خاموش محبت کی عبادت
دل نے تیری یاد کو عبادت بنا لیا
خاموش محبتوں کو روایت بنا لیا
آنکھوں نے تیرے خواب سنبھالے ہیں اس طرح
جیسے کسی نے درد کو دولت بنا لیا
تو پاس تھا تو سانس بھی مہکی ہوئی لگی
تو دور کیا ہوا، تو قیامت بنا لیا
ہم نے تیری ہنسی کو دعا کی طرح پڑھا
لفظوں نے تیرے نام کو آیت بنا لیا
اک لمسِ مہرباں نے بدل دی ہے کائنات
ہم نے اسی خیال کو جنت بنا لیا
کچھ بھی نہ مانگا تیرے سوا کبھی
بس ایک تیری چاہت کو قسمت بنا لیا
خاموش محبت کی عبادت یہ شاعری محبت کے اس پاکیزہ درجے کو بیان کرتی ہے جہاں محبوب کی یاد محض ایک احساس نہیں بلکہ عبادت کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) نے اپنی خاموش محبت کو ایک ایسی روایت میں ڈھال لیا ہے جو دنیا کے شور سے بے نیاز ہے۔ محبوب کے خوابوں کو آنکھوں میں اس طرح چھپا کر رکھا گیا ہے جیسے کوئی قیمتی خزانہ ہو، یہاں تک کہ محبت میں ملنے والا دکھ بھی شاعر مسعود کے لیے ایک سرمایہ بن گیا ہے۔
محبوب کی موجودگی زندگی میں خوشبو اور سکون کا باعث تھی، جبکہ اس کی دوری ایک قیامت سے کم نہیں۔ شاعر ( محمد مسعود ) نے محبوب کی ہنسی کو دعا اور اس کے نام کو آیت کی طرح مقدس مانا ہے، جو اس کی بے پناہ عقیدت کا ثبوت ہے۔ محض ایک مہربان لمس کے تصور نے شاعر ( محمد مسعود ) کی پوری کائنات بدل کر رکھ دی ہے اور اس نے اسی خیال کو اپنی جنت بنا لیا ہے۔ مختصراً یہ کہ شاعر مسعود نے دنیا کی تمام آسائشوں کو ٹھکرا کر صرف محبوب کی چاہت کو ہی اپنی قسمت اور حاصلِ زندگی تسلیم کر لیا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں