تیرا جمال رہا
خزاں کا موسم گیا، بس تیرا جمال رہا
میرے خیال میں اب تک وہی جمال رہا
میں جانتا ہوں کہ دنیا قریب ہے میرے
مگر نظر میں ہمیشہ تیرا جمال رہا
یہ دل بھی کیا ہے، اسے ایک بار دیکھ لیا
تو پھر تمام ہی لمحے تیرا جمال رہا
سفر طویل تھا، منزل کو پا لیا ہے مگر
میں خود بدل گیا اور یہ جمال رہا
تجھے پکار کے دیکھے گا جب مسعود تو
یہ یہی کہے گا، زمانے پہ تیرا جمال رہا
ترا جمال رہا یہ غزل دراصل محبوب کے لافانی حسن کی تعریف اور اس کے دائمی اثر کو بیان کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) کہتا ہے کہ اگرچہ زندگی میں خزاں مایوسی یا مشکل وقت آتی ہے اور چلی جاتی ہے، لیکن محبوب کا حسن جمال اس کے خیال میں ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ دنیاوی کششیں اور مصروفیات اپنی جگہ ہیں، مگر شاعر کی نگاہیں صرف محبوب کے جمال پر ہی مرکوز رہتی ہیں۔ ایک بار اس حسن کو دیکھ لینے کے بعد، دل پر اس کا ایسا گہرا اثر ہوتا ہے کہ ہر گزرتا لمحہ اسی کی یاد میں بسر ہوتا ہے۔ غزل کا اختتام اس خیال پر ہوتا ہے کہ اگرچہ شاعر ( محمد مسعود ) نے زندگی کے طویل سفر میں خود کو بدل ڈالا اور منزل کو بھی پا لیا، لیکن محبوب کا حسن ہمیشہ ایک مستقل حقیقت کے طور پر باقی رہا ہے۔ شاعر، زمانے کو گواہ بنا کر، یہ اعتراف کرتا ہے کہ دنیا پر ہمیشہ محبوب کے حسن کی حکمرانی رہی ہے۔ یہ غزل مستقل محبت، عقیدت اور محبوب کے حسن کی لازوال تاثیر کو اجاگر کرتی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں