سکوتِ یاد
نہ مجھے یاد تم آؤ، نہ تجھے یاد میں آؤں
یہی خواہش ہے کہ اب حد سے ذرا آگے میں جاؤں
دلِ ناداں کو سمجھاؤں بھی تو کس طرح آخر
ہر طرف تم ہی تم ہو، میں کہاں جا کے چھپاؤں
زخمِ ہجراں کو چھپانے کا ہنر سیکھ لیا ہے
مسکرا کر بھی کئی درد میں تنہا بہاؤں
ہم نے مانا کہ محبت میں انا ہار گئی ہے
کیا ضروری ہے کہ میں ٹوٹ کے پھر لوٹ کے آؤں
رات تنہائی میں آنسو بھی بغاوت پہ اتر آئے
میں جو چاہوں بھی تو اب خود کو نہ خود سے بچاؤں
کچھ دعا، کچھ بددعا، کچھ تو اثر ہونا تھا
عمر گزری ہے تیری یاد کے سائے میں جاؤں
لوگ کہتے ہیں کہ وقت سب کو بھلا دیتا ہے
کاش! یہ سچ ہو، تو میں خود کو ذرا سمجھاؤں
مسعودؔ اب یہی بہتر ہے، سکوت اپنا شعار
نہ مجھے یاد تم آؤ، نہ تجھے یاد میں آؤں
شاعر محمد مسعود کی یہ غزل "سکوتِ یاد" ہجر و فراق، خودداری اور داخلی کشمکش کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ غزل کا مرکزی خیال ماضی کے جذباتی رشتوں سے پیچھا چھڑانے اور خاموشی میں سکون تلاش کرنے کی جدوجہد ہے۔
شاعر محمد مسعود اپنی خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ اب وہ اس مقام پر پہنچنا چاہتا ہے جہاں نہ اسے محبوب کی یاد ستائے اور نہ وہ محبوب کی یادوں کا حصہ رہے۔ وہ اپنے "دلِ ناداں" کی بے بسی کا ذکر کرتا ہے کہ ہر طرف محبوب کا عکس موجود ہے، جس سے فرار ممکن نہیں۔ غزل میں ضبطِ غم کا پہلو نمایاں ہے؛ شاعر ( محمد مسعود ) نے مسکراہٹ کے پیچھے زخم چھپانے کا ہنر تو سیکھ لیا ہے، لیکن تنہائی میں جذبات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔
سب سے اہم نکتہ انا اور محبت کا ٹکراؤ ہے، جہاں شاعر ( محمد مسعود ) ٹوٹ کر بکھرنے کے باوجود دوبارہ پلٹ کر جانے کو ضروری نہیں سمجھتا۔ مقطع میں وہ "سکوت" خاموشی کو اپنا شعار بنانے کا فیصلہ کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اب وہ لفظوں اور یادوں کے ہنگاموں سے دور، خاموشی کی پناہ میں سکون تلاش کرنا چاہتا ہے۔ یہ غزل ایک دکھی دل کی اس منزل کی داستان ہے جہاں انسان درد سہتے سہتے تھک کر بیزاری اور خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں