خاموش جدائی



کیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے
دل کے آنگن کو جلا جاتے ہیں جانے والے

لفظ ساتھ ہوں تو بچھڑنا بھی سہل لگتا ہے
بے صدا ہوں تو قیامت بن جاتے ہیں جانے والے

ایک ہی لمحے میں چھین لیتے ہیں عمر بھر
جو خواب آنکھوں میں سجا جاتے ہیں جانے والے

ہم تو ہر موڑ پہ ٹھہرے رہے منتظر اُن کے
راہ کو عمر کی تنہا بنا جاتے ہیں جانے والے

اپنی خوشبو بھی ہواؤں میں سمیٹے رکھتے ہیں
یاد کی دھول ہمیں دے جاتے ہیں جانے والے

مسعودؔ صبر بھی ایک دن جواب دے جاتا ہے
یوں جو خاموشی سے دل توڑ جاتے ہیں جانے والے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں