کرب نہاں

یہ مجھ کو کیوں ہے اس دنیا پہ اتنا یقیں 
جو میرا حال ہے سب کو، وہ معلوم نہیں 

ہمیں تو خود بھی معلوم ہے، ہم تھے ہی کہیں
وہ منزل تھی، وہ رستہ تھا، وہ ساری زمیں 

وہ مجھ سے کہہ رہا تھا، مجھ کو جانا ہے وہیں 
یہ خوابوں کی ہے دنیا یا حقیقت ہے کہیں، 

جو مسعود نے یہ سوچا ہے، یہ تو سچ ہے 
کہ ایسا کوئی بھی چہرہ جہاں میں نہیں

تمہیں کیا علم ہے، یہ زندگی کیسی ہے میری 
جو زخم ہے ظاہری تو ہے مخفی بھی کہیں

اگرچہ ہجر میں ہے گزری یہ ساری عمر 
مگر اس رنج و غم کی کوئی حد نہیں، 


کربِ نہاں یہ غزل شاعر ( محمد مسعود ) کی حیرت، تذبذب، اور اندرونی کرب کو بیان کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) دنیا کی صداقت پر اپنے پختہ یقین پر حیران ہے، جبکہ اس کے اندرونی غم اور حالتِ زار سے دنیا بے خبر ہے۔ یہ کیفیت ایک داخلی کشمکش کو ظاہر کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) ایک ماضی کی منزل، راستے، اور زمین کا ذکر کرتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی کھوئی ہوئی حقیقت یا یاد کو تسلیم کرتا ہے جو اب اس کے پاس نہیں ہے۔ یہ اشارے کسی گمشدہ منزل یا آرزو کی طرف ہیں۔ غزل میں ایک محبوب یا کسی دوسرے شخص کا حوالہ ہے جو وہاں جانے کی بات کرتا ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ خوابوں کی دنیا ہے یا حقیقی۔ شاعر (محمد مسعود ) ایک دوسرے شخص، مسعود کے خیال کو سچ مانتا ہے کہ اس جیسا لاجواب چہرہ دنیا میں کہیں نہیں۔ یہ ایک شدید لگاؤ یا بے مثال حسن کی تعریف ہے۔ شاعر مسعود  اپنے مخفی اور ظاہری دونوں طرح کے گہرے زخموں کا ذکر کرتے ہوئے اپنی زندگی کے کربناک اور پوشیدہ دکھوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بالآخر، پوری عمر جدائی اور ہجر میں گزرنے کے باوجود، شاعر مسعود محسوس کرتا ہے کہ اس کے رنج و غم کی کوئی انتہا نہیں۔ اور ایک دائمی دکھ کے احساس کو اجاگر کرتی ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں