بے نام رفاقت

بے نام رفاقت

​سفر تو ختم ہوا، مگر یہ سلسلہ کیا ہے؟
جو تو نہیں ہے، تو پھر خواب میں ملا کیا ہے؟

​ہزار پردوں میں خود کو چھپا کے دیکھ لیا،
بتاؤ! میرے علاوہ کوئی دوسرا کیا ہے؟

​وہ شام آج بھی بیٹھی ہے میرے پہلو میں،
جو وقت لے گیا تھا، وہ لمحہ لوٹا کیا ہے؟

​عجیب رسمِ محبت ہے، نام کی بھی نہیں،
یہ بے نام سی رفاقت، یہ آشنا کیا ہے؟

​درد اپنا کر کے اسے ہم نے جی لیا، مسعود مگر
یہ دل کی بات ہے، لفظوں میں اب سنا کیا ہے؟



یہ غزل شاعر ( محمد مسعود ) کی ایک بے نام رفاقت اور ختم ہو جانے والے سفر کے بعد پیدا ہونے والے جذبات کے تضاد کو بیان کرتی ہے۔ یہ غزل دراصل جدائی کے بعد کی تنہائی اور محبت کی غیر رسمی نوعیت کو اجاگر کرتی ہے۔ شاعر مسعود  اعتراف کرتا ہے کہ ظاہری سفر ختم ہو چکا ہے، مگر محبوب کی غیر موجودگی کے باوجود خوابوں میں اس کا ملنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جذباتی تعلق کا سلسلہ اب بھی باقی ہے۔ وہ خود کو دنیا کی نظروں سے چھپانے کی ہزار کوششیں کرتا ہے لیکن اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس کے وجود اور تخیل میں محبوب کے سوا کوئی دوسرا شامل نہیں ہے۔
غزل میں ایک ماضی کی حسین شام کی یاد کو تازہ کیا گیا ہے جو وقت کے گزر جانے کے باوجود شاعر ( محمد مسعود ) کے پہلو میں موجود ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ وقت نے جسمانی لمحہ تو لے لیا، مگر احساسات اور یادیں آج بھی زندہ ہیں۔
سب سے اہم موضوع "بے نام رفاقت" ہے۔ یہ محبت ایک عجیب رواج کی حامل ہے جہاں کوئی نام یا عہد نہیں، مگر گہری آشنائی اور جذباتی قربت موجود ہے۔ آخر میں، شاعر ( محمد مسعود ) درد کو اپنا کر جی لینے کی بات کرتا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ دل کا معاملہ ہے، جسے الفاظ کے ذریعے بیان کرنا اب بے معنی ہے۔ پوری غزل خاموش، گہرے اور بے لوث عشق کا اظہار ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں