کمالِ محبت

تیری قربت میں ہی سانسوں کو قرار آتا ہے
میرے دل کو ہر لمحہ تیرے ہونے کا خیال آتا ہے

تیری خوشبو سے مہک جاتا ہے ہر خواب میرا
رات کے بعد بھی ایک سہنا خواب سا حال آتا ہے

میں نے چھوا جو تیرے ہاتھ کو دھیرے سے کبھی
ساری دنیا سے الگ تلگ جدا سا ایک کمال آتا ہے

تو جو دیکھے تو ٹھہر جائے زمانہ جیسے
تیری آنکھوں میں عجب سا یہ جلال آتا ہے

میرے ہونٹوں پہ فقط نام تمہارا ہی رہے
دل کے آنگن میں یہی ایک سوال آتا ہے

کہہ رہا ہے یہ محبت سے دھڑکتا ہوا دل
تجھ سے جینا ہی مسعود کو کمال آتا ہے



کمالِ محبت ​یہ غزل محبوب کی قربت اور موجودگی کے گہرے اثر کو بیان کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) کہتا ہے کہ محبوب کی قربت میں ہی اس کی سانسوں کو حقیقی سکون ملتا ہے، اور اس کا دل ہر لمحہ صرف اسی کے خیال میں مگن رہتا ہے۔ محبوب کی ہستی ایک ایسی خوشبو کی مانند ہے جو شاعر ( محمد مسعود ) کے ہر خواب کو معطر کر دیتی ہے، اور رات گزرنے کے بعد بھی ایک دلکش، خوابیدہ کیفیت طاری رہتی ہے۔
​محبوب کے ہاتھ کو چھونے کا عمل دنیا کے تمام احساسات سے جدا اور منفرد کمال کا تجربہ دیتا ہے۔ محبوب کی نگاہوں میں ایک ایسا جلال اور رعب ہے کہ جب وہ دیکھتی ہے تو گویا وقت بھی تھم جاتا ہے۔ شاعر مسعود کی شدید چاہت ہے کہ اس کے ہونٹوں پر ہمیشہ صرف محبوب کا نام رہے، اور یہی اس کے دل کی سب سے بڑی آرزو ہے۔ آخر میں، شاعر ( محمد مسعود ) اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ محبوب کے ساتھ زندگی گزارنا ہی اس کے لیے سب سے بڑا اور مثالی کمال ہے۔ یہ غزل شدید عشق، سکون، اور والہانہ پن کا حسین امتزاج ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

چیلنج ( سوال )

دل پر ایسے بھی عذابوں کو اُترتے دیکھا

ماں