2025 الوداع اے گزرتے ہوئے سال
اے سال تم جاتے جاتے دل پر عجیب سا بوجھ چھوڑ گئے ہو۔ تم نے ہمیں مسکرانا بھی سکھایا اور خاموش رہنا بھی، تم نے ہمیں خواب دکھائے بھی اور ان خوابوں کے ٹوٹنے کا ہنر بھی دیا۔ تم ایک مکمل داستان تھے، جس میں خوشی کے چند روشن صفحے بھی تھے اور غم کے طویل باب بھی۔ تم نے ہمیں بتایا کہ زندگی صرف خواہش کا نام نہیں، بلکہ صبر، برداشت اور قبولیت کا امتحان بھی ہے۔ اس سال کچھ خواب تھے جو خواب ہی رہے۔ ہم نے آنکھوں میں سنہری تصویریں سجائیں، دل میں بڑے بڑے منصوبے بنائے، مگر وقت کی بے رحم حقیقت نے انہیں ادھورا چھوڑ دیا۔ کچھ خواب حالات کے بوجھ تلے دب گئے اور کچھ ہماری اپنی کمزوریوں کی نذر ہو گئے۔ یہ خواب ہمیں طعنہ نہیں دیتے بلکہ یہ یاد دلاتے ہیں کہ خواب دیکھنا بھی ایک ہمت ہے، چاہے وہ پورے نہ ہوں۔ یہاں شاعر محمد مسعود کا ایک شعر جو اسی احساس کو یوں بیان کیا ہے:
“کچھ خواب آنکھوں میں رہ کر بھی سو نہ سکے،
کچھ خواب تعبیر کی دہلیز تک آ نہ سکے”
اس سال کچھ خواہشیں تھیں جو حسرتیں بن گئیں۔ وہ خواہشیں جو دل کے کسی کونے میں خاموشی سے پلتی رہیں، وقت کے ساتھ ایک کسک بن گئیں۔ کبھی ہم نے کسی کی توجہ چاہی، کبھی کسی کے ساتھ کا یقین، کبھی کامیابی کی ایک جھلک، مگر سب کچھ ویسا نہ ہو سکا جیسا ہم نے چاہا تھا۔ خواہش اور حسرت کے درمیان کا فاصلہ بہت مختصر مگر بہت گہرا ہوتا ہے، اور یہ سال ہمیں اسی فاصلے کا درد سمجھا گیا۔
کچھ ڈر تھے جو سچ ہوئے۔ جن اندیشوں کو ہم دل ہی دل میں دباتے رہے، وہی ایک دن حقیقت کا روپ دھار کر ہمارے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ ہمیں ڈر تھا کہ ہم کسی کو کھو دیں گے، ہمیں ڈر تھا کہ ہم اکیلے رہ جائیں گے، ہمیں ڈر تھا کہ ہم خود کو پہچان نہ پائیں گے۔ اور سچ یہ ہے کہ ڈر کا سچ ہو جانا انسان کو کمزور نہیں بلکہ زیادہ حساس اور گہرا بنا دیتا ہے۔ یہاں شاعر محمد مسعود اسی سچائی کو یوں ایک لفظ دیتا ہے:
“جن خدشوں کو ہم نے دعا میں بھی چھپایا،
وہی ڈر وقت نے آئینہ بنا کر دکھایا”
اس سال کچھ لوگ تھے جو بچھڑ گئے۔ کچھ بچھڑنا اچانک تھا اور کچھ بچھڑنا آہستہ آہستہ ہوا۔ کچھ رشتے وقت کی کمی کا شکار ہوئے، کچھ غلط فہمیوں میں ٹوٹ گئے اور کچھ قسمت کے فیصلوں کے سامنے بے بس ہو گئے۔ بچھڑنے کا دکھ صرف اس لیے نہیں ہوتا کہ کوئی چلا گیا، بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ جڑی یادیں بھی دل کے اندر شور مچانے لگتی ہیں۔ شاعر محمد مسعود کہتا ہے:
“کچھ لوگ رخصت ہوئے تو یوں لگا،
جیسے دل کا کوئی کمرہ خالی ہو گیا”
اس سال کچھ اپنے تھے جو اجنبی ہو گئے۔ شاید یہی سب سے کڑوا سچ ہے۔ وہ لوگ جن پر ہمیں سب سے زیادہ یقین تھا، وہی وقت کے ساتھ فاصلے کی علامت بن گئے۔ کبھی رویوں نے بدل دیا، کبھی لفظوں نے، اور کبھی خاموشی نے وہ کام کر دیا جو کوئی جھگڑا بھی نہ کر سکا۔ اپنوں کا اجنبی ہو جانا انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ سکھا دیتا ہے کہ ہر رشتہ مستقل نہیں ہوتا، اور ہر تعلق کو نبھانے کے لیے دو دلوں کا ساتھ ضروری ہوتا ہے۔
یہ گزرتا ہوا سال ہمیں یہ بھی سکھا گیا کہ زندگی صرف شکایت کا نام نہیں۔ ہر ٹوٹنے کے بعد سنبھلنا بھی زندگی ہے، ہر بچھڑنے کے بعد خود کو جوڑنا بھی زندگی ہے۔ ہم نے اس سال خود کو پہلے سے زیادہ پہچانا، اپنی کمزوریوں کو قبول کیا اور اپنی خاموش طاقت کو محسوس کیا۔ ہم نے جانا کہ تنہائی ہمیشہ سزا نہیں ہوتی، کبھی کبھی یہ خود سے ملاقات کا بہترین موقع ہوتی ہے۔ شاعر محمد مسعود اسی خود کلامی کو یوں بیان کرتا ہے:
“ایک تنہائی نے مجھے خود سے ملوایا،
ورنہ میں ہجوم میں خود کو بھول چکا تھا”
الوداع کہتے ہوئے اس سال2025 سے کوئی شکوہ نہیں، کیونکہ اس نے ہمیں وہ سب دیا جو شاید ہمیں چاہیے تھا، نہ کہ وہ جو ہم چاہتے تھے۔ اس نے ہمیں مضبوط بنایا، ہمیں سنجیدہ کیا، ہمیں حقیقت پسند بنایا۔ اس نے ہمیں یہ سکھایا کہ ہر اندھیرا ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا اور ہر درد کسی نہ کسی سبق کے ساتھ آتا ہے۔
اب جب یہ سال رخصت ہو رہا ہے تو ہم اس کے ساتھ اپنی حسرتیں، اپنے دکھ، اپنی ناکامیاں بھی رخصت کرتے ہیں۔ ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ آنے والے وقت میں ہم زیادہ شکر گزار ہوں گے، زیادہ سچے ہوں گے اور کم توقعات رکھیں گے۔ ہم نئے خواب دیکھیں گے، مگر اس بار صبر کے ساتھ۔ شاعر محمد مسعود کی دعا جیسے الفاظ پر یہ مضمون ختم ہوتا ہے:
“اے آنے والے وقت، ذرا مہربان رہنا،
ہم نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے، اب امتحان کم رکھنا”
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں