اشاعتیں

اثر دعا

تصویر
مجھے تیرا نہ ملنا لوگوں کی بددعاؤں کا اثر لگتا ہے کہ خواب ٹوٹتے رہتے ہیں اور دل ہی قصوروار لگتا ہے ہم نے چاہا تھا تجھے سادہ سی عبادت کی طرح یہ عشق اب بھی مگر سب سے بڑی آزمائش لگتا ہے نہ کوئی شکوہ زبان پر، نہ کوئی حرفِ ملامت یہ صبر ہی ہے جو ہر زخم پر پہرے دار لگتا ہے کسی کی ایک نظر نے اجاڑ دی میری دنیا یہ دل بھی اب مجھے شیشے کا شہر لگتا ہے محبتوں کے سفر میں ہم اکیلے ہی رہ گئے ہر ہمسفر یہاں وقتی اور ہر موڑ غدار لگتا ہے یہ جدائی بھی مسعودؔ کوئی معمولی کہانی نہیں یہ وہ باب ہے جو ہر بار پڑھوں تو نیا لگتا ہے اثر دعا یہ غزل انسانی زندگی میں محبت، جدائی اور تقدیر کے کرب کو نہایت سادگی اور گہرے احساس کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود محبوب کے نہ ملنے کو محض اتفاق نہیں بلکہ لوگوں کی بددعاؤں کا اثر سمجھتا ہے، جہاں خوابوں کا بار بار ٹوٹنا دل کو ہی قصوروار ٹھہرا دیتا ہے۔ محبت کو عبادت جیسا پاکیزہ جذبہ قرار دیا گیا ہے، مگر یہی عشق سب سے بڑی آزمائش بن کر سامنے آتا ہے۔ غزل میں صبر کو ایک محافظ کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو ہر زخم پر پہرہ دیتا ہے، اگرچہ اندر کا درد خاموش نہیں ہوتا۔ ایک نظ...

خاموش جدائی

کیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے دل کے آنگن کو جلا جاتے ہیں جانے والے لفظ ساتھ ہوں تو بچھڑنا بھی سہل لگتا ہے بے صدا ہوں تو قیامت بن جاتے ہیں جانے والے ایک ہی لمحے میں چھین لیتے ہیں عمر بھر جو خواب آنکھوں میں سجا جاتے ہیں جانے والے ہم تو ہر موڑ پہ ٹھہرے رہے منتظر اُن کے راہ کو عمر کی تنہا بنا جاتے ہیں جانے والے اپنی خوشبو بھی ہواؤں میں سمیٹے رکھتے ہیں یاد کی دھول ہمیں دے جاتے ہیں جانے والے مسعودؔ صبر بھی ایک دن جواب دے جاتا ہے یوں جو خاموشی سے دل توڑ جاتے ہیں جانے والے

دنیا میں سستا ترین مہمان ماں باپ: وہ مہمان جو اپنا سب کچھ دے کر بھی کچھ نہیں مانگتےدنیا میں ہر رشتے کی کوئی نہ کوئی بنیاد ہوتی ہے، کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے، لیکن ماں باپ کا رشتہ وہ واحد رشتہ ہے جو لین دین کے تمام دنیاوی فلسفوں سے آزاد ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ "دنیا کے سب سے سستے ترین مہمان ماں باپ ہوتے ہیں"، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی قیمت کم ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی قناعت اور بے لوث محبت اتنی عظیم ہے کہ وہ اپنے بچوں کے گھر میں ایک تنکے کا بوجھ بھی بننا پسند نہیں کرتے۔عام طور پر جب ہمارے گھر کوئی مہمان آتا ہے، تو ہم ہفتوں پہلے تیاری کرتے ہیں۔ بہترین بستر، لذیذ کھانے اور گھر کی سجاوٹ کا خیال رکھا جاتا ہے۔ لیکن جب ماں یا باپ بیٹے یا بیٹی کے گھر قدم رکھتے ہیں، تو وہ کسی پروٹوکول کے طلبگار نہیں ہوتے۔ وہ تو اس کونے میں بھی خوش ہو جاتے ہیں جہاں سب سے کم سہولیات ہوں۔ وہ مہمان ہو کر بھی یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ مہمان ہیں۔ وہ تو الٹا میزبان بن کر گھر کے کاموں میں جٹ جاتے ہیں۔یہاں میں شاعر محمد مسعود جو برطانیہ شہر نوٹنگھم میں مقیم ہیں ان کی شاعری کی کچھ لائنز شامل کروں گا اس درد کو لفظوں میں ڈھالتے ہوئے شاعر کہتا ہے:وہی بوڑھی آنکھیں، وہی مامتا کی تڑپ لے کر آئے ہیں وہ اپنے ساتھ دعاؤں کی ایک کائنات سمیٹ لائے ہیں نہ طلب ہے دسترخوان کی، نہ آرام کی کوئی خواہش مسعود وہ تو بس اولاد کی خوشی کی خیرات لائے ہیںایک ماں جب بیٹی کے گھر جاتی ہے، تو اس کی نظریں صوفوں کی چمک پر نہیں، بلکہ بیٹی کی تھکن پر ہوتی ہیں۔ وہ چپکے سے کچن میں جا کر ہانڈی سنبھال لیتی ہے تا کہ بیٹی تھوڑی دیر سکون سے سو سکے۔ وہ پوتے پوتیوں کو سنبھالتی ہے تا کہ بچوں کی زندگی میں سکون رہے۔اسی طرح باپ، جو زندگی بھر گھر کا ستون رہا، بیٹے کے گھر جا کر ایک عام سے فرد کی طرح رہنے لگتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کی وجہ سے بیٹے کے بجٹ پر کوئی اثر پڑے۔ وہ اپنی دوائیوں کا خرچ چھپاتا ہے، اپنی تکلیف کو مسکراہٹ میں بدل دیتا ہے، تاکہ بیٹا پریشان نہ ہو۔ کیا دنیا میں ایسا کوئی اور مہمان ہے جو اپنی تکلیف چھپا کر آپ کو سکون دے؟اس جگہ آ کر شاعر پھر کہتا ہے کہ جھک گئی ہے کمر زمانے کے بوجھ تلے لیکن لبوں پر وہی دعا ہے، دل میں وہی ارمان ہے بچے پوچھتے نہیں حال ان کی تنہائی کا مسعود باپ تو گھر کا سب سے سستا مہمان ہےآج کے دور میں جب ہم مادی ترقی کی دوڑ میں لگے ہیں، ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ "سستے مہمان" دراصل ہماری زندگی کی سب سے بڑی دولت ہیں۔ وہ خاموشی سے گھر کی صفائی کر دیں گے، بچوں کو کہانیاں سنائیں گے، اور جب رخصت ہونے کا وقت آئے گا تو وہی پرانا تھکا ہوا سوٹ کیس اٹھا کر مسکراتے ہوئے چلے جائیں گے۔ وہ اپنے ساتھ آپ کی پریشانیاں لے جاتے ہیں اور اپنے حصے کی برکتیں آپ کے گھر چھوڑ جاتے ہیں۔وہ کبھی شکوہ نہیں کرتے کہ انہیں پھل کیوں نہیں دیے گئے یا انہیں گھمانے کیوں نہیں لے جایا گیا۔ ان کی کل کائنات صرف آپ کا مسکراتا ہوا چہرہ ہے۔شاعر عرض کرتا بیٹی کے آنسو دیکھے تو خود بھی رو دیے وہ بیٹے کی ایک چھینک پر اپنی نیندیں کھو دیے وہ اب بوجھ لگنے لگے ہیں اپنی ہی اولاد کو مسعود جو عمر بھر کانٹوں کی جگہ پھول بو دیے وہجب یہ مہمان رخصت ہوتے ہیں، تو گھر خالی نہیں ہوتا بلکہ ویران ہو جاتا ہے۔ ان کی موجودگی سے جو رونق اور سکون گھر کے در و دیوار میں بسا ہوتا ہے، وہ کسی فرنیچر یا ڈیکوریشن سے نہیں آ سکتا۔ وہ جاتے ہوئے بھی آپ کے ہاتھ میں کچھ پیسے تھما جاتے ہیں کہ "بچوں کو کوئی چیز دلا دینا"۔ یہ وہ مہمان ہیں جو دے کر جاتے ہیں، لے کر کچھ نہیں جاتے۔ تحریر ختم ہونے کے آخر میں شاعر پھر کہتا ہے وقت کی گرد نے چہروں کو دھندلا دیا ہے اب اپنوں نے ہی اپنوں کو پرایا بنا دیا ہےاب ان کی خاموشی میں سسکیاں ہیں زمانے بھر کی مسعود دنیا نے انہیں صرف ایک 'مہمان' بنا دیا ہے ابہمیں چاہیے کہ ان "سستے مہمانوں" کی قدر کریں اس سے پہلے کہ وہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جائیں۔ ان کی موجودگی اللہ کی رحمت کا سایہ ہے۔ ان سے باتیں کریں، ان کے پاس بیٹھیں، ان کا ہاتھ تھامیں، کیونکہ وہ آپ کے پیسوں کے نہیں، آپ کی محبت کے طلبگار ہیں۔ یہ وہ مہمان ہیں جن کے قدموں تلے جنت ہے اور جن کی رضا میں رب کی رضا ہے۔تحریر محمد مسعود نوٹنگھم یو کے ​

خاموش جدائی

کیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے دل کے آنگن کو جلا جاتے ہیں جانے والے لفظ ساتھ ہوں تو بچھڑنا بھی سہل لگتا ہے بے صدا ہوں تو قیامت بن جاتے ہیں جانے والے ایک ہی لمحے میں چھین لیتے ہیں عمر بھر جو خواب آنکھوں میں سجا جاتے ہیں جانے والے ہم تو ہر موڑ پہ ٹھہرے رہے منتظر اُن کے راہ کو عمر کی تنہا بنا جاتے ہیں جانے والے اپنی خوشبو بھی ہواؤں میں سمیٹے رکھتے ہیں یاد کی دھول ہمیں دے جاتے ہیں جانے والے مسعودؔ صبر بھی ایک دن جواب دے جاتا ہے یوں جو خاموشی سے دل توڑ جاتے ہیں جانے والے

2025 الوداع اے گزرتے ہوئے سال

تصویر
اے سال تم جاتے جاتے دل پر عجیب سا بوجھ چھوڑ گئے ہو۔ تم نے ہمیں مسکرانا بھی سکھایا اور خاموش رہنا بھی، تم نے ہمیں خواب دکھائے بھی اور ان خوابوں کے ٹوٹنے کا ہنر بھی دیا۔ تم ایک مکمل داستان تھے، جس میں خوشی کے چند روشن صفحے بھی تھے اور غم کے طویل باب بھی۔ تم نے ہمیں بتایا کہ زندگی صرف خواہش کا نام نہیں، بلکہ صبر، برداشت اور قبولیت کا امتحان بھی ہے۔ اس سال کچھ خواب تھے جو خواب ہی رہے۔ ہم نے آنکھوں میں سنہری تصویریں سجائیں، دل میں بڑے بڑے منصوبے بنائے، مگر وقت کی بے رحم حقیقت نے انہیں ادھورا چھوڑ دیا۔ کچھ خواب حالات کے بوجھ تلے دب گئے اور کچھ ہماری اپنی کمزوریوں کی نذر ہو گئے۔ یہ خواب ہمیں طعنہ نہیں دیتے بلکہ یہ یاد دلاتے ہیں کہ خواب دیکھنا بھی ایک ہمت ہے، چاہے وہ پورے نہ ہوں۔ یہاں شاعر محمد مسعود کا ایک شعر جو اسی احساس کو یوں بیان کیا ہے: “کچھ خواب آنکھوں میں رہ کر بھی سو نہ سکے، کچھ خواب تعبیر کی دہلیز تک آ نہ سکے” اس سال کچھ خواہشیں تھیں جو حسرتیں بن گئیں۔ وہ خواہشیں جو دل کے کسی کونے میں خاموشی سے پلتی رہیں، وقت کے ساتھ ایک کسک بن گئیں۔ کبھی ہم نے کسی کی توجہ چاہی، کبھی کسی کے ساتھ کا ...

