جو دل میں تھا


جو دل میں تھا 

جو دل میں تھا وہ لب پر کبھی کہا نہ رہا
اسی کا رنج ہے دل کو کہ وہ ملا نہ رہا

ہم اس سے کیا گلہ کرتے، قصور اپنا تھا
نبھا تو لیتے مگر ہم سے حقِ وفا نہ رہا

وہ ایک نام جو ہر سانس میں صدا بن کر
بسا رہا، سو زمانے کو یہ گوارا نہ رہا

ستم تو اس نے کیے، ہم نے مسکرا کر سہے
کسی بھی موڑ پہ شکوہ کوئی کھلا نہ رہا

سنا تھا ٹوٹ کے مانگو تو مل ہی جاتی ہے
دعا تو کی تھی بہت، پر اثر ہوا نہ رہا

مسعودؔ یہ بھی عجب وقت کا تقاضا ہے
کہ اپنا درد بھی اب دردِ دل رہا نہ رہا


جو دل میں تھا یہ غزل محبت میں ناکامی، بے بسی اور اندرونی کرب کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) کا سب سے بڑا افسوس یہ ہے کہ جو جذبات دل میں تھے وہ کبھی زبان پر نہ آ سکے، جس کا نتیجہ محبوب کی دوری کی صورت میں نکلا۔
شاعر مسعود اعتراف کرتا ہے کہ اس رشتے کی ناکامی میں صرف محبوب کا قصور نہیں، بلکہ اس کی اپنی کمزوری تھی کہ وہ حقِ وفا پوری طرح نبھا نہ سکا۔ ایک نام جسے دل نے ہر سانس میں بسا رکھا تھا، زمانے کو وہ قربت گوارا نہ ہوئی اور بالآخر دوری ہو گئی۔
شاعر ( محمد مسعود ) نے محبوب کے تمام ستم مسکرا کر جھیلے، کبھی شکایت نہیں کی، جو اس کے صبر کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ آخری اشعار میں قسمت اور بے اثری کا شکوہ ہے؛ کہ ٹوٹ کر مانگی گئی دعا بھی قبول نہ ہو سکی۔ غزل کا اختتام محمد مسعود ایک تلخ حقیقت پر کرتا ہے کہ اب ذاتی درد بھی اتنا عام ہو چکا ہے کہ وہ دل کا حقیقی درد نہیں رہا، بلکہ زمانے کا ایک عام قصہ بن گیا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں