برطانیہ کی سیاست میں نفرت کا زہر اور پاکستانی برادری کا غیر یقینی مستقبل
برطانیہ کی سیاست میں نفرت کا زہر اور پاکستانی برادری کا غیر یقینی مستقبل
تحریر: محمد مسعود، نوٹنگھم، برطانیہ
برطانیہ کی سیاسی فضا میں ان دنوں نفرت، تعصب اور نسل پرستی کی ایک ایسی خطرناک لہر اٹھ رہی ہے جس نے نہ صرف اس ملک میں آباد مسلمانوں، پاکستانیوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ انسانی حقوق، جمہوریت اور مساوات کے دعویداروں کے سامنے بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ محض چند افراد کی متعصبانہ سوچ کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسی سیاسی ذہنیت کا اظہار ہے جو نفرت کو سیاسی طاقت حاصل کرنے کا ذریعہ بنا رہی ہے۔ حال ہی میں برطانیہ کے ایک بڑے نشریاتی ادارے کی جانب سے تقریباً ایک سال پر محیط خفیہ تحقیقات میں سامنے آنے والے انکشافات نے ایک تیزی سے مقبول ہوتی سیاسی جماعت کے اندر موجود مبینہ نسل پرستانہ رجحانات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
یہ تحقیقات ایک معروف ٹیلی ویژن چینل کی تحقیقاتی ٹیم نے انجام دیں، جس کے نمائندے عام کارکنوں کے روپ میں اس جماعت کی انتخابی سرگرمیوں کا حصہ بنے۔ تقریباً ایک سال تک یہ نمائندے جماعت کے امیدواروں، کارکنوں اور منتخب کونسلروں کے ساتھ موجود رہے۔ انہوں نے مئی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات اور اس کے بعد چار ضمنی انتخابات کی انتخابی مہموں میں حصہ لیا۔ اس دوران خفیہ کیمروں سے ریکارڈ کی گئی گفتگو میں ایسے شرمناک، اشتعال انگیز اور انسانیت سوز خیالات سامنے آئے جنہیں سن کر ہر مہذب انسان کا سر شرم سے جھک جانا چاہیے۔
ان خفیہ ویڈیوز میں جماعت سے وابستہ بعض افراد ایشیائی، پاکستانی اور مسلمان شہریوں کے خلاف انتہائی نفرت انگیز زبان استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک ریکارڈنگ میں ایک شخص، جو بعد میں کونسلر منتخب ہوا، ایشیائی گھروں کے مالکان کو طفیلی جاندار قرار دیتا سنائی دیتا ہے۔ گویا وہ لوگ جنہوں نے اپنی محنت، دیانت داری اور قربانیوں سے برطانیہ کی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈالا، ان کی حیثیت اس شخص کی نظر میں ایسے جانداروں جیسی ہے جو دوسروں کا خون چوستے ہیں۔ مسلمانوں کے بارے میں بھی انتہائی توہین آمیز اور ناقابلِ برداشت الفاظ استعمال کیے گئے۔
برمنگھم کے علاقے سمال ہیتھ اور سولیہل کے گردو نواح میں انتخابی مہم کے دوران ریکارڈ کی گئی ایک گفتگو میں ایک کونسلر کو مبینہ طور پر یہ کہتے سنا گیا کہ اگر اختیار اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ تمام ایشیائی باشندوں، بالخصوص پاکستانیوں کو، ان کے گھروں سے نکال کر جہازوں میں بھرے اور پاکستان واپس بھیج دے۔ اس گفتگو میں غلیظ گالیوں اور کھلی نفرت کا اظہار بھی کیا گیا۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں پاکستانی برادری کئی دہائیوں سے آباد ہے، جہاں ہمارے بزرگوں نے سخت محنت کی، جہاں ہماری نسلیں پروان چڑھیں اور جہاں ہم نے اپنی زندگیاں اس ملک کی ترقی کے لیے وقف کیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان تمام قربانیوں کا صلہ ہمیں نفرت، تذلیل اور ملک بدری کی دھمکیوں کی صورت میں دیا جائے گا؟
اس سے بھی زیادہ شرمناک پہلو مسلمان اور ایشیائی خواتین کے بارے میں استعمال کی گئی انتہائی گھٹیا اور جنسی نوعیت کی زبان ہے۔ ان خواتین کی عزت و وقار کو جس انداز میں نشانہ بنایا گیا، وہ کسی بھی مہذب سیاسی معاشرے کے لیے باعثِ شرم ہے۔ ایک اور ریکارڈنگ میں ایک شخص نے مبینہ طور پر اس مسئلے کے حل کے لیے ایٹمی اقدام کی بات کی اور سفید فام نوجوانوں پر مشتمل ایک ایسی فوج بنانے کی خواہش ظاہر کی جو گھر گھر جا کر ایشیائی اور پاکستانی خاندانوں کو پکڑے اور انہیں جہازوں میں بھر کر ان کے آبائی ملکوں میں پھینک آئے۔ یہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ ایک ایسی خوفناک ذہنیت کی عکاسی ہے جسے معمولی سمجھ کر نظرانداز کرنا خطرناک ہو گا۔
ایک اور کلپ میں ایک امیدوار یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ برطانیہ کی آبادی میں غیر سفید فام افراد کی تعداد ایک فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ سیاہ فام بچوں کو جانوروں سے تشبیہ دی گئی اور ان کے لیے انتہائی توہین آمیز الفاظ استعمال کیے گئے۔ حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسی گفتگو ان لوگوں کی جانب سے سامنے آئی جو عوام کے ووٹ حاصل کرکے جمہوری اداروں میں نمائندگی کے خواہش مند تھے۔ ایک موقع پر ایک کونسلر نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اگر کسی گھر کے دروازے پر ایشیائی نام لکھا ہو تو وہ وہاں دستک تک نہیں دے گا، کیونکہ اس کے خیال میں ایسے لوگ اسے ووٹ نہیں دیں گے اور اس کا وقت ضائع ہو گا۔ کیا یہی وہ جمہوری اقدار ہیں جن پر برطانیہ فخر کرتا ہے؟
یہ سیاسی جماعت، جو خود کو برطانیہ کی روایتی اقدار کی محافظ قرار دیتی ہے، حالیہ عرصے میں نمایاں عوامی مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔ مختلف انتخابی سروے اس کے لیے مستقبل میں بڑی سیاسی کامیابیوں کے امکانات ظاہر کرتے رہے ہیں۔ اس کی سیاست کا ایک اہم ستون امیگریشن کے خلاف سخت مؤقف ہے۔ عوام کے ایک حصے میں یہ تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ برطانیہ میں مہنگائی، رہائش کی قلت، بے روزگاری اور قومی صحت کے نظام پر دباؤ کی بنیادی وجہ غیر ملکی تارکین وطن ہیں۔ حالانکہ ان پیچیدہ مسائل کی ذمہ داری محض تارکین وطن پر ڈال دینا نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ سیاسی طور پر خطرناک بھی ہے۔ اس جماعت کو ماضی میں بھی نسل پرستی کے الزامات کا سامنا رہا ہے، تاہم اس کی قیادت ایسے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔
خفیہ دستاویزی تحقیقات کے سامنے آنے کے بعد جماعت کی قیادت کے لیے بھی سنگین سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی انکشافات کے بعد تین کونسلروں نے استعفیٰ دیا، جبکہ دو دیگر افراد کے اپنے عہدوں پر برقرار رہنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ جماعت کے مرکزی دفتر نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ایسے عناصر کی جماعت میں کوئی جگہ نہیں اور انہیں باہر نکالا جائے گا۔ قیادت کا یہ بھی کہنا تھا کہ امیدواروں کی جانچ پڑتال کے نظام کو مزید سخت کیا گیا ہے، تاہم بعض افراد اس عمل کے باوجود سامنے آ جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف چند استعفے اور رسمی بیانات اس مسئلے کا حل ہیں؟ کیا سیاسی قیادت اپنی صفوں میں موجود ایسے رجحانات کی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟
یہ تمام صورتِ حال برطانیہ میں آباد تقریباً سولہ لاکھ پاکستانی/ کشمیری نژاد افراد کے لیے ایک نہایت سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے۔ برطانیہ ہمیشہ خود کو قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق، مساوات اور رواداری کا علمبردار قرار دیتا آیا ہے۔ اس ملک کے قوانین نسل پرستانہ امتیاز اور نفرت انگیز جرائم کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ مگر ایسے انکشافات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ محض قانون سازی سے نفرت کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ جب تعصب سیاسی گفتگو کا حصہ بننے لگے اور انسانوں کو ان کی رنگت، نسل یا مذہب کی بنیاد پر کمتر قرار دیا جانے لگے تو معاشرے کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔
ہم جو نوٹنگھم، برمنگھم، مانچسٹر، لندن، بریڈفورڈ، لیڈز شفلیڈ اور برطانیہ کے دوسرے شہروں میں آباد ہیں، ہم نے اس ملک کو محض روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنا گھر سمجھا ہے۔ ہمارے بچے یہاں پیدا ہوئے، یہاں تعلیم حاصل کی اور آج اس ملک کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے فیکٹریوں میں دن رات محنت کی، بسیں اور ٹیکسیاں چلائیں، کاروبار قائم کیے، ہسپتالوں میں مریضوں کی خدمت کی اور برطانوی معیشت کو مضبوط بنانے میں اپنا حصہ ڈالا۔ اس ملک کی ترقی میں ہمارے بزرگوں کا خون پسینہ شامل ہے۔ ہم نے یہاں کے قوانین کا احترام کیا، ٹیکس ادا کیے اور اپنی محنت سے اپنا مقام بنایا۔ اس کے باوجود اگر کوئی ہمیں طفیلی قرار دے، ہمارے بچوں کی تذلیل کرے یا ہمیں جہازوں میں بھر کر ملک سے نکالنے کی بات کرے تو یہ صرف پاکستانی برادری کی توہین نہیں بلکہ برطانوی جمہوریت، انصاف اور انسانی وقار پر بھی ایک سنگین حملہ ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستانی، کشمیری اور مسلمان برادری اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے سمجھے۔ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہو گا، اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچاننا ہو گا اور مقامی کونسلوں سے لے کر برطانوی پارلیمنٹ تک اپنی آواز مؤثر انداز میں پہنچانی ہو گی۔ نفرت انگیز رویوں کے خلاف جہاں قانونی بنیاد موجود ہو وہاں قانونی راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنے بچوں کو تعلیم، سیاست، قانون اور عوامی خدمت کے میدانوں میں آگے بڑھانا ہو گا تاکہ کوئی بھی سیاسی قوت ہماری خاموشی کو ہماری کمزوری نہ سمجھ بیٹھے۔ ساتھ ہی ہمیں اپنے برطانوی ہمسایوں اور دوستوں کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کرنے ہوں گے، کیونکہ نسل پرستی کے خلاف جدوجہد کسی ایک مذہب یا قوم کی نہیں بلکہ ہر انصاف پسند انسان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
برطانیہ کا مستقبل نفرت، تقسیم اور نسلی برتری کے نعروں میں نہیں بلکہ انصاف، اتحاد، باہمی احترام اور انسانی مساوات میں پوشیدہ ہے۔ اگر آج نفرت انگیز سوچ کے خلاف مؤثر آواز بلند نہ کی گئی تو خدشہ ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ رجحانات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔ تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ نفرت کو معمول سمجھنے کی غلطی بعض اوقات پوری قوموں کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر دیتی ہے۔
