دردِ ہجر

دردِ ہجر

دردِ دل کی شام میں دل کو جلا رہا ہوں
اشکوں کی بارشوں میں خواب بہا رہا ہوں

غمِ ہجر کی راہوں میں تنہا بھٹک رہا ہوں
یادوں کے زخم دل میں پھر سے سجا رہا ہوں

وقت کی تیز دھوپ میں جلتا رہا ہوں لیکن
ہر درد اپنے دل کا دنیا سے چھپا رہا ہوں

تنہائیوں کی شب میں سسکی دبی ہوئی ہے
ہر اشک سے میں دل کا اک غم مٹا رہا ہوں

یہ دردِ ہجر شاید مر کر بھی کم نہ ہو گا
مسعودؔ اپنی غم کی داستاں سنا رہا ہوں


اس غزل کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ بعض جدائیاں وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں، بلکہ انسان کے دل میں ہمیشہ کے لیے ایک خاموش درد بن کر زندہ رہتی ہیں

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

شک

یک طرفہ محبت