کھوئے ہوئے لمحے

تصویر
ماضی کے صفحوں پہ لکھی ایک کہانی ہوں میں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی ایک نشانی ہوں میں جو لوٹ نہ پایا کبھی وقت کے دریا سے بکھری ہوئی یادوں کی روانی ہوں میں وہ ہنسی، وہ باتیں، وہ موسم پرانے آنکھوں میں ٹھہری ہوئی حیرانی ہوں میں کچھ درد جو لفظوں میں کبھی ڈھل نہ سکے خاموش دلوں کی وہ زبانی ہوں میں جو کھو گیا برسوں میں، مگر دل سے نہ گیا ماضی کی ہر ایک وہ نشانی ہوں میں یہ غزل “کھوئے ہوئے لمحے” ماضی، یادوں اور وقت کے گزرنے کے احساسات کا پُراثر خلاصہ پیش کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود کو ماضی کے صفحات پر لکھی ایک کہانی قرار دیتا ہے، جو ٹوٹے ہوئے خوابوں اور ادھوری خواہشوں کی علامت ہے۔ وقت کے دریا سے وہ لمحے کبھی واپس نہیں آ سکے، مگر ان کی یادیں آج بھی دل میں بکھری ہوئی روانی کی صورت زندہ ہیں۔ پرانی ہنسی، بے ساختہ باتیں اور گزرے موسم آنکھوں میں ایک خاموش حیرت بن کر ٹھہر گئے ہیں۔ غزل میں ایسے درد کا ذکر ہے جو لفظوں میں ڈھل نہیں سکا اور دلوں کی خاموشی میں چھپا رہا۔ برسوں میں بہت کچھ کھو گیا، مگر وہ سب دل سے محو نہ ہو سکا۔ یوں یہ غزل انسان کے باطن میں محفوظ ماضی کی نشانیاں، یادوں کی شدت اور وقت کی بے ب...

بدل گیا ہے میرے اندر کا موسم

تصویر
بدل گیا ہے میرے اندر کا موسم ​محبتوں میں فقط وہ جدا نہیں ہوتا وہ جائے تو کوئی بھی سلسلہ نہیں ہوتا ​دل کے آسمان پہ بادل ٹھہر گئے ایسے کہ پھر کبھی بھی یہاں سویرا نہیں ہوتا ​وہ اپنے ساتھ لے گیا خوشبو بھی، یاد بھی اب اِس مکان میں کوئی بسا نہیں ہوتا ​بدل گیا ہے میرے اندر کا موسم اس طرح کہ اب یہاں کوئی پھول کھلا نہیں ہوتا ​جی رہے ہیں ہم دکھانے کے لیے زمانے بھر کو مگر وہ پہلا سا اب مسعود حوصلہ نہیں ہوتا ​لبوں پہ ہنسی، آنکھوں میں خاموشی ہے سجی جو دل پہ گزرے وہ چہرے سے بیاں نہیں ہوتا "بدل گیا ہے میرے اندر کا موسم" یہ غزل جدائی کے اس کرب کی عکاسی کرتی ہے جہاں محبوب کا جانا محض ایک جسمانی دوری نہیں، بلکہ ایک مکمل داخلی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ شاعر محمد مسعود بیان کرتا ہے کہ جب محبوب رخصت ہوتا ہے تو وہ تنہا نہیں جاتا، بلکہ اپنے ساتھ وابستہ تمام رعنائیاں، یادیں اور خوشبوئیں بھی لے جاتا ہے، جس سے زندگی کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ جدائی کے بعد انسان کے اندر کا نفسیاتی موسم بدل جاتا ہے۔ دل کے آسمان پر اداسی کے بادل مستقل ڈیرے ڈال لیتے ہیں، جس کے بعد امید کی کوئی کرن (سویرا) نظ...