تم نے چاہا ہی نہیں
تم نے چاہا ہی نہیں
تم نے چاہا ہی نہیں ورنہ سنور جاتے ہم
تمہارے لہجے میں آ کر بکھر جاتے ہم
تمہیں تو شوق تھا بس آزمانے کا
ہم تو پہلی نظر میں ہی مر جاتے ہم
یہ جو ہجر کی رات ہے کٹ ہی جائے گی
تم اگر یاد آؤ تو اکثر ڈر جاتے ہم
لوگ تو بس تماشا دیکھتے ہیں مسعود
تم جو ہاتھ تھام لیتے تو نکھر جاتے ہم
محبوب کی بے رخی اور نہ چاہنے کی وجہ سے دو محبت کرنے والے جدا ہو گئے۔ محمد مسعود کہتا ہے کہ اس کی طرف سے محبت میں کوئی کمی نہیں تھی، اگر محبوب تھوڑی سی توجہ دے دیتا تو رشتہ بچ سکتا تھا۔ یہ غزل ایک طرفہ محبت، ہجر کا دکھ اور اس شکوے کو بیان کرتی ہے کہ تم نے چاہا ہی نہیں ورنہ ہم بچھڑتے ہی نہیں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں