رب کی محبت
یہ دل نہیں یہ تیری یاد کا حرم ہے
ہر ایک نفس میں تیرا ذکر دم بہ دم ہے
عجیب کیف ہے، یہ تیرے در کی حاضری
کہ زندگی بھی تیری بندگی کا غم ہے
جہاں سے کٹ کر جو تیری راہ میں آیا
وہاں ہی منزلِ مقصود کا قدم ہے
بجھا دے پیاس میری دید کی جھلک دے کر
یہ روح پیاسی ہے یہ چشم اشک نم ہے
خدایا میرے بدن میں ہے روح ہی تیری
یہ میرا ہونا بھی تیرے وجود کا کرم ہے
تمام دنیا کی زینت تمام دنیا کا حسن
تیری ہی قدرت کا عکس اور تیرا رقم ہے
کبھی جو بھولوں میں اپنا مقام یا رب
تو پھر پکار مجھے تو ہی محترم ہے
مجھے خود پہ فخر ہے مسعود ہونے کا
کہ میرا نام تیرے عاشقوں میں ضم ہے
یہ نظم مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی محبت اور بندگی کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اس کا دل محض گوشت کا لوتھڑا نہیں بلکہ اللہ کی یاد کا مقدس ٹھکانہ (حرم) ہے، اور ہر سانس میں رب کا ذکر جاری ہے۔
شاعر ( محمد مسعود ) رب کے در پر حاضری کے روحانی سکون (کیف) کو بیان کرتا ہے، جہاں زندگی کی تمام تر مصروفیت دراصل اللہ کی عبادت میں گزر رہی ہے۔ دنیا سے رشتہ توڑ کر اللہ کی راہ پر چلنے والے کے لیے وہی راستہ ہی حقیقی منزل ہے۔
یہ دعا ہے کہ رب اپنے جلوے کی ایک جھلک دکھا کر اس پیاسی روح اور اشک بار آنکھ کی طلب پوری کرے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اعتراف کرتا ہے کہ اس کے وجود میں اللہ کی دی ہوئی روح ہے، اور اس کا ہستی میں ہونا ہی رب کا عظیم کرم ہے۔
آخر میں، شاعر ( محمد مسعود ) اس حقیقت پر فخر کرتا ہے کہ کائنات کا سارا حسن اللہ کی قدرت کا عکس ہے اور وہ خود کو عاشقوں کی صف میں شامل پا کر مطمئن ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں