بدل گیا ہے میرے اندر کا موسم
بدل گیا ہے میرے اندر کا موسم
محبتوں میں فقط وہ جدا نہیں ہوتا
وہ جائے تو کوئی بھی سلسلہ نہیں ہوتا
دل کے آسمان پہ بادل ٹھہر گئے ایسے
کہ پھر کبھی بھی یہاں سویرا نہیں ہوتا
وہ اپنے ساتھ لے گیا خوشبو بھی، یاد بھی
اب اِس مکان میں کوئی بسا نہیں ہوتا
بدل گیا ہے میرے اندر کا موسم اس طرح
کہ اب یہاں کوئی پھول کھلا نہیں ہوتا
جی رہے ہیں ہم دکھانے کے لیے زمانے بھر کو
مگر وہ پہلا سا اب مسعود حوصلہ نہیں ہوتا
لبوں پہ ہنسی، آنکھوں میں خاموشی ہے سجی
جو دل پہ گزرے وہ چہرے سے بیاں نہیں ہوتا
"بدل گیا ہے میرے اندر کا موسم" یہ غزل جدائی کے اس کرب کی عکاسی کرتی ہے جہاں محبوب کا جانا محض ایک جسمانی دوری نہیں، بلکہ ایک مکمل داخلی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ شاعر محمد مسعود بیان کرتا ہے کہ جب محبوب رخصت ہوتا ہے تو وہ تنہا نہیں جاتا، بلکہ اپنے ساتھ وابستہ تمام رعنائیاں، یادیں اور خوشبوئیں بھی لے جاتا ہے، جس سے زندگی کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔
جدائی کے بعد انسان کے اندر کا نفسیاتی موسم بدل جاتا ہے۔ دل کے آسمان پر اداسی کے بادل مستقل ڈیرے ڈال لیتے ہیں، جس کے بعد امید کی کوئی کرن (سویرا) نظر نہیں آتی۔ شاعر محمد مسعود کے مطابق، بچھڑنے کے بعد انسان زندہ تو رہتا ہے، مگر اس کی شخصیت کا وہ متحرک پن اور حوصلہ ختم ہو جاتا ہے جو کبھی اس کی پہچان تھا۔ اب زندگی محض ایک دکھاوا ہے؛ چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ تو سجائی جا سکتی ہے، مگر روح کی ویرانی اور دل کی خاموشی کو چھپانا ممکن نہیں۔ یہ غزل ثابت کرتی ہے کہ محبت میں بچھڑنا انسان کے وجود کو اندر سے خاموش اور بنجر کر دیتا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں