تیری خاموش نظر
دل نے جب بھی تجھے چاہا ہے عبادت کی طرح
نام تیرا ہی لیا ہے ہر محبت کی طرح
تیری خاموش نظر نے مجھے بولنا سکھایا
میں نے سمجھا ہے تجھے دل کی ضرورت کی طرح
رات تنہائی میں جب ٹوٹ کے رویا ہے یہ دل
یاد تو آئی ہے آنسو کی امانت کی طرح
تو ملا تو یہ لگا مجھے عمر سنورتی جائے
زندگی مل گئی ہو جیسے بشارت کی طرح
تیرے وعدوں کی حرارت نے جلایا ہے مجھے
درد بھی سہہ لیا میں نے ریاضت کی طرح
خود کو بھولا ہے مگر تجھ کو بھلایا نہ کبھی
مسعودؔ نے چاہا ہے تجھے اپنی شناخت کی طرح
تیری خاموش نظر یہ غزل شاعر ( محمد مسعود ) کے گہرے اور پُرخلوص عشق کا اظہار ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) نے اپنے محبوب کو ایک عبادت کے طور پر چاہا ہے، جہاں محبوب کا نام لینا ہی گویا محبت کا ہر روپ ہے۔ محبوب کی خاموش نظر نے ہی شاعر مسعود کو اظہار کا ہنر سکھایا، اور اب شاعر ( محمد مسعود ) اس وجود کو دل کی بنیادی ضرورت سمجھتا ہے۔
تنہائی میں جب دل غمگین ہوا اور آنسو بہے، تب بھی محبوب کی یادیں ایک قیمتی امانت کی طرح ساتھ رہیں۔ محبوب کا ملنا زندگی میں ایک بشارت اور سنوار کی صورت آیا، مگر اس کے وعدوں کی حرارت نے شاعر ( محمد مسعود ) کو درد بھی دیا۔ اس درد کو بھی شاعر مسعود نے ایک ریاضت سمجھ کر قبول کیا۔ آخر میں، شاعر ( محمد مسعودؔ ) یہ اعتراف کرتا ہے کہ اس نے خود کو بھلا دیا، مگر محبوب کو کبھی نہیں بھلایا۔ یہ محبت اب اس کی ذاتی شناخت کا حصہ بن چکی ہے، جو کبھی جدا نہیں ہو سکتی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں