ظلم کا ذکر ہے چاہے وہ اعتماد کا ٹوٹنا ہو، قریبی رشتوں کی بے وفائی ہو یا زندگی کے سفر میں پیش آنے والی مسلسل ٹھوکریں۔ پھٹے تلوے اور کھلی آنکھیں مسلسل...

نسبت

تصویر
لوگ اب بھی مجھے تیرا ہی سمجھتے ہیں رشتے تو بدلے دل نہ بدلا لوگ سمجھتے ہیں میں جہاں بھی گیا، تیری خوشبو ساتھ رہی میرے لہجے سے میری پہچان لوگ سمجھتے ہیں تو نے چھوڑا تو خبر یہ بھی نہ ہونے دی مجھے کہ میری خاموشی کو میری رضا لوگ سمجھتے ہیں میں نے آنکھوں سے بہائے ہیں کئی موسم مگر میری ہنسی کو ہی میرا حوصلہ لوگ سمجھتے ہیں تو کہیں اور کی دنیا میں خوش ہے شاید اور مجھے آج بھی تیرا پتہ لوگ سمجھتے ہیں میں نے لفظوں میں چھپایا ہے بہت کچھ مسعودؔ میری تحریر کو بس شاعری لوگ سمجھتے ہیں نسبت یہ غزل اندرونی کرب، جدائی اور پہچان کے دھوکے کا خوبصورت خلاصہ ہے۔ شاعر محمد مسعود ایک ایسے شخص کا حال بیان کرتا ہے جو ظاہری طور پر آگے بڑھ چکا ہے مگر باطن میں اب بھی ماضی کی نسبتوں میں بندھا ہوا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس نے رشتے بدل لیے ہیں، مگر درحقیقت اس کا دل اب بھی وہیں ٹھہرا ہوا ہے۔ شاعر محمد مسعود جہاں بھی جاتا ہے، محبوب کی خوشبو، یاد اور اثر اس کے ساتھ رہتے ہیں، جس سے اس کی پہچان آج بھی اسی نسبت سے جڑی ہوئی ہے۔ خاموشی کو لوگ اس کی رضامندی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ وہ خاموشی دراصل گہرے زخموں کی آواز ہے۔...