کھوئے ہوئے لمحے


ماضی کے صفحوں پہ لکھی ایک کہانی ہوں میں
ٹوٹے ہوئے خوابوں کی ایک نشانی ہوں میں

جو لوٹ نہ پایا کبھی وقت کے دریا سے
بکھری ہوئی یادوں کی روانی ہوں میں

وہ ہنسی، وہ باتیں، وہ موسم پرانے
آنکھوں میں ٹھہری ہوئی حیرانی ہوں میں

کچھ درد جو لفظوں میں کبھی ڈھل نہ سکے
خاموش دلوں کی وہ زبانی ہوں میں

جو کھو گیا برسوں میں، مگر دل سے نہ گیا
ماضی کی ہر ایک وہ نشانی ہوں میں



یہ غزل “کھوئے ہوئے لمحے” ماضی، یادوں اور وقت کے گزرنے کے احساسات کا پُراثر خلاصہ پیش کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود کو ماضی کے صفحات پر لکھی ایک کہانی قرار دیتا ہے، جو ٹوٹے ہوئے خوابوں اور ادھوری خواہشوں کی علامت ہے۔ وقت کے دریا سے وہ لمحے کبھی واپس نہیں آ سکے، مگر ان کی یادیں آج بھی دل میں بکھری ہوئی روانی کی صورت زندہ ہیں۔ پرانی ہنسی، بے ساختہ باتیں اور گزرے موسم آنکھوں میں ایک خاموش حیرت بن کر ٹھہر گئے ہیں۔ غزل میں ایسے درد کا ذکر ہے جو لفظوں میں ڈھل نہیں سکا اور دلوں کی خاموشی میں چھپا رہا۔ برسوں میں بہت کچھ کھو گیا، مگر وہ سب دل سے محو نہ ہو سکا۔ یوں یہ غزل انسان کے باطن میں محفوظ ماضی کی نشانیاں، یادوں کی شدت اور وقت کی بے بسی کو نہایت سادہ مگر گہرے انداز میں بیان کرتی ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں