دنیا میں سستا ترین مہمان ماں باپ: وہ مہمان جو اپنا سب کچھ دے کر بھی کچھ نہیں مانگتےدنیا میں ہر رشتے کی کوئی نہ کوئی بنیاد ہوتی ہے، کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے، لیکن ماں باپ کا رشتہ وہ واحد رشتہ ہے جو لین دین کے تمام دنیاوی فلسفوں سے آزاد ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ "دنیا کے سب سے سستے ترین مہمان ماں باپ ہوتے ہیں"، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی قیمت کم ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی قناعت اور بے لوث محبت اتنی عظیم ہے کہ وہ اپنے بچوں کے گھر میں ایک تنکے کا بوجھ بھی بننا پسند نہیں کرتے۔عام طور پر جب ہمارے گھر کوئی مہمان آتا ہے، تو ہم ہفتوں پہلے تیاری کرتے ہیں۔ بہترین بستر، لذیذ کھانے اور گھر کی سجاوٹ کا خیال رکھا جاتا ہے۔ لیکن جب ماں یا باپ بیٹے یا بیٹی کے گھر قدم رکھتے ہیں، تو وہ کسی پروٹوکول کے طلبگار نہیں ہوتے۔ وہ تو اس کونے میں بھی خوش ہو جاتے ہیں جہاں سب سے کم سہولیات ہوں۔ وہ مہمان ہو کر بھی یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ مہمان ہیں۔ وہ تو الٹا میزبان بن کر گھر کے کاموں میں جٹ جاتے ہیں۔یہاں میں شاعر محمد مسعود جو برطانیہ شہر نوٹنگھم میں مقیم ہیں ان کی شاعری کی کچھ لائنز شامل کروں گا اس درد کو لفظوں میں ڈھالتے ہوئے شاعر کہتا ہے:وہی بوڑھی آنکھیں، وہی مامتا کی تڑپ لے کر آئے ہیں وہ اپنے ساتھ دعاؤں کی ایک کائنات سمیٹ لائے ہیں نہ طلب ہے دسترخوان کی، نہ آرام کی کوئی خواہش مسعود وہ تو بس اولاد کی خوشی کی خیرات لائے ہیںایک ماں جب بیٹی کے گھر جاتی ہے، تو اس کی نظریں صوفوں کی چمک پر نہیں، بلکہ بیٹی کی تھکن پر ہوتی ہیں۔ وہ چپکے سے کچن میں جا کر ہانڈی سنبھال لیتی ہے تا کہ بیٹی تھوڑی دیر سکون سے سو سکے۔ وہ پوتے پوتیوں کو سنبھالتی ہے تا کہ بچوں کی زندگی میں سکون رہے۔اسی طرح باپ، جو زندگی بھر گھر کا ستون رہا، بیٹے کے گھر جا کر ایک عام سے فرد کی طرح رہنے لگتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کی وجہ سے بیٹے کے بجٹ پر کوئی اثر پڑے۔ وہ اپنی دوائیوں کا خرچ چھپاتا ہے، اپنی تکلیف کو مسکراہٹ میں بدل دیتا ہے، تاکہ بیٹا پریشان نہ ہو۔ کیا دنیا میں ایسا کوئی اور مہمان ہے جو اپنی تکلیف چھپا کر آپ کو سکون دے؟اس جگہ آ کر شاعر پھر کہتا ہے کہ جھک گئی ہے کمر زمانے کے بوجھ تلے لیکن لبوں پر وہی دعا ہے، دل میں وہی ارمان ہے بچے پوچھتے نہیں حال ان کی تنہائی کا مسعود باپ تو گھر کا سب سے سستا مہمان ہےآج کے دور میں جب ہم مادی ترقی کی دوڑ میں لگے ہیں، ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ "سستے مہمان" دراصل ہماری زندگی کی سب سے بڑی دولت ہیں۔ وہ خاموشی سے گھر کی صفائی کر دیں گے، بچوں کو کہانیاں سنائیں گے، اور جب رخصت ہونے کا وقت آئے گا تو وہی پرانا تھکا ہوا سوٹ کیس اٹھا کر مسکراتے ہوئے چلے جائیں گے۔ وہ اپنے ساتھ آپ کی پریشانیاں لے جاتے ہیں اور اپنے حصے کی برکتیں آپ کے گھر چھوڑ جاتے ہیں۔وہ کبھی شکوہ نہیں کرتے کہ انہیں پھل کیوں نہیں دیے گئے یا انہیں گھمانے کیوں نہیں لے جایا گیا۔ ان کی کل کائنات صرف آپ کا مسکراتا ہوا چہرہ ہے۔شاعر عرض کرتا بیٹی کے آنسو دیکھے تو خود بھی رو دیے وہ بیٹے کی ایک چھینک پر اپنی نیندیں کھو دیے وہ اب بوجھ لگنے لگے ہیں اپنی ہی اولاد کو مسعود جو عمر بھر کانٹوں کی جگہ پھول بو دیے وہجب یہ مہمان رخصت ہوتے ہیں، تو گھر خالی نہیں ہوتا بلکہ ویران ہو جاتا ہے۔ ان کی موجودگی سے جو رونق اور سکون گھر کے در و دیوار میں بسا ہوتا ہے، وہ کسی فرنیچر یا ڈیکوریشن سے نہیں آ سکتا۔ وہ جاتے ہوئے بھی آپ کے ہاتھ میں کچھ پیسے تھما جاتے ہیں کہ "بچوں کو کوئی چیز دلا دینا"۔ یہ وہ مہمان ہیں جو دے کر جاتے ہیں، لے کر کچھ نہیں جاتے۔ تحریر ختم ہونے کے آخر میں شاعر پھر کہتا ہے وقت کی گرد نے چہروں کو دھندلا دیا ہے اب اپنوں نے ہی اپنوں کو پرایا بنا دیا ہےاب ان کی خاموشی میں سسکیاں ہیں زمانے بھر کی مسعود دنیا نے انہیں صرف ایک 'مہمان' بنا دیا ہے ابہمیں چاہیے کہ ان "سستے مہمانوں" کی قدر کریں اس سے پہلے کہ وہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جائیں۔ ان کی موجودگی اللہ کی رحمت کا سایہ ہے۔ ان سے باتیں کریں، ان کے پاس بیٹھیں، ان کا ہاتھ تھامیں، کیونکہ وہ آپ کے پیسوں کے نہیں، آپ کی محبت کے طلبگار ہیں۔ یہ وہ مہمان ہیں جن کے قدموں تلے جنت ہے اور جن کی رضا میں رب کی رضا ہے۔تحریر محمد مسعود نوٹنگھم یو کے ​

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں