اشاعتیں

2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اثر دعا

تصویر
مجھے تیرا نہ ملنا لوگوں کی بددعاؤں کا اثر لگتا ہے کہ خواب ٹوٹتے رہتے ہیں اور دل ہی قصوروار لگتا ہے ہم نے چاہا تھا تجھے سادہ سی عبادت کی طرح یہ عشق اب بھی مگر سب سے بڑی آزمائش لگتا ہے نہ کوئی شکوہ زبان پر، نہ کوئی حرفِ ملامت یہ صبر ہی ہے جو ہر زخم پر پہرے دار لگتا ہے کسی کی ایک نظر نے اجاڑ دی میری دنیا یہ دل بھی اب مجھے شیشے کا شہر لگتا ہے محبتوں کے سفر میں ہم اکیلے ہی رہ گئے ہر ہمسفر یہاں وقتی اور ہر موڑ غدار لگتا ہے یہ جدائی بھی مسعودؔ کوئی معمولی کہانی نہیں یہ وہ باب ہے جو ہر بار پڑھوں تو نیا لگتا ہے اثر دعا یہ غزل انسانی زندگی میں محبت، جدائی اور تقدیر کے کرب کو نہایت سادگی اور گہرے احساس کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود محبوب کے نہ ملنے کو محض اتفاق نہیں بلکہ لوگوں کی بددعاؤں کا اثر سمجھتا ہے، جہاں خوابوں کا بار بار ٹوٹنا دل کو ہی قصوروار ٹھہرا دیتا ہے۔ محبت کو عبادت جیسا پاکیزہ جذبہ قرار دیا گیا ہے، مگر یہی عشق سب سے بڑی آزمائش بن کر سامنے آتا ہے۔ غزل میں صبر کو ایک محافظ کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو ہر زخم پر پہرہ دیتا ہے، اگرچہ اندر کا درد خاموش نہیں ہوتا۔ ایک نظ...

خاموش جدائی

کیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے دل کے آنگن کو جلا جاتے ہیں جانے والے لفظ ساتھ ہوں تو بچھڑنا بھی سہل لگتا ہے بے صدا ہوں تو قیامت بن جاتے ہیں جانے والے ایک ہی لمحے میں چھین لیتے ہیں عمر بھر جو خواب آنکھوں میں سجا جاتے ہیں جانے والے ہم تو ہر موڑ پہ ٹھہرے رہے منتظر اُن کے راہ کو عمر کی تنہا بنا جاتے ہیں جانے والے اپنی خوشبو بھی ہواؤں میں سمیٹے رکھتے ہیں یاد کی دھول ہمیں دے جاتے ہیں جانے والے مسعودؔ صبر بھی ایک دن جواب دے جاتا ہے یوں جو خاموشی سے دل توڑ جاتے ہیں جانے والے

دنیا میں سستا ترین مہمان ماں باپ: وہ مہمان جو اپنا سب کچھ دے کر بھی کچھ نہیں مانگتےدنیا میں ہر رشتے کی کوئی نہ کوئی بنیاد ہوتی ہے، کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے، لیکن ماں باپ کا رشتہ وہ واحد رشتہ ہے جو لین دین کے تمام دنیاوی فلسفوں سے آزاد ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ "دنیا کے سب سے سستے ترین مہمان ماں باپ ہوتے ہیں"، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی قیمت کم ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی قناعت اور بے لوث محبت اتنی عظیم ہے کہ وہ اپنے بچوں کے گھر میں ایک تنکے کا بوجھ بھی بننا پسند نہیں کرتے۔عام طور پر جب ہمارے گھر کوئی مہمان آتا ہے، تو ہم ہفتوں پہلے تیاری کرتے ہیں۔ بہترین بستر، لذیذ کھانے اور گھر کی سجاوٹ کا خیال رکھا جاتا ہے۔ لیکن جب ماں یا باپ بیٹے یا بیٹی کے گھر قدم رکھتے ہیں، تو وہ کسی پروٹوکول کے طلبگار نہیں ہوتے۔ وہ تو اس کونے میں بھی خوش ہو جاتے ہیں جہاں سب سے کم سہولیات ہوں۔ وہ مہمان ہو کر بھی یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ مہمان ہیں۔ وہ تو الٹا میزبان بن کر گھر کے کاموں میں جٹ جاتے ہیں۔یہاں میں شاعر محمد مسعود جو برطانیہ شہر نوٹنگھم میں مقیم ہیں ان کی شاعری کی کچھ لائنز شامل کروں گا اس درد کو لفظوں میں ڈھالتے ہوئے شاعر کہتا ہے:وہی بوڑھی آنکھیں، وہی مامتا کی تڑپ لے کر آئے ہیں وہ اپنے ساتھ دعاؤں کی ایک کائنات سمیٹ لائے ہیں نہ طلب ہے دسترخوان کی، نہ آرام کی کوئی خواہش مسعود وہ تو بس اولاد کی خوشی کی خیرات لائے ہیںایک ماں جب بیٹی کے گھر جاتی ہے، تو اس کی نظریں صوفوں کی چمک پر نہیں، بلکہ بیٹی کی تھکن پر ہوتی ہیں۔ وہ چپکے سے کچن میں جا کر ہانڈی سنبھال لیتی ہے تا کہ بیٹی تھوڑی دیر سکون سے سو سکے۔ وہ پوتے پوتیوں کو سنبھالتی ہے تا کہ بچوں کی زندگی میں سکون رہے۔اسی طرح باپ، جو زندگی بھر گھر کا ستون رہا، بیٹے کے گھر جا کر ایک عام سے فرد کی طرح رہنے لگتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کی وجہ سے بیٹے کے بجٹ پر کوئی اثر پڑے۔ وہ اپنی دوائیوں کا خرچ چھپاتا ہے، اپنی تکلیف کو مسکراہٹ میں بدل دیتا ہے، تاکہ بیٹا پریشان نہ ہو۔ کیا دنیا میں ایسا کوئی اور مہمان ہے جو اپنی تکلیف چھپا کر آپ کو سکون دے؟اس جگہ آ کر شاعر پھر کہتا ہے کہ جھک گئی ہے کمر زمانے کے بوجھ تلے لیکن لبوں پر وہی دعا ہے، دل میں وہی ارمان ہے بچے پوچھتے نہیں حال ان کی تنہائی کا مسعود باپ تو گھر کا سب سے سستا مہمان ہےآج کے دور میں جب ہم مادی ترقی کی دوڑ میں لگے ہیں، ہم اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ "سستے مہمان" دراصل ہماری زندگی کی سب سے بڑی دولت ہیں۔ وہ خاموشی سے گھر کی صفائی کر دیں گے، بچوں کو کہانیاں سنائیں گے، اور جب رخصت ہونے کا وقت آئے گا تو وہی پرانا تھکا ہوا سوٹ کیس اٹھا کر مسکراتے ہوئے چلے جائیں گے۔ وہ اپنے ساتھ آپ کی پریشانیاں لے جاتے ہیں اور اپنے حصے کی برکتیں آپ کے گھر چھوڑ جاتے ہیں۔وہ کبھی شکوہ نہیں کرتے کہ انہیں پھل کیوں نہیں دیے گئے یا انہیں گھمانے کیوں نہیں لے جایا گیا۔ ان کی کل کائنات صرف آپ کا مسکراتا ہوا چہرہ ہے۔شاعر عرض کرتا بیٹی کے آنسو دیکھے تو خود بھی رو دیے وہ بیٹے کی ایک چھینک پر اپنی نیندیں کھو دیے وہ اب بوجھ لگنے لگے ہیں اپنی ہی اولاد کو مسعود جو عمر بھر کانٹوں کی جگہ پھول بو دیے وہجب یہ مہمان رخصت ہوتے ہیں، تو گھر خالی نہیں ہوتا بلکہ ویران ہو جاتا ہے۔ ان کی موجودگی سے جو رونق اور سکون گھر کے در و دیوار میں بسا ہوتا ہے، وہ کسی فرنیچر یا ڈیکوریشن سے نہیں آ سکتا۔ وہ جاتے ہوئے بھی آپ کے ہاتھ میں کچھ پیسے تھما جاتے ہیں کہ "بچوں کو کوئی چیز دلا دینا"۔ یہ وہ مہمان ہیں جو دے کر جاتے ہیں، لے کر کچھ نہیں جاتے۔ تحریر ختم ہونے کے آخر میں شاعر پھر کہتا ہے وقت کی گرد نے چہروں کو دھندلا دیا ہے اب اپنوں نے ہی اپنوں کو پرایا بنا دیا ہےاب ان کی خاموشی میں سسکیاں ہیں زمانے بھر کی مسعود دنیا نے انہیں صرف ایک 'مہمان' بنا دیا ہے ابہمیں چاہیے کہ ان "سستے مہمانوں" کی قدر کریں اس سے پہلے کہ وہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو جائیں۔ ان کی موجودگی اللہ کی رحمت کا سایہ ہے۔ ان سے باتیں کریں، ان کے پاس بیٹھیں، ان کا ہاتھ تھامیں، کیونکہ وہ آپ کے پیسوں کے نہیں، آپ کی محبت کے طلبگار ہیں۔ یہ وہ مہمان ہیں جن کے قدموں تلے جنت ہے اور جن کی رضا میں رب کی رضا ہے۔تحریر محمد مسعود نوٹنگھم یو کے ​

خاموش جدائی

کیسے چپ چاپ چلے جاتے ہیں جانے والے دل کے آنگن کو جلا جاتے ہیں جانے والے لفظ ساتھ ہوں تو بچھڑنا بھی سہل لگتا ہے بے صدا ہوں تو قیامت بن جاتے ہیں جانے والے ایک ہی لمحے میں چھین لیتے ہیں عمر بھر جو خواب آنکھوں میں سجا جاتے ہیں جانے والے ہم تو ہر موڑ پہ ٹھہرے رہے منتظر اُن کے راہ کو عمر کی تنہا بنا جاتے ہیں جانے والے اپنی خوشبو بھی ہواؤں میں سمیٹے رکھتے ہیں یاد کی دھول ہمیں دے جاتے ہیں جانے والے مسعودؔ صبر بھی ایک دن جواب دے جاتا ہے یوں جو خاموشی سے دل توڑ جاتے ہیں جانے والے

2025 الوداع اے گزرتے ہوئے سال

تصویر
اے سال تم جاتے جاتے دل پر عجیب سا بوجھ چھوڑ گئے ہو۔ تم نے ہمیں مسکرانا بھی سکھایا اور خاموش رہنا بھی، تم نے ہمیں خواب دکھائے بھی اور ان خوابوں کے ٹوٹنے کا ہنر بھی دیا۔ تم ایک مکمل داستان تھے، جس میں خوشی کے چند روشن صفحے بھی تھے اور غم کے طویل باب بھی۔ تم نے ہمیں بتایا کہ زندگی صرف خواہش کا نام نہیں، بلکہ صبر، برداشت اور قبولیت کا امتحان بھی ہے۔ اس سال کچھ خواب تھے جو خواب ہی رہے۔ ہم نے آنکھوں میں سنہری تصویریں سجائیں، دل میں بڑے بڑے منصوبے بنائے، مگر وقت کی بے رحم حقیقت نے انہیں ادھورا چھوڑ دیا۔ کچھ خواب حالات کے بوجھ تلے دب گئے اور کچھ ہماری اپنی کمزوریوں کی نذر ہو گئے۔ یہ خواب ہمیں طعنہ نہیں دیتے بلکہ یہ یاد دلاتے ہیں کہ خواب دیکھنا بھی ایک ہمت ہے، چاہے وہ پورے نہ ہوں۔ یہاں شاعر محمد مسعود کا ایک شعر جو اسی احساس کو یوں بیان کیا ہے: “کچھ خواب آنکھوں میں رہ کر بھی سو نہ سکے، کچھ خواب تعبیر کی دہلیز تک آ نہ سکے” اس سال کچھ خواہشیں تھیں جو حسرتیں بن گئیں۔ وہ خواہشیں جو دل کے کسی کونے میں خاموشی سے پلتی رہیں، وقت کے ساتھ ایک کسک بن گئیں۔ کبھی ہم نے کسی کی توجہ چاہی، کبھی کسی کے ساتھ کا ...

کھوئے ہوئے لمحے

تصویر
ماضی کے صفحوں پہ لکھی ایک کہانی ہوں میں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی ایک نشانی ہوں میں جو لوٹ نہ پایا کبھی وقت کے دریا سے بکھری ہوئی یادوں کی روانی ہوں میں وہ ہنسی، وہ باتیں، وہ موسم پرانے آنکھوں میں ٹھہری ہوئی حیرانی ہوں میں کچھ درد جو لفظوں میں کبھی ڈھل نہ سکے خاموش دلوں کی وہ زبانی ہوں میں جو کھو گیا برسوں میں، مگر دل سے نہ گیا ماضی کی ہر ایک وہ نشانی ہوں میں یہ غزل “کھوئے ہوئے لمحے” ماضی، یادوں اور وقت کے گزرنے کے احساسات کا پُراثر خلاصہ پیش کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود کو ماضی کے صفحات پر لکھی ایک کہانی قرار دیتا ہے، جو ٹوٹے ہوئے خوابوں اور ادھوری خواہشوں کی علامت ہے۔ وقت کے دریا سے وہ لمحے کبھی واپس نہیں آ سکے، مگر ان کی یادیں آج بھی دل میں بکھری ہوئی روانی کی صورت زندہ ہیں۔ پرانی ہنسی، بے ساختہ باتیں اور گزرے موسم آنکھوں میں ایک خاموش حیرت بن کر ٹھہر گئے ہیں۔ غزل میں ایسے درد کا ذکر ہے جو لفظوں میں ڈھل نہیں سکا اور دلوں کی خاموشی میں چھپا رہا۔ برسوں میں بہت کچھ کھو گیا، مگر وہ سب دل سے محو نہ ہو سکا۔ یوں یہ غزل انسان کے باطن میں محفوظ ماضی کی نشانیاں، یادوں کی شدت اور وقت کی بے ب...

بدل گیا ہے میرے اندر کا موسم

تصویر
بدل گیا ہے میرے اندر کا موسم ​محبتوں میں فقط وہ جدا نہیں ہوتا وہ جائے تو کوئی بھی سلسلہ نہیں ہوتا ​دل کے آسمان پہ بادل ٹھہر گئے ایسے کہ پھر کبھی بھی یہاں سویرا نہیں ہوتا ​وہ اپنے ساتھ لے گیا خوشبو بھی، یاد بھی اب اِس مکان میں کوئی بسا نہیں ہوتا ​بدل گیا ہے میرے اندر کا موسم اس طرح کہ اب یہاں کوئی پھول کھلا نہیں ہوتا ​جی رہے ہیں ہم دکھانے کے لیے زمانے بھر کو مگر وہ پہلا سا اب مسعود حوصلہ نہیں ہوتا ​لبوں پہ ہنسی، آنکھوں میں خاموشی ہے سجی جو دل پہ گزرے وہ چہرے سے بیاں نہیں ہوتا "بدل گیا ہے میرے اندر کا موسم" یہ غزل جدائی کے اس کرب کی عکاسی کرتی ہے جہاں محبوب کا جانا محض ایک جسمانی دوری نہیں، بلکہ ایک مکمل داخلی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ شاعر محمد مسعود بیان کرتا ہے کہ جب محبوب رخصت ہوتا ہے تو وہ تنہا نہیں جاتا، بلکہ اپنے ساتھ وابستہ تمام رعنائیاں، یادیں اور خوشبوئیں بھی لے جاتا ہے، جس سے زندگی کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ جدائی کے بعد انسان کے اندر کا نفسیاتی موسم بدل جاتا ہے۔ دل کے آسمان پر اداسی کے بادل مستقل ڈیرے ڈال لیتے ہیں، جس کے بعد امید کی کوئی کرن (سویرا) نظ...

تیرے سنگ بہار

تصویر
تیرے سنگ بہار تیری پلکوں پہ ٹھہرا ہوا وہ پیار چاہیے مجھ کو جینے کے لیے تیرا اعتبار چاہیے ​سرد موسم ہے اور یادوں کی دھونی جلی ہے بس اِیک تِرا ساتھ، تِیرا قربِ یار چاہیے ​لوگ مانگتے ہوں گے زمانے بھر کی خوشیاں ہمیں تو بس تِیری آنکھوں کا خمار چاہیے ​تیرے ہاتھ کی لکیروں میں میرا نام لکھا ہو ایسی قربت، ایسا دلکش حصار چاہیے ​تو ملے تو بدل جائے یہ اجڑا ہوا موسم مجھے تیرے سنگ ہی موسمِ بہار چاہیے "تیرے سنگ بہار" یہ غزل محبت کے مخلصانہ جذبات اور دسمبر کی اداسی میں محبوب کے ساتھ کی تڑپ کو بیان کرتی ہے۔ شاعر محمد مسعود کے نزدیک زندگی کا اصل حاصل دنیا کی آسائشیں نہیں بلکہ محبوب کی آنکھوں میں جھلکتی سچائی اور اس کا اعتبار ہے۔ غزل کا آغاز ہی ایک گہرے تعلق کی بنیاد پر ہوتا ہے، جہاں جینے کے لیے کسی سہارے کی نہیں بلکہ صرف ایک نگاہِ کرم کی ضرورت ہے۔ دسمبر کی سردی اور تنہائی کے ذکر سے شاعر محمد مسعود نے یہ واضح کیا ہے کہ محبوب کی موجودگی کسی بھی سرد موسم کو موسمِ بہار میں بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔ "یادوں کی دھونی" جلانے کا استعارہ اس تڑپ کو ظاہر کرتا ہے جو جدائی میں محسوس ہوتی...

سکوتِ یاد

تصویر
نہ مجھے یاد تم آؤ، نہ تجھے یاد میں آؤں یہی خواہش ہے کہ اب حد سے ذرا آگے میں جاؤں دلِ ناداں کو سمجھاؤں بھی تو کس طرح آخر ہر طرف تم ہی تم ہو، میں کہاں جا کے چھپاؤں زخمِ ہجراں کو چھپانے کا ہنر سیکھ لیا ہے مسکرا کر بھی کئی درد میں تنہا بہاؤں ہم نے مانا کہ محبت میں انا ہار گئی ہے کیا ضروری ہے کہ میں ٹوٹ کے پھر لوٹ کے آؤں رات تنہائی میں آنسو بھی بغاوت پہ اتر آئے میں جو چاہوں بھی تو اب خود کو نہ خود سے بچاؤں کچھ دعا، کچھ بددعا، کچھ تو اثر ہونا تھا عمر گزری ہے تیری یاد کے سائے میں جاؤں لوگ کہتے ہیں کہ وقت سب کو بھلا دیتا ہے کاش! یہ سچ ہو، تو میں خود کو ذرا سمجھاؤں مسعودؔ اب یہی بہتر ہے، سکوت اپنا شعار نہ مجھے یاد تم آؤ، نہ تجھے یاد میں آؤں شاعر محمد مسعود کی یہ غزل "سکوتِ یاد" ہجر و فراق، خودداری اور داخلی کشمکش کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔ غزل کا مرکزی خیال ماضی کے جذباتی رشتوں سے پیچھا چھڑانے اور خاموشی میں سکون تلاش کرنے کی جدوجہد ہے۔ شاعر  محمد مسعود اپنی خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ اب وہ اس مقام پر پہنچنا چاہتا ہے جہاں نہ اسے محبوب کی یاد ستائے اور نہ وہ محبوب کی یادوں کا...

خاموش محبت کی عبادت

تصویر
دل نے تیری یاد کو عبادت بنا لیا خاموش محبتوں کو روایت بنا لیا آنکھوں نے تیرے خواب سنبھالے ہیں اس طرح جیسے کسی نے درد کو دولت بنا لیا تو پاس تھا تو سانس بھی مہکی ہوئی لگی تو دور کیا ہوا، تو قیامت بنا لیا ہم نے تیری ہنسی کو دعا کی طرح پڑھا لفظوں نے تیرے نام کو آیت بنا لیا اک لمسِ مہرباں نے بدل دی ہے کائنات ہم نے اسی خیال کو جنت بنا لیا کچھ بھی نہ مانگا تیرے سوا کبھی بس ایک تیری چاہت کو قسمت بنا لیا خاموش محبت کی عبادت یہ شاعری محبت کے اس پاکیزہ درجے کو بیان کرتی ہے جہاں محبوب کی یاد محض ایک احساس نہیں بلکہ عبادت کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) نے اپنی خاموش محبت کو ایک ایسی روایت میں ڈھال لیا ہے جو دنیا کے شور سے بے نیاز ہے۔ محبوب کے خوابوں کو آنکھوں میں اس طرح چھپا کر رکھا گیا ہے جیسے کوئی قیمتی خزانہ ہو، یہاں تک کہ محبت میں ملنے والا دکھ بھی شاعر مسعود کے لیے ایک سرمایہ بن گیا ہے۔ محبوب کی موجودگی زندگی میں خوشبو اور سکون کا باعث تھی، جبکہ اس کی دوری ایک قیامت سے کم نہیں۔ شاعر ( محمد مسعود ) نے محبوب کی ہنسی کو دعا اور اس کے نام کو آیت کی طرح مقدس مانا ہے، جو...

تیری خاموش نظر

تصویر
دل نے جب بھی تجھے چاہا ہے عبادت کی طرح نام تیرا ہی لیا ہے ہر محبت کی طرح تیری خاموش نظر نے مجھے بولنا سکھایا میں نے سمجھا ہے تجھے دل کی ضرورت کی طرح رات تنہائی میں جب ٹوٹ کے رویا ہے یہ دل یاد تو آئی ہے آنسو کی امانت کی طرح تو ملا تو یہ لگا مجھے عمر سنورتی جائے زندگی مل گئی ہو جیسے بشارت کی طرح تیرے وعدوں کی حرارت نے جلایا ہے مجھے درد بھی سہہ لیا میں نے ریاضت کی طرح خود کو بھولا ہے مگر تجھ کو بھلایا نہ کبھی مسعودؔ نے چاہا ہے تجھے اپنی شناخت کی طرح تیری خاموش نظر یہ غزل شاعر ( محمد مسعود ) کے گہرے اور پُرخلوص عشق کا اظہار ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) نے اپنے محبوب کو ایک عبادت کے طور پر چاہا ہے، جہاں محبوب کا نام لینا ہی گویا محبت کا ہر روپ ہے۔ محبوب کی خاموش نظر نے ہی شاعر مسعود کو اظہار کا ہنر سکھایا، اور اب شاعر ( محمد مسعود ) اس وجود کو دل کی بنیادی ضرورت سمجھتا ہے۔ تنہائی میں جب دل غمگین ہوا اور آنسو بہے، تب بھی محبوب کی یادیں ایک قیمتی امانت کی طرح ساتھ رہیں۔ محبوب کا ملنا زندگی میں ایک بشارت اور سنوار کی صورت آیا، مگر اس کے وعدوں کی حرارت نے شاعر ( محمد مسعود ) کو درد بھی د...

دنیا میں سستا ترین مہمان

تصویر
دنیا میں سستا ترین مہمان  ماں باپ: وہ مہمان جو اپنا سب کچھ دے کر بھی کچھ نہیں مانگتے دنیا میں ہر رشتے کی کوئی نہ کوئی بنیاد ہوتی ہے، کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے، لیکن ماں باپ کا رشتہ وہ واحد رشتہ ہے جو لین دین کے تمام دنیاوی فلسفوں سے آزاد ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ "دنیا کے سب سے سستے ترین مہمان ماں باپ ہوتے ہیں"، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی قیمت کم ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی قناعت اور بے لوث محبت اتنی عظیم ہے کہ وہ اپنے بچوں کے گھر میں ایک تنکے کا بوجھ بھی بننا پسند نہیں کرتے۔ عام طور پر جب ہمارے گھر کوئی مہمان آتا ہے، تو ہم ہفتوں پہلے تیاری کرتے ہیں۔ بہترین بستر، لذیذ کھانے اور گھر کی سجاوٹ کا خیال رکھا جاتا ہے۔ لیکن جب ماں یا باپ بیٹے یا بیٹی کے گھر قدم رکھتے ہیں، تو وہ کسی پروٹوکول کے طلبگار نہیں ہوتے۔ وہ تو اس کونے میں بھی خوش ہو جاتے ہیں جہاں سب سے کم سہولیات ہوں۔ وہ مہمان ہو کر بھی یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ مہمان ہیں۔ وہ تو الٹا میزبان بن کر گھر کے کاموں میں جٹ جاتے ہیں۔ یہاں میں شاعر محمد مسعود جو برطانیہ شہر نوٹنگھم میں مقیم ہیں ان کی شاعری کی کچھ لائنز شامل کروں گا...

کمالِ محبت

تصویر
تیری قربت میں ہی سانسوں کو قرار آتا ہے میرے دل کو ہر لمحہ تیرے ہونے کا خیال آتا ہے تیری خوشبو سے مہک جاتا ہے ہر خواب میرا رات کے بعد بھی ایک سہنا خواب سا حال آتا ہے میں نے چھوا جو تیرے ہاتھ کو دھیرے سے کبھی ساری دنیا سے الگ تلگ جدا سا ایک کمال آتا ہے تو جو دیکھے تو ٹھہر جائے زمانہ جیسے تیری آنکھوں میں عجب سا یہ جلال آتا ہے میرے ہونٹوں پہ فقط نام تمہارا ہی رہے دل کے آنگن میں یہی ایک سوال آتا ہے کہہ رہا ہے یہ محبت سے دھڑکتا ہوا دل تجھ سے جینا ہی مسعود کو کمال آتا ہے کمالِ محبت ​یہ غزل محبوب کی قربت اور موجودگی کے گہرے اثر کو بیان کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) کہتا ہے کہ محبوب کی قربت میں ہی اس کی سانسوں کو حقیقی سکون ملتا ہے، اور اس کا دل ہر لمحہ صرف اسی کے خیال میں مگن رہتا ہے۔ محبوب کی ہستی ایک ایسی خوشبو کی مانند ہے جو شاعر ( محمد مسعود ) کے ہر خواب کو معطر کر دیتی ہے، اور رات گزرنے کے بعد بھی ایک دلکش، خوابیدہ کیفیت طاری رہتی ہے۔ ​محبوب کے ہاتھ کو چھونے کا عمل دنیا کے تمام احساسات سے جدا اور منفرد کمال کا تجربہ دیتا ہے۔ محبوب کی نگاہوں میں ایک ایسا جلال اور رعب ہے کہ جب وہ...

کمالِ محبت

تصویر
تیری قربت میں ہی سانسوں کو قرار آتا ہے میرے دل کو ہر لمحہ تیرے ہونے کا خیال آتا ہے تیری خوشبو سے مہک جاتا ہے ہر خواب میرا رات کے بعد بھی ایک سہنا خواب سا حال آتا ہے میں نے چھوا جو تیرے ہاتھ کو دھیرے سے کبھی ساری دنیا سے الگ تلگ جدا سا ایک کمال آتا ہے تو جو دیکھے تو ٹھہر جائے زمانہ جیسے تیری آنکھوں میں عجب سا یہ جلال آتا ہے میرے ہونٹوں پہ فقط نام تمہارا ہی رہے دل کے آنگن میں یہی ایک سوال آتا ہے کہہ رہا ہے یہ محبت سے دھڑکتا ہوا دل تجھ سے جینا ہی مسعود کو کمال آتا ہے کمالِ محبت ​یہ غزل محبوب کی قربت اور موجودگی کے گہرے اثر کو بیان کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) کہتا ہے کہ محبوب کی قربت میں ہی اس کی سانسوں کو حقیقی سکون ملتا ہے، اور اس کا دل ہر لمحہ صرف اسی کے خیال میں مگن رہتا ہے۔ محبوب کی ہستی ایک ایسی خوشبو کی مانند ہے جو شاعر ( محمد مسعود ) کے ہر خواب کو معطر کر دیتی ہے، اور رات گزرنے کے بعد بھی ایک دلکش، خوابیدہ کیفیت طاری رہتی ہے۔ ​محبوب کے ہاتھ کو چھونے کا عمل دنیا کے تمام احساسات سے جدا اور منفرد کمال کا تجربہ دیتا ہے۔ محبوب کی نگاہوں میں ایک ایسا جلال اور رعب ہے کہ جب وہ...

بے نام رفاقت

تصویر
بے نام رفاقت ​سفر تو ختم ہوا، مگر یہ سلسلہ کیا ہے؟ جو تو نہیں ہے، تو پھر خواب میں ملا کیا ہے؟ ​ہزار پردوں میں خود کو چھپا کے دیکھ لیا، بتاؤ! میرے علاوہ کوئی دوسرا کیا ہے؟ ​وہ شام آج بھی بیٹھی ہے میرے پہلو میں، جو وقت لے گیا تھا، وہ لمحہ لوٹا کیا ہے؟ ​عجیب رسمِ محبت ہے، نام کی بھی نہیں، یہ بے نام سی رفاقت، یہ آشنا کیا ہے؟ ​درد اپنا کر کے اسے ہم نے جی لیا، مسعود مگر یہ دل کی بات ہے، لفظوں میں اب سنا کیا ہے؟ یہ غزل شاعر ( محمد مسعود ) کی ایک بے نام رفاقت اور ختم ہو جانے والے سفر کے بعد پیدا ہونے والے جذبات کے تضاد کو بیان کرتی ہے۔ یہ غزل دراصل جدائی کے بعد کی تنہائی اور محبت کی غیر رسمی نوعیت کو اجاگر کرتی ہے۔ شاعر مسعود  اعتراف کرتا ہے کہ ظاہری سفر ختم ہو چکا ہے، مگر محبوب کی غیر موجودگی کے باوجود خوابوں میں اس کا ملنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جذباتی تعلق کا سلسلہ اب بھی باقی ہے۔ وہ خود کو دنیا کی نظروں سے چھپانے کی ہزار کوششیں کرتا ہے لیکن اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس کے وجود اور تخیل میں محبوب کے سوا کوئی دوسرا شامل نہیں ہے۔ غزل میں ایک ماضی کی حسین شام کی یاد کو تازہ کیا گیا ...

جو دل میں تھا

تصویر
جو دل میں تھا  جو دل میں تھا وہ لب پر کبھی کہا نہ رہا اسی کا رنج ہے دل کو کہ وہ ملا نہ رہا ہم اس سے کیا گلہ کرتے، قصور اپنا تھا نبھا تو لیتے مگر ہم سے حقِ وفا نہ رہا وہ ایک نام جو ہر سانس میں صدا بن کر بسا رہا، سو زمانے کو یہ گوارا نہ رہا ستم تو اس نے کیے، ہم نے مسکرا کر سہے کسی بھی موڑ پہ شکوہ کوئی کھلا نہ رہا سنا تھا ٹوٹ کے مانگو تو مل ہی جاتی ہے دعا تو کی تھی بہت، پر اثر ہوا نہ رہا مسعودؔ یہ بھی عجب وقت کا تقاضا ہے کہ اپنا درد بھی اب دردِ دل رہا نہ رہا جو دل میں تھا یہ غزل محبت میں ناکامی، بے بسی اور اندرونی کرب کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) کا سب سے بڑا افسوس یہ ہے کہ جو جذبات دل میں تھے وہ کبھی زبان پر نہ آ سکے، جس کا نتیجہ محبوب کی دوری کی صورت میں نکلا۔ شاعر مسعود اعتراف کرتا ہے کہ اس رشتے کی ناکامی میں صرف محبوب کا قصور نہیں، بلکہ اس کی اپنی کمزوری تھی کہ وہ حقِ وفا پوری طرح نبھا نہ سکا۔ ایک نام جسے دل نے ہر سانس میں بسا رکھا تھا، زمانے کو وہ قربت گوارا نہ ہوئی اور بالآخر دوری ہو گئی۔ شاعر ( محمد مسعود ) نے محبوب کے تمام ستم مسکرا کر جھیلے، کبھی شکایت نہ...

دل کے زخموں کی گہرائی

تصویر
وہ گئے ہیں تو موسم بھی اب بے کیف سا لگتا ہے مجھے شام کو۔ تیری دوری کی آفت بڑی سنگین ہے کیسے لکھوں اس کڑے انجام کو۔ عمر بھر کی مسافت میں ایک پل سکون نہ ملا ڈھونڈتا رہا صبح و شام کو۔ دل کے زخموں کی گہرائی کو کون ماپے گا کون دے گا میرے علاج کو۔ شہر خاموش تھا، جُگنو بھی نہیں تھے چاند نے تنہا کیا اس مقام کو۔ اب یہ خواہش ہے کہ دنیا سے کنارہ کر لوں، تھام لوں اپنے نئے کام کو۔ وقت آئے گا جب دل کی دُعا قبول ہوگی پھر بدلیں گے بُرے انجام کو۔ دیکھنے میں مگر کیا برائی ہے جی بھر کے تھامو اس پیغام کو۔ ہاتھ پھیلا کے مانگی تھی میں نے یہ روشنی چھوڑ دو اب پرانے الزام کو۔ بس یہی اک تمنا ہے، میں اور تُو ہوں پھر بھول جائیں اس سارے نظام کو۔ دل کے زخموں کی گہرائی یہ غزل کا بنیادی موضوع ہجر اور جدائی کے شدید دکھ کو بیان کرنا ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اپنی محبوبہ کے جانے کے بعد محسوس ہونے والی بے کیفی اور شام کے اداس موسم کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ محبوب کی دوری ایک سنگین آفت ہے جس کا انجام بہت کڑا ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) نے زندگی کو ایک طویل مسافت قرار دیا ہے جہاں اسے کبھی ایک پل کا بھی سکون میسر نہی...

رب کی محبت

تصویر
یہ دل نہیں یہ تیری یاد کا حرم ہے ہر ایک نفس میں تیرا ذکر دم بہ دم ہے عجیب کیف ہے، یہ تیرے در کی حاضری کہ زندگی بھی تیری بندگی کا غم ہے جہاں سے کٹ کر جو تیری راہ میں آیا وہاں ہی منزلِ مقصود کا قدم ہے بجھا دے پیاس میری دید کی جھلک دے کر یہ روح پیاسی ہے یہ چشم اشک نم ہے خدایا میرے بدن میں ہے روح  ہی تیری یہ میرا ہونا بھی تیرے وجود کا کرم ہے تمام دنیا کی زینت تمام دنیا کا حسن تیری ہی قدرت کا عکس اور تیرا رقم ہے کبھی جو بھولوں میں اپنا مقام یا رب تو پھر پکار مجھے تو ہی محترم ہے مجھے خود پہ فخر ہے مسعود ہونے کا کہ میرا نام تیرے عاشقوں میں ضم ہے یہ نظم مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی محبت اور بندگی کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اس کا دل محض گوشت کا لوتھڑا نہیں بلکہ اللہ کی یاد کا مقدس ٹھکانہ (حرم) ہے، اور ہر سانس میں رب کا ذکر جاری ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) رب کے در پر حاضری کے روحانی سکون (کیف) کو بیان کرتا ہے، جہاں زندگی کی تمام تر مصروفیت دراصل اللہ کی عبادت میں گزر رہی ہے۔ دنیا سے رشتہ توڑ کر اللہ کی راہ پر چلنے والے کے لیے وہی راستہ ہی حقیقی منز...

تم یاد رکھنا

تصویر
جو خواب میں بھی نہ بدلے وہی لحاظ تم یاد رکھنا جبھی بھی ملنا ہو تو وہ دل کی راہ گزار تم یاد رکھنا۔ وہ میری راہ میں جو ایک روشنی سی تھی کبھی بجھا چکا ہوں میں اب وہ تم سوز و ساز تم یاد رکھنا جو ہجر میں بھی میری آنکھ کبھی نم نہیں ہونے دے وہ میرے عشق کا ہے سب سے بڑا مجاز تم یاد رکھنا زمانے بھر سے جو میں نے چھپا لیا تھا کبھی خود کو میرے کلام کا وہ سارا امتیاز صبح شام تم یاد رکھنا۔ ہوائے شام ملے جو مسعود تم کو تو بس اتنا کہہ دینا  تیری خاموشی میں تھا جو راز وہی آواز تم یاد رکھنا۔ یہ نظم ثابت قدمی، جذباتی گہرائی اور یادوں کے دوام کو بیان کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اپنے مخاطب سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ رشتوں میں اس اخلاص (لحاظ) کو ہمیشہ یاد رکھے جو خواب میں بھی تبدیل نہ ہو۔ ملاقات کے لیے ضروری "دل کی راہ گزار" کی اہمیت کو بھی برقرار رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ شاعر (محمد مسعود ) اعتراف کرتا ہے کہ اس کی زندگی میں جو "روشنی سی تھی" یا امید کی شمع جل رہی تھی، اسے اب وہ خود بجھا چکا ہے، لہٰذا مخاطب کو اس "سوز و ساز" (تڑپ اور آہنگ) کو یاد رکھنا چاہیے۔ نظم عشق ک...

کرب نہاں

تصویر
یہ مجھ کو کیوں ہے اس دنیا پہ اتنا یقیں  جو میرا حال ہے سب کو، وہ معلوم نہیں  ہمیں تو خود بھی معلوم ہے، ہم تھے ہی کہیں وہ منزل تھی، وہ رستہ تھا، وہ ساری زمیں  وہ مجھ سے کہہ رہا تھا، مجھ کو جانا ہے وہیں  یہ خوابوں کی ہے دنیا یا حقیقت ہے کہیں،  جو مسعود نے یہ سوچا ہے، یہ تو سچ ہے  کہ ایسا کوئی بھی چہرہ جہاں میں نہیں تمہیں کیا علم ہے، یہ زندگی کیسی ہے میری  جو زخم ہے ظاہری تو ہے مخفی بھی کہیں اگرچہ ہجر میں ہے گزری یہ ساری عمر  مگر اس رنج و غم کی کوئی حد نہیں،  کربِ نہاں یہ غزل شاعر ( محمد مسعود ) کی حیرت، تذبذب، اور اندرونی کرب کو بیان کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) دنیا کی صداقت پر اپنے پختہ یقین پر حیران ہے، جبکہ اس کے اندرونی غم اور حالتِ زار سے دنیا بے خبر ہے۔ یہ کیفیت ایک داخلی کشمکش کو ظاہر کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) ایک ماضی کی منزل، راستے، اور زمین کا ذکر کرتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی کھوئی ہوئی حقیقت یا یاد کو تسلیم کرتا ہے جو اب اس کے پاس نہیں ہے۔ یہ اشارے کسی گمشدہ منزل یا آرزو کی طرف ہیں۔ غزل میں ایک محبوب یا کسی د...

تیرا جمال رہا

تصویر
خزاں کا موسم گیا، بس تیرا جمال رہا میرے خیال میں اب تک وہی جمال رہا میں جانتا ہوں کہ دنیا قریب ہے میرے مگر نظر میں ہمیشہ تیرا جمال رہا یہ دل بھی کیا ہے، اسے ایک بار دیکھ لیا تو پھر تمام ہی لمحے تیرا جمال رہا سفر طویل تھا، منزل کو پا لیا ہے مگر میں خود بدل گیا اور یہ جمال رہا تجھے پکار کے دیکھے گا جب مسعود تو  یہ یہی کہے گا، زمانے پہ تیرا  جمال رہا ترا جمال رہا یہ غزل دراصل محبوب کے لافانی حسن کی تعریف اور اس کے دائمی اثر کو بیان کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) کہتا ہے کہ اگرچہ زندگی میں خزاں مایوسی یا مشکل وقت آتی ہے اور چلی جاتی ہے، لیکن محبوب کا حسن جمال اس کے خیال میں ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ دنیاوی کششیں اور مصروفیات اپنی جگہ ہیں، مگر شاعر کی نگاہیں صرف محبوب کے جمال پر ہی مرکوز رہتی ہیں۔ ایک بار اس حسن کو دیکھ لینے کے بعد، دل پر اس کا ایسا گہرا اثر ہوتا ہے کہ ہر گزرتا لمحہ اسی کی یاد میں بسر ہوتا ہے۔ غزل کا اختتام اس خیال پر ہوتا ہے کہ اگرچہ شاعر ( محمد مسعود ) نے زندگی کے طویل سفر میں خود کو بدل ڈالا اور منزل کو بھی پا لیا، لیکن محبوب کا حسن ہمیشہ ایک مستقل حقیقت کے طور پر باقی ...

یک طرفہ محبت

تصویر
​کہو یہ دل سے کہ اب عشق کا گماں نہ کرے جو راہ اس کی نہیں ہے، اُدھر کو رَواں نہ کرے ​یہ وصل و ہجر کی قصّے کتاب میں ہی سہی اس ایک شخص کو اب زندگی بیاں نہ کرے ​جہاں قبول کی صورت نہ ہو نصیبوں میں وہاں یہ درد بھلا کب تلک فغاں نہ کرے؟ ​یہ ایک طرفہ سفر ہے، جو تمام ہونا نہیں، تو اے دلِ ناداں! کسی کی یہاں پَرواہ نہ کرے! ​اٹھو مسعود کہ یہ دنیا بہت ہزار رنگیں ہے یہ روشنی ہے فقط اس کو اپنی جاں نہ کرے یک طرفہ محبت یہ غزل یک طرفہ محبت کے درد کو پہچان کر دل کو سمجھانے اور خود کو سنبھالنے کا پیغام دیتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اپنے دل کو مخاطب کر کے کہہ رہا ہے کہ اسے چاہیے کہ وہ ایسے عشق کے وہم میں نہ پڑے جس کی کوئی حقیقت نہیں، اور ایسی راہ پر چلنا چھوڑ دے جو اس کی منزل نہیں۔ غزل میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ محبوب سے ملاقات وصل یا جدائی ہجر کی باتیں صرف کتابوں میں ہی اچھی لگتی ہیں، اور اب اس ایک شخص کو اپنی پوری زندگی کا محور بنانا چھوڑ دینا چاہیے۔ جہاں تقدیر میں محبت کا قبول ہونا لکھا ہی نہ ہو، وہاں یہ درد کب تک آہ و فریاد فغاں کرتا رہے گا؟ شاعر دلِ ناداں کو نصیحت کرتا ہے کہ چونکہ یہ محبت ایک یک طرف...

خوابوں کی تعبیر

  وہ خواب جو کسی کونے میں دل نے پال رکھا تھا، حقیقت بن کے آئے گا، ہمارا یہ عہد آج سچا ہے۔ صرف آنکھوں میں سجانا ہی نہیں کافی ہے خوابوں کو، انہیں تعمیر کرنے کا بھی ہمارا اب ایک عزم پکّا ہے۔ جو مشکل راہ میں آئی، اسے ہم پار کر لیں گے، ہمارے ہاتھ میں اب تو یقین کا ایک  پکا تِکا ہے۔ نہ گھبراؤ کسی ناکامی سے، یہ زندگی کا کھیل ہے، ہر ایک ٹھوکر سے ہی منزل کا رستہ صاف لِکھا ہے۔ کرو محنت، نہ ہارو حوصلہ اب دوست میرے مسعود، کہ اب تعبیر کا موسم ہے،  دیکھو ستارہ چمک اٹھا ہے۔ خوابوں کی تعبیر یہ غزل خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے پختہ عزم، جدوجہد اور امید کا درس دیتی ہے۔ شاعر  ( محمد مسعود ) کہتا ہے کہ وہ خواب جو دل میں پال رکھے تھے، انہیں اب سچائی میں بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ محض آنکھوں میں خوبصورت منظر سجانے کا وقت نہیں ہے، بلکہ ان خوابوں کی عملی تعمیر کے لیے عزم کو مضبوط کرنے کا وقت ہے۔ غزل کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ راستے میں آنے والی تمام مشکلات اور ناکامیوں سے گھبرانا نہیں چاہیے، کیونکہ یہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ ہر ٹھوکر اور ناکامی دراصل ہمیں ہماری منزل کے قریب لاتی ہے اور راستہ ص...

زندگی کے نام

تصویر
یہ میرا پیار ہے یا کوئی عجب سحر ہے، لکھ رہا ہوں ہر اک پل زندگی کے نام۔ تو نے بخشا ہے جو یہ روشنی کا سفر ہے، میرا ہر سانس ہے اب زندگی کے نام۔ ہجر کی رات ہو یا وصل کا پہر ہے، تیرا ہی ذکر ہے ہر دم زندگی کے نام۔ اب نہیں کوئی خوفِ زوال دل میں میرے، تیری قربت ہے فقط زندگی کے نام۔ تیری تصویر کو رکھّوں گا سنبھال کر میں، میری ہر ایک یاد ہے زندگی کے نام۔ کیا کہوں اب اس سے بڑھ کر کیا قمر ہے،  میری ہر سوچ، میری لوح ہے زندگی کے نام۔ 

خواب اور خاک

تصویر
یہ کیسا رَبط ہے، ہر شے سے اب ہوئے ہیں جُدا کیا خوشی کی کوئی کرن ہم کو دے گی اب تو صَدا کیا جو داغ دل کو ملے ہیں، وہ زخم گہرے ہیں ہر اِیک نِشاں پہ کریں، کِس طرح سے ہم یہ خَطا کیا مسعود، اپنے ہی ہاتھوں سے کھو دیا سب کچھ یہی نصیب کی لکھی ہوئی تھی ہم پر بَلا کیا اُداس شامیں ہیں سُنسان ہے یہ دُنیا بھی بدل گیا ہے ہمارا عجیب سارا سَماں کیا سَمیٹ رکھے تھے جتنے بھی خواب، سب ہی تو سپردِ خاک کر دیے، بس اِسی میں اپنی فَنا کیا خواب اور خاک یہ غزل گہرے دکھ اور مایوسی کے احساسات کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اعتراف کرتا ہے کہ وہ اب ہر خوشی، ہر شے سے جُدا ہو چکا ہے اور دل پر لگے زخم اتنے گہرے ہیں کہ ان کی تلافی ممکن نہیں۔ شعر میں شاعر اپنے نام مسعود کو پکارتا ہے، جہاں وہ خود ہی کو تمام محرومیوں کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے، گویا اس کی تقدیر میں یہی بَلا لکھی تھی۔ گرد و پیش کا سَماں بھی اب اداس، سُنسان اور بدل چکا ہے۔ غزل کا اختتام اس حقیقی درد پر ہوتا ہے کہ جن خوابوں کو سینچا تھا، انھیں اپنے ہی ہاتھوں سے خاک میں ملا دیا گیا، اور یہی عمل اس کی اپنی اندرونی فَنا اور تکمیل بن گیا۔ یہ خلاصہ ش...

​ہر سمت چراغاں

تصویر
​ہر سمت چراغاں  کیا خوب ہے وہ لمحہ جو تیری یاد سے آئے  اس دل کو قرار آئے، جب تیری بات سے آئے   یہ چاند، یہ ستارے، یہ منظر، یہ روشنی سب  لگتا ہے مجھے جیسے تیری ذات سے آئے   وہ عشق کی کہانی جو مکمل نہ ہو پائی  شاید کہ خوشی اس میں کسی گھات سے آئے   میں ہجر کی شب میں بھی اسے یاد ہی رکھوں گا وہ خواب جو آنکھوں کو تیری ذات سے آئے   اے دل کے مکین! نام ترا ہے یہی مسعود کیا فرق کہ وہ مجھ تک کسی بات سے آئے ہر سمت چراغاں ہے مرے شہرِ تمنا میں روشن ہے دل ایسا کہ ترے ہاتھ سے آئے یہ غزل مکمل طور پر عشق اور آرزو کے جذبات پر مبنی ہے۔ شاعر ( محمد مسعود ) اپنے محبوب کی یادوں اور باتوں کو دل کے سکون اور قرار کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ دنیا کی تمام خوبصورت چیزیں چاند، ستارے، روشنی سب محبوب کی ہستی اور وجود (ذات) سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔ غزل میں ایک ادھوری محبت کا ذکر بھی ہے، جہاں شاعر ( محمد مسعود ) کو یقین ہے کہ اس نامکمل کہانی میں بھی کہیں نہ کہیں خوشی چھپی ہوئی ہے۔ جدائی (ہجر) کی تاریک راتوں میں بھی، محبوب کے خوبصورت خواب ہی دل کو روشنی بخشت...

​یہ پیار کی کہانی، جو لکھی گئی ہے مجھ سے۔

تصویر
دوسروں کے چراغ روشن کرنے سے آپ کا راستہ کیسے منور ہوتا ہے؟ یہ قدرت کا کیسا انمول اور عجیب و غریب سودا ہے کہ جب ہم دوسروں کے چراغوں میں تیل ڈالتے ہیں، تو درحقیقت ہم اپنے راستے کو مزید روشن کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ محض کوئی جذباتی جملہ نہیں، بلکہ زندگی کا ایک گہرا فلسفہ ہے جس کا مشاہدہ آپ اپنے گرد و پیش ہر لمحہ کر سکتے ہیں۔ دوسروں کا چراغ روشن کرنے کا مطلب صرف مالی مدد کرنا نہیں ہے۔ یہ اس سے کہیں زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے:  کسی گمراہ کو صحیح راستہ دکھانا، یا کسی نو آموز کو اپنا ہنر سکھانا۔  کسی مایوس شخص کے دل میں نئی امنگ جگانا اور اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ دینا۔ کسی ضرورت مند کو اپنا قیمتی وقت دینا اور اس کی بات توجہ سے سننا۔  کسی کی کامیابی کے لیے دل سے دعا کرنا اور اس کے لیے نیک تمنائیں رکھنا۔ جب آپ کسی دوسرے کی مدد کرتے ہیں، تو آپ کا اپنا چراغ کئی طریقوں سے منور ہو جاتا ہے: جب آپ کسی کی مدد کرتے ہیں، تو آپ کو فوری طور پر ایک روحانی سکون اور اطمینان ملتا ہے۔ سائنس بھی یہ ثابت کرتی ہے کہ دوسروں کے لیے اچھا کرنے سے دماغ میں 'خوشی کے ہارمونز' (Endorphins) خارج ہوتے ہیں۔ یہ مثبت تو...

دل زخم

یہ دل کا زخم جو دنیا سے اب چھپا نہ سکے، محمد مسعود اسے عمر بھر بھلا نہ سکے! یہ رازِ عشق جو دل میں ہے، لب پہ لانا ہے، نصیب میں ہو نہ ہو، فرض یہ نبھانا ہے!

میں اور میرا بیٹا

تصویر
اس تصویر میں ایک باپ اور بیٹے کا رشتہ نظر آتا ہے، جو وقت کے ساتھ مزید گہرا اور مضبوط ہوا ہے۔ باپ، جو آج بوڑھا ہو چلا ہے، لیکن جس کے دل میں بیٹے کے لیے محبت کا سمندر آج بھی موجیں مار رہا ہے۔ اور بیٹا، جو اب جوان ہو کر زندگی کے نئے راستوں پر چل پڑا ہے۔ وقت کا بدلتا رنگ اور محبت کا لازوال احساس یاد ہے وہ دن، جب یہ جوان بیٹا باپ کی انگلی تھام کر چلا کرتا تھا۔ باپ کا ہاتھ دنیا کی ہر سختی سے بچانے والا ایک مضبوط قلعہ تھا۔ آج، باپ کے چہرے پر پڑی جھریوں میں وہ تمام قربانیاں اور پیار صاف جھلکتا ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کی پرورش میں صرف کی ہیں۔ باپ نے بیٹے کو جوان ہوتے دیکھا، اس کے خوابوں کو پنکھ لگاتے دیکھا۔ اس کی جوانی میں باپ کی اپنی جوانی کا عکس جھلکتا ہے۔ باپ کا دل آج بھی پہلے سے زیادہ پیار سے لبریز ہے، لیکن اب اس پیار کے ساتھ ایک گہرا درد اور فکر بھی شامل ہو گئی ہے۔ اب بیٹے کا سہارا اور پوتے پوتیوں کی دلگیر فکر بوڑھے باپ کی نگاہیں اب صرف بیٹے کی خوشیوں تک محدود نہیں ہیں۔ ان آنکھوں میں اب آنے والی نسل، یعنی اپنے پوتے پوتیوں کی فکر بھی سمائی ہوئی ہے۔ باپ کا دل یہ سوچ کر بے چین ہو جاتا ہے کہ ...

محمد مسعود شاعر

تصویر
✒️ محمد مسعود: شعر و سخن کا مسافر محمد مسعود ایک منفرد شخصیت کے حامل ادیب اور شاعر ہیں، جن کی زندگی پاکستان اور برطانیہ کے خوبصورت شہروں کے درمیان ایک ادبی سفر کی عکاس ہے۔ 🌏 ابتدائی زندگی اور ثقافتی جڑیں آپ کی پیدائش میرپور، آزاد کشمیر میں ہوئی، یہ وہ مٹی ہے جہاں آپ کی ثقافتی جڑیں پیوست ہیں۔ اگرچہ آپ بچپن میں دو سال کی عمر میں فیصل آباد منتقل ہوئے، جہاں آپ نے زندگی کے کئی سال گزارے اور جہاں سے آپ نے لکھنے کی ابتدائی تحریک حاصل کی، مگر 1980 میں آپ نے میرپور، آزاد کشمیر واپس آ کر اپنی آبائی مٹی سے تعلق کو مزید مضبوط کیا۔ 📝 تخلیقی سفر کا آغاز محمد مسعود نے محض 1975 کی کم عمری سے ہی قلم کو اپنا ہم سفر بنا لیا تھا۔ ان کا تخلیقی سفر متنوع ہے، جس میں شامل ہیں:  * شاعری: اپنے جذبات اور مشاہدات کو الفاظ کا روپ دینا۔  * مضامین (آرٹیکل): مختلف سماجی اور ادبی موضوعات پر اپنی گہری سوچ کا اظہار۔  * دکھ بھری کہانیاں: زندگی کے تلخ اور حقیقی پہلوؤں کو مؤثر انداز میں بیان کرنا۔ 🇵🇰 ادبی خدمات اور اشاعت پاکستان کی ادبی دنیا آپ کے فن سے بخوبی واقف ہے۔ آپ کی لکھی ہوئی کہانیاں، شعر اور شاعر...

Mohammed Masood۔ محمد مسعود نوٹنگھم یو کے

تصویر
 محمد مسعود: قلم، کرب اور ہجرت کی داستان کا مصور محمد مسعود ایک حساس شاعر، کہانی نویس اور مفکر ہیں جن کی زندگی کا کینوس میرپور، فیصل آباد اور برطانیہ کے تاریخی شہر نوٹنگھم کے رنگوں سے بھرا ہوا ہے۔ آپ کا قلم ان جغرافیائی اور جذباتی سفروں کا عکاس ہے جو قاری کو گہرائی سے متاثر کرتے ہیں۔ آبائی اور تخلیقی جڑیں محمد مسعود کی پیدائش میرپور، آزاد کشمیر کے معروف گاؤں رٹھوعہ محمد علی میں ہوئی۔ یہ گاؤں ہی آپ کی ابتدائی شناخت اور ثقافتی بنیاد ہے۔  * آپ نے اپنے بچپن کے اہم سال فیصل آباد میں گزارے، جس نے آپ کے مشاہدے اور سوچ کو نئی وسعت دی۔  1980 میں آپ نے دوبارہ میرپور، آزاد کشمیر واپسی اختیار کی، جہاں آپ کی جڑیں دوبارہ مضبوط ہوئیں، اور 1990 میں شادی کے بعد آپ برطانیہ کے خوبصورت شہر نوٹنگھم میں مستقل مقیم ہو گئے۔ ادبی مقام: دکھ کے ترجمان آپ نے محض 1975 میں ہی لکھنا شروع کر دیا تھا اور تب سے آپ کا قلم مسلسل متحرک ہے۔ محمد مسعود کو اردو ادب میں ان کی 'دکھ بھری کہانیاں' اور جذباتی شاعری کے لیے ایک خاص پہچان حاصل ہے۔  فن کی نوعیت: آپ کی تحریریں، خواہ وہ شعر، شاعری، یا آرٹیکل ہوں، زند...

محمد مسعود نوٹنگھم یو کے

تصویر
محمد مسعود: نوٹنگھم سے قلم کا رابطہ محمد مسعود ایک عہد ساز ادیب، شاعر اور کہانی نویس ہیں، جن کی زندگی کی کہانی تین اہم جغرافیوں— میرپور، فیصل آباد، اور نوٹنگھم—کے تجربات کا نچوڑ ہے۔ آپ کا ادبی سفر دراصل انسانی جذبات اور مشاہدات کا ایک خوبصورت ترجمہ ہے۔ قلم سے ایک طویل رفاقت آپ نے 1975 میں کم عمری میں ہی قلم سے رفاقت اختیار کر لی تھی۔ آپ کا ادبی میدان وسیع ہے، جس میں شامل ہیں:  دکھ بھری کہانیاں: محمد مسعود کی کہانیاں وہ آئینۂ ہیں جن میں برصغیر کی سچی جذباتی زندگی، جدوجہد اور رشتوں کے اتار چڑھاؤ کی عکاسی ہوتی ہے۔ آپ کے فن کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپ اپنے کرداروں کے اندرونی کرب اور غموں کو اتنی سچائی سے بیان کرتے ہیں کہ قاری خود کو اس کہانی کا حصہ محسوس کرتا ہے۔  شعر و شاعری و مضامین: آپ کی شاعری میں روایت کا احترام اور جدید حساسیت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ آپ کے فن نے پاکستان کے کئی معروف میگزینز میں اشاعت کے ذریعے ایک وسیع اور قدردان حلقہ بنا لیا ہے۔ نقطۂ آغاز: وہ جذباتی بنیاد محمد مسعود کی شاعری میں گہرا اداس رنگ اور رشتوں کی نزاکت نمایاں ہے۔ ان کی فکر کی گہرائی کا اندازہ ا...

Who is Muhammad Masood?

تصویر
محمد مسعود: نوٹنگھم سے قلم کا رابطہ محمد مسعود ایک عہد ساز ادیب، شاعر اور کہانی نویس ہیں، جن کی زندگی کی کہانی تین اہم جغرافیوں— میرپور، فیصل آباد، اور نوٹنگھم—کے تجربات کا نچوڑ ہے۔ آپ کا ادبی سفر دراصل انسانی جذبات اور مشاہدات کا ایک خوبصورت ترجمہ ہے۔ قلم سے ایک طویل رفاقت آپ نے 1975 میں کم عمری میں ہی قلم سے رفاقت اختیار کر لی تھی۔ آپ کا ادبی میدان وسیع ہے، جس میں شامل ہیں:  دکھ بھری کہانیاں: محمد مسعود کی کہانیاں وہ آئینۂ ہیں جن میں برصغیر کی سچی جذباتی زندگی، جدوجہد اور رشتوں کے اتار چڑھاؤ کی عکاسی ہوتی ہے۔ آپ کے فن کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپ اپنے کرداروں کے اندرونی کرب اور غموں کو اتنی سچائی سے بیان کرتے ہیں کہ قاری خود کو اس کہانی کا حصہ محسوس کرتا ہے۔  شعر و شاعری و مضامین: آپ کی شاعری میں روایت کا احترام اور جدید حساسیت کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ آپ کے فن نے پاکستان کے کئی معروف میگزینز میں اشاعت کے ذریعے ایک وسیع اور قدردان حلقہ بنا لیا ہے۔ نقطۂ آغاز: وہ جذباتی بنیاد محمد مسعود کی شاعری میں گہرا اداس رنگ اور رشتوں کی نزاکت نمایاں ہے۔ ان کی فکر کی گہرائی کا اندازہ ا...

دولت کی گردش

تصویر
ایک قصبے کے ہوٹل میں ایک سیاح داخل ہوا اور مالک سے اسکے ہوٹل کا بہترین کمرہ دکھانے کو کہا مالک نے اسے بہترین کمرے کی چابی دی اور کمرہ دیکھنے کی اجازت بھی دے دی سیاح نے کاونٹر پر ایک سو پونڈز بطور ایڈوانس رکھا اور کمرہ دیکھنے چلا گیا اس وقت قصبے کا قصاب ہوٹل کے مالک سے گوشت کی رقم لینے آ گیا ہوٹل کے مالک نے وہی سو پونڈز اٹھا کر قصاب کو دے دیے کیونکہ ہوٹل کے مالک کو امید تھی کہ سیاح کو ہوٹل کا کمرہ ضرور پسند آجائے گا قصائی نے سو پونڈز لے کر فوراً یہ رقم اپنے جانور سپلائی کرنے والے کو دے دی  جانور سپلائی والا ایک ڈاکٹر کا مقروض تھا جس سے وہ اپنا علاج کروا رہا تھا تو اس نے وہ سو پونڈز ڈاکٹر کو دے دیے وہ ڈاکٹر کافی دنوں سے اسی ہوٹل کے ایک کمرے میں مقیم تھا اس لیے اُس نے یہی پونڈز ہوٹل کے مالک کو ادا کر دیے وہ سو پونڈز ویسے ہی کاؤنٹر پر ہی پڑا تھے کہ کمرہ پسند کرنے کے لئے سیڑھیاں چڑھ کر گیا ہوا متوقع گاہک واپس آ گیا اور ہوٹل کے مالک کو بتاتا ہے کہ مجھے کمرہ پسند نہیں آیا یہ کہہ کر اس نے اپنا سو پونڈز واپس اٹھائے اور چلا گیا اکنامک کی اس کہانی میں نہ کسی نے کچھ کمایا اور نہ کسی نے کچھ خرچ...

یاد رکھے گا وہ دل، کس نے اُجالا چھینا

یاد رکھے گا وہ دل، کس نے اُجالا چھینا کون آیا تھا یہاں، کس نے یہ بالا چھینا ​ہم تو خوش تھے کہ ہمیں دھوپ میسر تھی بہت آسماں سے یہ ہمارا ہی تو سایا چھینا ​اِک ملاقات کی خواہش میں کٹے راتوں کے دن یہ بھی قسمت ہے کہ ہم سے وہی لمحہ چھینا ​جس کو دیکھا بھی نہیں، جس کو پکارا بھی نہیں اُس کی خوشبو نے ہی کیوں رُوح کا دھوکا چھینا ​شہر والوں کو خبر بھی نہ ہوئی، رات گئی میری آنکھوں سے ستاروں نے اُجالا چھینا ​اب تو رونا بھی اُسی شخص کو راس آتا ہے جس کے ہاتھوں سے مسعود یہ دنیا چھینا

آنکھیں نم ہیں، دل ہے مغموم

​یاد آئے گا وہ چہرہ، وہ محبت کی ادا کیسے ہو جائے کوئی شخص یوں پل میں جدا ​ شہر خاموش، گلی سنسان، ہر شے ہے اداس چھوڑ کر چل دیا وہ، کیا نہ پوری کوئی آس ​ مسعود، اس غم کو مٹانا نہیں آسان ہوا کیا خبر کس کے لیے کتنا پریشان ہوا ​ ہزاروں لوگ تھے شامل، تری تدفین میں جیسے سورج چھُپ گیا ہو گہری زمین میں ​ مسجدوں میں بھی ہے اب ذکر اُسی مہمان کا دیکھنا تھا آخری بار اُس نفیس انسان کا ​ روح کو راحت ملے، آنکھوں سے بارش نہ رُکے درد کے عالم سے شاید یہ زمانہ نہ جھُکے ​ وہ جو اپنا تھا، سو اب یاد ہی بن کر رہا دل کے ہر گوشے میں اُس کا ہی فسوں چل پڑا

یہ سنگدلی آخر کیوں؟؟

( محمد مسعود نوٹنگھم یو کے )آج کے دور میں اچھی اولاد بھی ملنا ایک لاٹری کی طرح ہے ٹی وی چینل کا اینکر ایدھی اولڈ ہاؤس میں رہائش پزیر لوگوں کا انٹرویو کر رہا تھا، ایک ستر سال کے بزرگ سے جب پوچھا کہ آپ یہاں کب سے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ میں دس سال سے رہ رہا ہوں، پھر اینکر نے پوچھا آپکو یہاں کون چھوڑ گیا تھا تو انہوں نے کہا کہ چھوٹا بھائی چھوڑ گیا تھا کیونکہ جس گھر کے پورشن میں رہتا تھا وہ حصہ اس نے کرایہ پہ دے دیا اور میرے رہنے کی اور کوئی جگہ نہ تھی اسلئے وہ مجھے یہاں چھوڑ گیا، اگلا سوال اینکر نے پوچھا کہ بابا جی آپ کے بھائی کیا کام کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اپنی فیملی سمیت انگلینڈ میں رہتا ہے اور یہاں اسکی بہت بڑی کوٹھی ہے، اگلے سوال کا جواب سن کر اینکر کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئےجب اس نے پوچھا بابا جی آپ کے بچے ہیں تو انہوں نے کہا جی ہاں تین بیٹے ہیں اور تینوں انگلینڈ میں ہی مقیم ہیں، اور ایک بیٹی ہے وہ شادی شدہ ہے۔ اینکر نے پوچھا بابا جی تو بیٹے ملنے آتے ہیں تو بابا جی نے اپنے آنسوں پہ قابو پاتے ہوئے نفی میں جواب دیا۔ ہم نماز نہایت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھتے ہیں لیکن اگر بوڑھے و...

سالوں کے دکھ

سالوں کے دکھ لمحوں میں ختم نہیں ہوتے بعض دفعہ (معافی)  مانگنے والا تو معافی  مانگ کر اپنی تکلیف کم کرنے کی کوشش کرتا ہے یا اپنا اگلا راستہ آسان کرتا ہے مگر دوسری طرف معافی  دینے والا کبھی کبھی ایسے مقام پہ ہوتا ہے کہ وہ مجرم کو تو معاف کر دیتا ہے مگر اس تکلیف کو نہیں بھول پاتا جو سزا اس نے برسوں کاٹی ہوئی ہوتی ہے اتنا صبر اور اتنا ظرف کہاں سے لایا جائے۔ دعاؤں کا طلبگار 

بچھڑ گیا بس ساتھی دے کر پل دو پل کا ساتھ

بچھڑ گیا بس ساتھی دے کر پل دو پل کا ساتھ (تحریر محمد مسعود نوٹنگھم یو کے) یہ جو عورت ذات ہوتی ہے نا یہ محبت نہیں جنگ کرتی ہے جیسے جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے نا کہ کسی طرح بس جیت ہو ۔ اسی طرح عورت ذات جس سے ایک دفعہ وفا کرتی ہے وہ چاہے جس کی بھی ہو جائے لیکن اس کا دل اپنی چاہت کے لیئے دھڑکتا ہے ۔ وہ ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ کسی طرح اس کی چاہت اس کو تسلیم کر لے اسکو اپنا جیون ساتھی بنا لے ۔ لیکن مرد کبھی سمجھ نہیں سکتا اس کے جذبات کو ۔ وہ صرف موقع دیکھتا ہے ۔جب تک  پہلے پہل تو جان چھڑکتا ہے ، اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے اور اس کی ہر بات مانتا ہے ۔ جب وہ کامیاب ہوجاتا ہے اس کے دل میں جگہ بنانے کے میں ۔ پھر وہ اس کو ذات کا قیدی بنا دیتا ہے جس کی سوچ بس اس تک ہی محدود ہوتی ہے ۔ لیکن خود کسی اور کی تلاش میں نکل پڑتا ہے ۔ لیکن یہ بھول جاتا ہے کہ عورت ذات تو سب ایک جیسی ہیں بس شکل تبدیل ہیں ۔ شاید غلطی عورت کی ہی ہوتی ہے جو کسی کی باتوں کا یقین کر لیتی ہے جبکہ اس کو پتا بھی ہوتا ہے کہ آگے والا فریب دے گا لیکن بس یہ سوچ کر اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو جھٹک دیتی ہے شاید کہ میرا محبوب س...

جو تیری یاد کا لمحہ، وہ میری ذات کا سارا،

جو تیری یاد کا لمحہ، وہ میری ذات کا سارا، ہر ایک نقش میں تُو ہے، تیرا ہی رنگ ہے پیارا۔ ​نہ پوچھو کیوں یہ دل ہر پل اسی کی سمت جھکتا ہے، کہے ہے رُوح کا رشتہ، یہی تو ہے مرا سہارا۔ ​کسی نے غم دیا مجھ کو، کسی نے درد بھی بخشا، مگر وہ زخم ہے انمول جو اس نے دل پہ اُتارا۔ ​وہ لمحے کیسے بھولوں میں، وہ آنکھیں وہ مُسکراہٹ، یہی ہے میرا سرمایہ، یہی ہے میرا ستارا۔ ​ابھی تو دُور کی منزل، ابھی تو راستے مشکل، مگر یقین ہے کہ دِکھ جائے گا کوئی کنارہ۔

درد بھری شاعری

تصویر
تین بج کر 12 منٹ مورخہ 16 نومبر 2025 بروز اتوار کے دو  تازہ ترین شیر مسعود! اب یہ غم بھی ہمارا ہے، کہ تُو نہیں ہے اک دشتِ بے کراں ہے، کوئی سَمتِ آرزُو نہیں ہے ​جدائی کا عالم اور ​اُس کی یادیں ہیں یا کوئی قیامت، مسعود! جو دل میں ڈوبتی ہیں مگر سانس لینے کو راستہ نہیں دیتیں دعاؤں کا طلبگار