آخر میں اپنے پاکستانی اور کشمیری بھائیوں سے ایک نہایت اہم اور سنجیدہ گزارش کرنا چاہتا ہوں۔
میرے عزیز پاکستانی اور کشمیری بھائیو! برطانیہ کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کو معمولی نہ سمجھیں۔ آج جو باتیں بند کمروں میں کی جا رہی ہیں، کل وہ سیاسی نعروں کا حصہ بن سکتی ہیں۔ آج جو لوگ ہمیں جہازوں میں بھر کر پاکستان بھیجنے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں، اگر کبھی ایسے خیالات رکھنے والے افراد اقتدار اور اختیار کے مراکز تک پہنچ گئے تو ہمیں یہ سوال ضرور سوچنا ہو گا کہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے حالات کس حد تک مشکل ہو سکتے ہیں۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کل ہمیں لازماً برطانیہ سے نکال دیا جائے گا، نہ ہی کسی سیاسی جماعت کے اقتدار میں آنے سے اسے برطانوی شہریوں کو من مانی بنیادوں پر ملک بدر کرنے کا قانونی اختیار مل جاتا ہے۔ لیکن میں یہ ضرور کہہ رہا ہوں کہ عقل مندی اسی میں ہے کہ انسان اچھے حالات میں بھی برے وقت کے لیے تیاری رکھے۔
میری اپنے پاکستانی اور کشمیری بھائیوں سے پُرزور گزارش ہے کہ اگر آپ کے مالی حالات اجازت دیتے ہیں تو پاکستان یا اپنے آبائی وطن میں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک چھوٹا سا گھر، زمین کا ایک ٹکڑا یا کم از کم کچھ محفوظ مالی وسائل ضرور رکھیں۔ اپنی تمام جمع پونجی صرف ایک جگہ تک محدود نہ کریں۔ یہ فیصلہ خوف میں آ کر نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر، اپنی مالی استطاعت اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں۔
ہم نے اپنی زندگیاں اس ملک میں گزار دی ہیں، لیکن ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کے بارے میں بھی سوچنا ہو گا۔ خدا نہ کرے کہ کبھی ایسے حالات پیدا ہوں جن میں ہمارے بچوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑے۔ اگر کبھی مشکل وقت آ بھی جائے تو کم از کم ان کے پاس ایک متبادل سہارا، ایک چھت اور ایک ایسی جگہ موجود ہو جہاں وہ عزت اور سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
یاد رکھیے، اپنے آبائی وطن میں ایک گھر یا کچھ مالی وسائل رکھنا برطانیہ سے بے وفائی نہیں بلکہ اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے احتیاطی تدبیر ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم برطانیہ میں اپنے قانونی اور جمہوری حقوق سے کسی صورت دستبردار نہ ہوں۔ یہ ملک ہمارا بھی گھر ہے، یہاں ہمارے بچوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی دوسرے برطانوی شہری کا۔
ہم کسی کے رحم و کرم پر یہاں نہیں رہ رہے۔ ہم اس معاشرے کا حصہ ہیں، ہم نے اس ملک کی تعمیر میں حصہ ڈالا ہے اور ہمیں عزت، مساوات اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہے۔
ہمیں نہ کسی سے ڈر کر خاموش ہونا چاہیے اور نہ ہی کسی کی نفرت کے سامنے سر جھکانا چاہیے۔ اپنی شناخت پر فخر کیجیے، اپنے حقوق کا دفاع کیجیے، اپنی برادری کو مضبوط بنائیے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ہر ممکن راستہ محفوظ رکھیے۔
کیونکہ قومیں صرف اپنی محنت سے نہیں بلکہ اپنی بیداری، اتحاد اور دور اندیشی سے بھی اپنا مستقبل محفوظ بناتی ہیں۔
دعاؤں کا طلبگار محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں