تیرے سنگ بہار

تیرے سنگ بہار

تیری پلکوں پہ ٹھہرا ہوا وہ پیار چاہیے
مجھ کو جینے کے لیے تیرا اعتبار چاہیے

​سرد موسم ہے اور یادوں کی دھونی جلی ہے
بس اِیک تِرا ساتھ، تِیرا قربِ یار چاہیے

​لوگ مانگتے ہوں گے زمانے بھر کی خوشیاں
ہمیں تو بس تِیری آنکھوں کا خمار چاہیے

​تیرے ہاتھ کی لکیروں میں میرا نام لکھا ہو
ایسی قربت، ایسا دلکش حصار چاہیے

​تو ملے تو بدل جائے یہ اجڑا ہوا موسم
مجھے تیرے سنگ ہی موسمِ بہار چاہیے

"تیرے سنگ بہار" یہ غزل محبت کے مخلصانہ جذبات اور دسمبر کی اداسی میں محبوب کے ساتھ کی تڑپ کو بیان کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود کے نزدیک زندگی کا اصل حاصل دنیا کی آسائشیں نہیں بلکہ محبوب کی آنکھوں میں جھلکتی سچائی اور اس کا اعتبار ہے۔ غزل کا آغاز ہی ایک گہرے تعلق کی بنیاد پر ہوتا ہے، جہاں جینے کے لیے کسی سہارے کی نہیں بلکہ صرف ایک نگاہِ کرم کی ضرورت ہے۔
دسمبر کی سردی اور تنہائی کے ذکر سے شاعر محمد مسعود نے یہ واضح کیا ہے کہ محبوب کی موجودگی کسی بھی سرد موسم کو موسمِ بہار میں بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔ "یادوں کی دھونی" جلانے کا استعارہ اس تڑپ کو ظاہر کرتا ہے جو جدائی میں محسوس ہوتی ہے۔ غزل کے درمیانی اشعار میں محبوب کے حصار (سائے) میں رہنے کی خواہش ایک ایسی وابستگی کو ظاہر کرتی ہے جہاں انسان خود کو مکمل طور پر دوسرے کے حوالے کر دیتا ہے۔
مختصراً یہ کہ یہ غزل محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسی کیفیت ہے جہاں عشق کی حدت سرد موسم پر غالب آ جاتی ہے اور شاعر محمد مسعود اپنے محبوب سے دائمی رفاقت کا تقاضا کرتا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں