چراغِ مساوات

چراغِ مساوات



ہر ایک دل میں محبت کا نور ہونا چاہیے
ہر ایک شخص کو عزت ضرور ہونا چاہیے

نہ کوئی اونچا ہو، نیچا نہ کوئی دنیا میں
ہر ایک دل سے تکبر کو دور ہونا چاہیے

نہ فرق مسجد و مندر کا ہو محبت میں
ہر ایک دل کو محبت کا طور ہونا چاہیے

کسی کی آنکھ سے ٹپکے جو درد کا آنسو
تو اپنے دل کو بھی غم سے چُور ہونا چاہیے

یہی ہے درسِ مساوات، اے مرے مسعودؔ
ہر ایک شخص کو انساں ضرور ہونا چاہیے


یہ غزل انسانی برابری، محبت، اخوت اور مذہبی رواداری کا پیغام دیتی ہے۔ محمد مسعودؔ اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ انسان کی اصل عظمت اس کے مرتبے، مذہب یا دولت میں نہیں بلکہ اس کے اخلاق، محبت اور دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے میں ہے۔ غزل کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ نفرت، غرور اور امتیاز کو مٹا کر ہر انسان کو عزت اور مساوی مقام دیا جائے، کیونکہ حقیقی انسانیت ہی مساوات کا روشن چراغ ہے۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

شک

یک طرفہ محبت