تم یاد رکھنا

جو خواب میں بھی نہ بدلے وہی لحاظ تم یاد رکھنا
جبھی بھی ملنا ہو تو وہ دل کی راہ گزار تم یاد رکھنا۔

وہ میری راہ میں جو ایک روشنی سی تھی کبھی
بجھا چکا ہوں میں اب وہ تم سوز و ساز تم یاد رکھنا

جو ہجر میں بھی میری آنکھ کبھی نم نہیں ہونے دے
وہ میرے عشق کا ہے سب سے بڑا مجاز تم یاد رکھنا

زمانے بھر سے جو میں نے چھپا لیا تھا کبھی خود کو
میرے کلام کا وہ سارا امتیاز صبح شام تم یاد رکھنا۔

ہوائے شام ملے جو مسعود تم کو تو بس اتنا کہہ دینا 
تیری خاموشی میں تھا جو راز وہی آواز تم یاد رکھنا۔



یہ نظم ثابت قدمی، جذباتی گہرائی اور یادوں کے دوام کو بیان کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اپنے مخاطب سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ رشتوں میں اس اخلاص (لحاظ) کو ہمیشہ یاد رکھے جو خواب میں بھی تبدیل نہ ہو۔ ملاقات کے لیے ضروری "دل کی راہ گزار" کی اہمیت کو بھی برقرار رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
شاعر (محمد مسعود ) اعتراف کرتا ہے کہ اس کی زندگی میں جو "روشنی سی تھی" یا امید کی شمع جل رہی تھی، اسے اب وہ خود بجھا چکا ہے، لہٰذا مخاطب کو اس "سوز و ساز" (تڑپ اور آہنگ) کو یاد رکھنا چاہیے۔ نظم عشق کی عظمت کو بیان کرتی ہے، جس میں ہجر کی تکلیف کے باوجود آنکھ نم نہیں ہوتی اور اسی "مجاز" (استعارہ یا علامت) کو سب سے بڑی حقیقت تسلیم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ شاعر، ( محمد مسعود ) جس کا تخلص مسعود معلوم ہوتا ہے، اپنے کلام اور خاموشی کے امتیاز کو یاد رکھنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔ یہ خاموشی ہی دراصل وہ "راز" تھا جو اس کے دل کی "آواز" بن کر ابھرا، اور یہی خاموش آواز زمانے بھر سے چھپائی گئی ہے۔ دراصل، یہ خلاصہ ایک ایسے خالص اور گہرے جذباتی تعلق کی یاد دہانی ہے جو لفظوں سے زیادہ خاموش اشاروں میں موجود ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں